لاہور: ایک مقناطیس

زاہدہ حنا  بدھ 15 اپريل 2015
zahedahina@gmail.com

[email protected]

لاہور مجھے مقناطیس کی طرح کھینچتا ہے۔ اس کی قدیم تاریخ، اس کی گلیوں میں اڑتی ہوئی غزنوی، غوری اور تغلق لشکروں کی دھول، ان کی تلواروں سے قتل ہونے والوں کی کراہیں اور ان کے چنگل میں پھڑپھڑاتی ہوئی عورتوں کی آہیں۔ تمام مناظر آنکھوں میں زندہ ہوجاتے ہیں۔ مغل بھی فاتحوں کے انداز سے آئے تھے اور پھر لاہور کے ایسے اسیر ہوئے کہ اس کے در و بام پر اپنے نقش چھوڑ گئے جو آج بھی سانس لیتے ہیں۔

یہاں نورجہاں ایک معتوب اور معزول ملکہ ہونے کے باوجود اپنے محبوب جہانگیر کا شایانِ شان مقبرہ تعمیر کراتی ہے اور خود ایک ایسی قبر میں سوجاتی ہے جس پر خود اس کے کہنے کے مطابق یہ مصرعہ صادق آتا ہے کہ برمزار ما غریباں نے چراغے، نے گُلے، نے پر پروانہ سوزد، نے صدائے بلبلے۔ نادر شاہ درانی اور احمد شاہ ابدالی نے اس لاہور کو کس طرح نہیں روندا جس کی آبادی میں مسلمان بہت زیادہ تھے۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اسی لاہور میں اپنا دربار سجایا اور اسے لاہور کی تاریخ کا ایک یادگار باب بنادیا۔ اور پھر آج کا لاہور جہاں پھولوں نے سرخ، عنابی ،اودے اور نیلے پیرہن پہن رکھے ہیں، جہاں فوارے اچھلتے ہیں اور برابر سے گزرنے والوں کو اپنی پھوار میں بھگودیتے ہیں۔

یہاں کے تعلیمی اور تہذیبی ادارے صدیوں کی تاریخ رکھتے ہیں اور اسی لیے لاہور مجھے مقناطیس کی طرح کھینچتا ہے۔ وہاں سے کوئی دعوت آئے تو دل شاد ہوتا ہے اور دعوت بھی اگر ہماری طرح دار شاعرہ یاسمین حمید کی طرف سے ہو جن کی دل گداز شاعری اپنا ایک خاص اسلوب رکھتی ہے اور جنہوں نے کئی برس سے لمز کے گرمانی سینٹر برائے زبان و ادب کا انتظام و انصرام سنبھالا ہے اور اپنی ذمے داریاں بہ حسن وخوبی نباہ رہی ہیں۔

اس مرتبہ جنوبی ایشیائی ادبی روایات پر 2 روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا اہتمام تھا۔ مجھے اس بات کی بہ طور خاص مسرت تھی کہ لمز کے پرو وائس چانسلر سید بابر علی افتتاحی اجلاس کی صدارت کریں گے اور میں ان کی باتیں سنوں گی کہ جب پاکستان وجود میں آرہا تھا تو وہ امریکا کی مشی گن یونیورسٹی میں پڑھتے تھے۔

بہت بعد میں ان کے بڑے بھائی امریکا میں پاکستان کے سفیر ہوئے اور جب ان کی شادی سفیر بھائی کے گھر سے ہوئی تو دُلہا دُلہن کو مبارک باد دینے والوں میں امریکی نائب صدر رچرڈنکسن بھی شریک تھے۔ لیکن یہ تو ایسی کوئی خاص بات نہیں ہماری اشرافیہ کی بیٹیوں اور بیٹوں کی شادیوں میں بھلا اور کون شریک ہوسکتا ہے۔ ہاں یہ بات ضرور یاد رکھنے کی ہے کہ انھوں نے اعلیٰ علمی کتابیں شایع کرنے، اہم تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان میں قابلیت کی بنیاد پر داخلے کو یقینی بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

’’لمز‘‘ جیسا ادارہ اور پھر گرمانی سینٹر کے زیر اہتمام جنوبی ایشیا کی مختلف زبانوں کی تعلیم اور ترویج ان کا ہدف رہا ہے اور اب اسی گرمانی سینٹر سے شرکت کی دعوت ملی تھی، ’’خواتین کی آوازیں‘‘ کے موضوع پر ہونے والے سیشن کی صدارت میرے حصے میں آئی تھی۔

مجھے خوشی یہ تھی کہ میں محترم سید بابرعلی سے مل سکوں گی۔ وہ اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز رہے 1993 میں وزیر خزانہ بھی رہے لیکن میرے لیے ان کا اصل تعارف پیکیجز کی شایع کی ہوئی کتابیں رہی ہیں۔ بہ طور خاص ’’سعدی اور خسرو‘‘ کا منتخب کلام ۔ افسوس کہ وہ خاندان میں کسی قریبی عزیز کے انتقال کی وجہ سے شریک نہ ہوسکے اور ان کی نیابت لمز کے وائس چانسلر ڈاکٹر سہیل نقوی نے کی اور خوب کی۔

افتتاحی اجلاس میں کلیدی خطبہ ہینزورنر ویسلر کا تھا۔ ویسلر ہم لوگوں کے لیے نئے نہیں ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں وہ کئی اہم کانفرنسوں میں شریک ہوچکے ہیں اور سننے والوں سے داد وصول چکے ہیں۔ اس کانفرنس میں انھوں نے جنوبی ایشیا کے جدید ادب میں سیکولر اور مذہبی پیٹرن کا بقول ان کے ایک فرنگی کی نظر سے جائزہ لیا۔

ہمارے یہاں لفظ ’’فرنگی‘‘ اب متروک ہوچکا ہے لیکن ویسلر نے اپنے موضوع کا واقعی کسی فرنگی کی طرح باریک بینی سے جائزہ لیا۔ وہ ادب کے ساتھ ہی حقوق انسانی کے معاملات سے بھی جڑے ہوئے ہیں اور انھوں نے ہندوستان کی مختلف جیلوں میں مجرموں، دانشوروں اور سیاسی کارکنوں سے ملاقاتیں کیں اور ان کا نقطۂ نظر سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ وہ یورپ کی مختلف یونیورسٹیوں میں ہندی اور اردو پڑھاتے ہیں۔ ان کے کلیدی خطبے میں ہندی کے ادیبوں کا ذکر زیادہ تھا۔

انھوں نے دلت اور بھکتی ادب کا ذکر کیا اور نظیر اکبر آبادی کے کلام کے بارے میں کہا کہ وہ حیران کن حد تک سیکولر ہے ، وہ بھی ایک ایسے زمانے میں جب کہ نظیر کے ہر طرف اسلامی مذہبی روایات کا زور تھا۔جنوبی ایشیا کے ادب اور اس کی تاریخ و تہذیب سے گہری وابستگی کے سبب وہ قریبی حلقوں میں ’’مسٹر ساؤتھ ایشیا‘‘ کہے جاتے ہیں۔ اس روز اقبال کی شاعری کے بارے میں شرکائے محفل میں سے کئی نے ان سے گرما گرم بحث کی۔

کانفرنس کے دوسرے دن کا آغاز ’’تاریخ اور تہذیب‘‘ پر گفتگو سے ہوا۔ صدارت معروف کالم نگار اور افسانہ نگار مسعود اشعر کی تھی جس میں کراچی کی حمیرا ناز، آفتاب حسین جیلانی، شاہد حسن رضوی، ہنگری کے آئیوان سزانتو اور ہندوستانی کشمیر کی چترلیکھازتشی نے اپنا اپنا نقطۂ پیش کیا۔

جناب سہیل عمرنے ’’صوفی خیالات اور ادب‘‘ کے سیشن کی صدارت کی۔ اس سیشن میں دو ہندوستانی شرکت نہ کرسکے۔ اسلام آباد کی تنویر انجم، زاہد منیر عامر، سندھ سے بشیر احمد جتوئی، کراچی کے شریف اعوان ، اسلام آباد کے سعید احمد اور ولیم شرمین شریک تھے۔ سب اپنی اپنی بولیاں بول رہے تھے اور سہیل عمراپنے علمی اور ادبی پس منظرکی بنا پر دلچسپ انداز میں اپنے جملوں سے محفل کو گرما رہے تھے۔ ’’سماج اور سیاست‘‘ کے موضوع پر ہونے والا سیشن جو کہ آخری تھا ہنگامہ خیز ثابت ہوا۔

ہمارے معروف کالم نگار اینکر پرسن اور ادیب غازی صلاح الدین نے اپنے وسیع مطالعے اور پاکستان کی سیاسی ہنگامہ پروری کی جان کاری کے سبب اس سیشن میں بہت دلچسپ اور معنی خیز سوال اٹھائے۔ اس سیشن میں محمد سفیر اعوان تاریخ ، قوم اور تشخص کے موضوع پر خوب بولے، اجمل کمال نے ٹیکنالوجی اور بینکاری کی تعلیم حاصل کی تھی، پھر اچانک وہ ادب کے میدان کی طرف نکل گئے۔ انھوں نے ایک سہ ماہی ادبی رسالہ ’’آج‘‘ نکالا اور اب وہ پاکستان اور ہندوستان دونوں ملکوں کے ادبی حلقوں میں ترجموں کے حوالے سے ایک جاناپہچانا نام ہیں۔ ان کا موضوع بہت دلچسپ اور خیال انگیز تھا یعنی اردو کے نثری ادب میں برادری اور نچلے طبقات کے ذکر کا بہت کم ہونا۔

جیسا کہ میں پہلے لکھ چکی ہوں ، کانفرنس کے دوسرے دن کے تیسرے سیشن کا عنوان ’’خواتین کی آوازیں ‘‘تھا۔ انگریزی میں اس کا عنوان Female Voices رکھا گیا تھا۔ اس کی صدارت میں نے کی لیکن کچھ لوگوں کو اشتباہ ہوا کہ اس سیشن میں Feminist Voices کے بارے میں گفتگو ہونی چاہیے۔ میں نے اسی لیے اس ذکر کو آیندہ کے لیے اٹھا رکھا ہے تاکہ بات درست تناظر میں اور تفصیل سے ریکارڈ پر آجائے۔

آخری سیشن میں سارہ عبداللہ، سعدیہ محمود کے علاوہ رضا نعیم نے بھی اپنے پرچے پڑھے۔ سارہ عبداللہ جنوبی ایشیا کے تھیٹر کے حوالے سے گریش کرناڈ کے مشہور ڈرامے ’’ٹیپو سلطان کے خواب‘‘ کو زیر بحث لائیں۔ تاریخی حقیقتیں اور خواب کس طرح ایک دوسرے سے خلط ملط ہوتے ہیں، تاریخ کو کس زاویے سے دیکھا جائے اور سچی تاریخ کو ماضی کی بھول بھلیوں میں کیوں کر تلاش کیا جائے۔انھوں نے ان معاملات پر روشنی ڈالی۔

تمام سیشن ختم ہوئے تو حسبِ روایت ہم سب لذت طعام سے لطف اندوز ہوئے جس کے بعد فرید ایاز اور ابو محمد قوال کو سننے والوں کا ہجوم تھا جس نے ڈوب کر انھیں سنا اور داد میں کسی طرح کی کمی نہیں کی۔ یوں جنوب ایشیائی ادب اور تہذیب کی وہ محفل اختتام کو پہنچی جس کے آگے موضوعات اور ان پر گفتگو کے امکانات کی ایک دنیا آباد ہے، معاملہ صرف تلاش کا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔