پست قد کے حامل افراد میں دل کی بیماریوں کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے تحقیق
قد میں ہر ڈھائی انچ کے اضافے سے دل کی بیماریوں کا امکان 13.5 کم ہو جاتا ہے، تحقیق
تحقیق سے بیماری کے نئے علاج وضع کرنے میں مدد ملے گی جو مستقبل میں کافی مدد گار ثابت ہو گا، پروفیسرسرنیل سامانی فوٹو: فائل
KARACHI:
حالیہ تحقیق کے مطابق وہ افراد جن کے قد چھوٹے ہوتے ہیں ان میں لمبے قد والے افراد کے مقابلے میں دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیسٹر میں ہونے والی تحقیق کے مطابق چھوٹے قد والے افراد میں دل کی بیماریوں کے خدشات زیادہ ہوتے ہیِں، تحقیق کے دوران 2 لاکھ افراد کے قد اور دل کی صحت کو کنٹرول کرنے والے ڈی این اے کے مخصوص حصے سے پتہ لگایا گیا کہ قد میں ہر ڈھائی انچ کے اضافے سے دل کی بیماریوں کا امکان 13.5 کم ہو جاتا ہے۔
تحقیقی ٹیم کے رکن پروفیسر سرنیل سامانی کا کہنا ہے کہ تحقیق سے دل کی بیماریوں کے نئے علاج وضع کرنے میں مدد ملے گی جو مستقبل میں کافی مدد گار ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے قد سے قطع نظر ہر کسی کو صحت مندانہ غذا، باقاعدہ ورزش اور سگریٹ نوشی نہ کرنے جیسی عادات اپنانی چاہئیں تاکہ دل کی بیماریوں کا امکان کم ہو۔
حالیہ تحقیق کے مطابق وہ افراد جن کے قد چھوٹے ہوتے ہیں ان میں لمبے قد والے افراد کے مقابلے میں دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیسٹر میں ہونے والی تحقیق کے مطابق چھوٹے قد والے افراد میں دل کی بیماریوں کے خدشات زیادہ ہوتے ہیِں، تحقیق کے دوران 2 لاکھ افراد کے قد اور دل کی صحت کو کنٹرول کرنے والے ڈی این اے کے مخصوص حصے سے پتہ لگایا گیا کہ قد میں ہر ڈھائی انچ کے اضافے سے دل کی بیماریوں کا امکان 13.5 کم ہو جاتا ہے۔
تحقیقی ٹیم کے رکن پروفیسر سرنیل سامانی کا کہنا ہے کہ تحقیق سے دل کی بیماریوں کے نئے علاج وضع کرنے میں مدد ملے گی جو مستقبل میں کافی مدد گار ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے قد سے قطع نظر ہر کسی کو صحت مندانہ غذا، باقاعدہ ورزش اور سگریٹ نوشی نہ کرنے جیسی عادات اپنانی چاہئیں تاکہ دل کی بیماریوں کا امکان کم ہو۔