یمن کے سابق صدر عبداللہ صالح کی خلیجی ممالک سے پناہ کی درخواست
علی عبداللہ صالح نے حوثی باغیوں کے ساتھ مل کر یمن کو بحران میں دھکیلنے میں اہم کردار ادا کیا۔
فی الحال کسی درخواست پرغور نہیں کرسکتے،خلیجی ممالک کا جواب۔ فوٹو:فائل
یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح پر اپنے ملک کی زمین تنگ ہوچکی ہے جس کے بعد انہوں نے اپنی اور اپنے خاندان کو پناہ دینے کے لئے خلیجی ممالک سے رابطے شروع کردیئے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق یمنی صدرعلی عبداللہ صالح نے اپنا ایک ایلچی ابوبکر القربی خلیجی ممالک میں بھیجا ہے جس کے توسط سے انہوں نے اپنے اورپورے خاندان کے یمن سے بحفاظت انخلا کی درخواست کی ہے جب کہ ایلچی متعدد خلیجی ملکوں کا دورہ کرچکا ہے۔ خلیجی ملکوں کی جانب سے علی صالح کے ایلچی کے مشن کو ناممکن قرار دیتے ہوئے سابق صدر کا حوثیوں سے اتحاد اور پھر ان سے علیحدگی کے اعلان کو ان کے سیاسی اور اخلاقی افلاس کا ثبوت قرار دیا ہے۔
دوسری جانب خلیجی ممالک نے علی عبداللہ صالح کے ایلچی کو صاف جواب دیا ہے کہ فی الحال وہ ایسی کسی درخواست پرغور نہیں کرسکتے کیوں کہ یمن میں باغیوں کے خلاف "فیصلہ کن طوفان" کے نام سے آپریشن جاری ہے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق یمنی صدرعلی عبداللہ صالح نے اپنا ایک ایلچی ابوبکر القربی خلیجی ممالک میں بھیجا ہے جس کے توسط سے انہوں نے اپنے اورپورے خاندان کے یمن سے بحفاظت انخلا کی درخواست کی ہے جب کہ ایلچی متعدد خلیجی ملکوں کا دورہ کرچکا ہے۔ خلیجی ملکوں کی جانب سے علی صالح کے ایلچی کے مشن کو ناممکن قرار دیتے ہوئے سابق صدر کا حوثیوں سے اتحاد اور پھر ان سے علیحدگی کے اعلان کو ان کے سیاسی اور اخلاقی افلاس کا ثبوت قرار دیا ہے۔
دوسری جانب خلیجی ممالک نے علی عبداللہ صالح کے ایلچی کو صاف جواب دیا ہے کہ فی الحال وہ ایسی کسی درخواست پرغور نہیں کرسکتے کیوں کہ یمن میں باغیوں کے خلاف "فیصلہ کن طوفان" کے نام سے آپریشن جاری ہے۔