نیپال کے زلزلے نے ہمالیہ کے پہاڑوں کی اونچائی کو بھی کم کردیا سائنسدان
زلزلے سے دارالحکومت کٹھمنڈو کے شمال مغرب میں لینگ ٹنگ ہمل رینج کا 80 سے 100 میل کا حصہ بھی متاثرہوا، سائنسدان
سائنسدان زلزلے کے نتیجے میں ایورسٹ کی چوٹی کے متاثر ہونے یا نہ ہونے کا پتا نہیں لگا سکے ہیں، فوٹو فائل
MEHAR:
نیپال میں آنے والے زلزلے سے جہاں شدید تباہی ہوئی اورہزاروں لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے وہیں قدیم تاریخی ورثہ بھی تباہ ہوگیا اور اب ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ ہمالیہ کے کچھ حصوں کی اونچائی میں بھی کمی آئی ہے لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ کی اونچائی میں بھی کوئی تبدیلی ہوئی ہے یا نہیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ 25 اپریل کو نیپال میں ریکٹر اسکیل پر 7.8 کی شدت سے آنے والے زلزلے سے ہمالیہ کے کچھ حصوں کی اونچائی متاثر ہوئی ہے اور پہاڑوں کی بیس زمین میں گھس گئی ہے تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ارضیاتی تغیر سے آنے والی تبدیلی آہستہ آہستہ ختم ہو جائے گی اور ہمالیہ کے وہ حصے جو دھنس گئے ہیں وہ واپس اپنی جگہ پر آجائیں گے۔
دوسری جانب سائنسدان زلزلے کے نتیجے میں ایورسٹ کی چوٹی کے متاثر ہونے یا نہ ہونے کا پتا نہیں لگا سکے ہیں۔ امریکی جیالوجیکل سروے سے تعلق رکھنے والے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ زلزلے سے دارالحکومت کٹھمنڈو کے شمال مغرب میں لینگ ٹنگ ہمل رینج کا 80 سے 100 میل کا حصہ متاثر ہوا ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ لینگ ٹینگ رینج میں گنیش ہمل سمیت کئی چوٹیوں کی اونچائی متاثر ہو سکتی ہے تاہم زلزلے سے ایورسٹ کی چوٹی کی اونچائی میں کسی تبدیلی کا پتا لگانے کے لیے گرؤنڈ سروے اور جی پی ایس سروے کی ضرورت ہے۔
جرمن ایرو سپیس سینٹر سے تعلق والے جیالوجسٹ کا کہنا ہے کہ زلزلے کے ڈیٹا کا تجزیہ کرنے سے پتا چلا ہے کہ کٹھمنڈو کے شمال میں ارضیاتی پلیٹوں کی حدود سے آگے کے علاقے کی اونچائی میں 1.5 میٹر تک کمی واقع ہوئی ہے جب کہ ہمالیہ کے پہاڑ جنہیں جیالوجسٹ سب سےکم عمر پہاڑ تصور کرتے ہیں وہ انڈین اور یوریشین ارضیاتی پلیٹوں کے آپس میں تصادم کی وجہ سےمسلسل اونچے ہو رہے ہیں لیکن کسی بڑے زلزلے سے تبدیلی کا یہ عمل الٹ بھی سکتا ہے۔
واضح رہے کہ یہ وہی علاقہ ہے جہاں زلزلے کے بعد برفانی تودوں کی زد میں آ کر کئی کوہ پیما ہلاک ہوگئے تھے اور کئی اب بھی لاپتا ہیں۔
نیپال میں آنے والے زلزلے سے جہاں شدید تباہی ہوئی اورہزاروں لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے وہیں قدیم تاریخی ورثہ بھی تباہ ہوگیا اور اب ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ ہمالیہ کے کچھ حصوں کی اونچائی میں بھی کمی آئی ہے لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ کی اونچائی میں بھی کوئی تبدیلی ہوئی ہے یا نہیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ 25 اپریل کو نیپال میں ریکٹر اسکیل پر 7.8 کی شدت سے آنے والے زلزلے سے ہمالیہ کے کچھ حصوں کی اونچائی متاثر ہوئی ہے اور پہاڑوں کی بیس زمین میں گھس گئی ہے تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ارضیاتی تغیر سے آنے والی تبدیلی آہستہ آہستہ ختم ہو جائے گی اور ہمالیہ کے وہ حصے جو دھنس گئے ہیں وہ واپس اپنی جگہ پر آجائیں گے۔
دوسری جانب سائنسدان زلزلے کے نتیجے میں ایورسٹ کی چوٹی کے متاثر ہونے یا نہ ہونے کا پتا نہیں لگا سکے ہیں۔ امریکی جیالوجیکل سروے سے تعلق رکھنے والے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ زلزلے سے دارالحکومت کٹھمنڈو کے شمال مغرب میں لینگ ٹنگ ہمل رینج کا 80 سے 100 میل کا حصہ متاثر ہوا ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ لینگ ٹینگ رینج میں گنیش ہمل سمیت کئی چوٹیوں کی اونچائی متاثر ہو سکتی ہے تاہم زلزلے سے ایورسٹ کی چوٹی کی اونچائی میں کسی تبدیلی کا پتا لگانے کے لیے گرؤنڈ سروے اور جی پی ایس سروے کی ضرورت ہے۔
جرمن ایرو سپیس سینٹر سے تعلق والے جیالوجسٹ کا کہنا ہے کہ زلزلے کے ڈیٹا کا تجزیہ کرنے سے پتا چلا ہے کہ کٹھمنڈو کے شمال میں ارضیاتی پلیٹوں کی حدود سے آگے کے علاقے کی اونچائی میں 1.5 میٹر تک کمی واقع ہوئی ہے جب کہ ہمالیہ کے پہاڑ جنہیں جیالوجسٹ سب سےکم عمر پہاڑ تصور کرتے ہیں وہ انڈین اور یوریشین ارضیاتی پلیٹوں کے آپس میں تصادم کی وجہ سےمسلسل اونچے ہو رہے ہیں لیکن کسی بڑے زلزلے سے تبدیلی کا یہ عمل الٹ بھی سکتا ہے۔
واضح رہے کہ یہ وہی علاقہ ہے جہاں زلزلے کے بعد برفانی تودوں کی زد میں آ کر کئی کوہ پیما ہلاک ہوگئے تھے اور کئی اب بھی لاپتا ہیں۔