بھارتی مسلمانوں سے امتیازی سلوک کے خلاف نکسل رہنما ٹی این جوئے نے احتجاجاً اسلام قبول کر لیا

کیرالہ کے سیاستدان اور نکسل باغیوں کے سابق رہنما ٹی این جوئے نے مسلمان ہونے پر اپنا نیا نام نجمل ابن بابو رکھ لیا


APP April 17, 2015
بابری مسجد کی شہادت کے بعد ہندوؤں میں فسطائیت کی دم نکل آئی، بھارت میں مسلمان خوف کی زندگی گزار رہے ہیں، بیان ۔ فوٹو : فائل

بھارت کی جنوبی ریاست کیرالہ کے معروف سیاستدان اور نکسل باغیوں کے سابق رہنما ٹی این جوئے نے بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے خلاف احتجاجاً اسلام قبول کر نے کے بعد انھوں نے اپنا نیا نام نجمل ابن بابو رکھ لیا ۔

بھارتی اخبارات کی رپورٹ کے مطابق ٹی این جوئےکا کہنا ہے کہ کا قبول اسلام بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی عصبیت کے خلاف احتجاج کا ان کا اپنا انداز ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ بھارت میں وہ اپنا پیدائشی مذہب ترک کر رہے ہیں، وہ ایک ایسے معاشرے کے قیام کے خواہاں ہیں جس میں کسی فرد کی طرف سے مذہب کی تبدیلی کوئی''خبر'' نہ ہو، انھوں نے کہا کہ ان کے والد نے ہندو مذہب میں ذات پات کے نظام کے خلاف احتجاج کے طور پر ان کا نام جوئے رکھا تھا۔

اب وہ اس احتجاج کو آگے بڑھا رہے ہیں، انھوں نے کہا کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد تمام ہندوؤں میں فسطائیت کی دم نکل آئی ہے اور مسلمان بھارت میں خوف کی زندگی بسر کرتے ہیں، ٹی این جوئے نے 1970 کے عشرے میں نکسل باغیوں کی تحریک کی قیادت کی تھی، وہ کئی احتجاجی مظاہروں میں شریک رہے اور قید کی سزائیں بھی کاٹیں۔

مقبول خبریں