سعودی اتحادی فوج نے یمن میں زمینی کارروائی شروع کر دی
برّی فوج نے سرحدی علاقے میں کارروائی کی، القاعدہ کے جنگجوؤں نے عدن ایئرپورٹ اور حوثیوں نے آئل ٹرمینل پر قبضہ کر لیا
عدن میں کھانے پینے کی اشیا کی شدید قلت، سابق صدر نے نیا عبوری پلان پیش کردیا ۔ فوٹو : اے ایف پی
سعودی عرب کی زیر قیادت اتحادی افواج نے یمن میں پہلی زمینی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، حوثیوں نے سعودی عرب سے حملے فوری روکنے کا مطالبہ کردیا۔
القاعدہ کے جنگجوؤں نے عدن ایئرپورٹ پر جبکہ قبائلیوں نے آئل ٹرمینل پر قبضہ کر لیا ہے، یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح نے سیاسی بحران کے حل کیلیے نیا عبوری پلان پیش کردیا ہے، ذرائع ابلاغ کے مطابق ریاض میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے یمن آپریشن کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد العسیری نے بتایا کہ یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف پہلی بار سعودی عرب کی فورسز نے زمینی کارروائی کی، انھوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یمن میں حوثیوں کی شورش پسندی کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔
اتحادی طیاروں نے یمن کے جنوبی علاقوں میں حوثی باغیوں کی مزاحمت کرنے والے مقامی گروپوں کیلیے فوجی اور طبی امدادی سامان بھی گرایا، سعودی برّی فوج نے یمن کے ساتھ سرحدی علاقے میں حوثی جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کی، اے ایف پی کے مطابق القاعدہ کے جنگجوؤں نے عدن ایئرپورٹ پر جبکہ قبائلیوں نے آئل ٹرمینل پر قبضہ کر لیا، آئی این پی کے مطابق اتحادی فوج نے عدن میں حوثی باغیوں کے زیر قبضہ گوداموں اور اسٹورز پر حملے کیے ۔
جس کے بعد شہر میں ایندھن اور کھانے پینے کی اشیا کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے، لوگوں کو خوراک اور فیول کے حصول کیلیے لمبی قطاروں میں انتظار کرنا پڑ رہا ہے، آن لائن ذرائع کے مطابق یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح نے اپنے صاحبزادوں کے ساتھ ملک میں جاری موجودہ سیاسی بحران کے حل کیلیے حوثیوں کو صنعا سے نکال باہر کرنے، اسلحہ اور فوج حکومت کو واپس کرنے اور خلیجی تعاون کونسل کے مفاہمتی فارمولے کے تحت اختیارات وزیراعظم خالد بحاح کو سپرد کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک اور زراعت کا کہنا ہے کہ یمن میں اس وقت ایک کروڑ 6 لاکھ باشندے غذائی قلت سے متاثر ہیں اور تقریباً 50 لاکھ افراد اس وجہ سے انتہائی مشکل حالات میں پھنسے ہوئے ہیں۔
القاعدہ کے جنگجوؤں نے عدن ایئرپورٹ پر جبکہ قبائلیوں نے آئل ٹرمینل پر قبضہ کر لیا ہے، یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح نے سیاسی بحران کے حل کیلیے نیا عبوری پلان پیش کردیا ہے، ذرائع ابلاغ کے مطابق ریاض میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے یمن آپریشن کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد العسیری نے بتایا کہ یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف پہلی بار سعودی عرب کی فورسز نے زمینی کارروائی کی، انھوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یمن میں حوثیوں کی شورش پسندی کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔
اتحادی طیاروں نے یمن کے جنوبی علاقوں میں حوثی باغیوں کی مزاحمت کرنے والے مقامی گروپوں کیلیے فوجی اور طبی امدادی سامان بھی گرایا، سعودی برّی فوج نے یمن کے ساتھ سرحدی علاقے میں حوثی جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کی، اے ایف پی کے مطابق القاعدہ کے جنگجوؤں نے عدن ایئرپورٹ پر جبکہ قبائلیوں نے آئل ٹرمینل پر قبضہ کر لیا، آئی این پی کے مطابق اتحادی فوج نے عدن میں حوثی باغیوں کے زیر قبضہ گوداموں اور اسٹورز پر حملے کیے ۔
جس کے بعد شہر میں ایندھن اور کھانے پینے کی اشیا کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے، لوگوں کو خوراک اور فیول کے حصول کیلیے لمبی قطاروں میں انتظار کرنا پڑ رہا ہے، آن لائن ذرائع کے مطابق یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح نے اپنے صاحبزادوں کے ساتھ ملک میں جاری موجودہ سیاسی بحران کے حل کیلیے حوثیوں کو صنعا سے نکال باہر کرنے، اسلحہ اور فوج حکومت کو واپس کرنے اور خلیجی تعاون کونسل کے مفاہمتی فارمولے کے تحت اختیارات وزیراعظم خالد بحاح کو سپرد کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک اور زراعت کا کہنا ہے کہ یمن میں اس وقت ایک کروڑ 6 لاکھ باشندے غذائی قلت سے متاثر ہیں اور تقریباً 50 لاکھ افراد اس وجہ سے انتہائی مشکل حالات میں پھنسے ہوئے ہیں۔