بینکوں کی حفاظت کرنیوالی 50فیصد سے زائد سیکیورٹی کمپنیوں کے لائسنس کی مدت ختم

سیکیورٹی کمپنیاں لائسنس کی مدت 30یوم کے اندر تجدید کرانے کی پابند ہیں

زائد العمر گارڈز زنگ آلود ہتھیاروں کے ساتھ پہرے دے رہے ہیں، حفاظتی اقدامات کیلیے نئی گائیڈ لائنز جاری نہیں کی گئیں، ذرائع بینکنگ انڈسٹری۔ فوٹو: فائل

بینکوں کی حفاظت پر مامور140منظورہ شدہ سیکیورٹی کمپنیوں میں سے 50فیصد سے زائد کے لائسنس کی معیادختم ہوچکی ہے۔

سیکیورٹی کمپنیوں کی بڑی تعداد لائسنس کی تجدید کے بغیر بینکوں پر فرائض انجام دے رہی ہیں، اسٹیٹ بینک کی جانب سے بینک ڈکیتی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے باوجود بینکوں کو حفاظتی اقدامات کے لیے نئی گائڈ لائنز جاری نہیں کی گئیں جس سے بینکنگ انڈسٹری پر صارفین کا اعتماد متزلزل ہورہا ہے، زیادہ تر بینک سیکیورٹی پر اٹھنے والے اخراجات کم رکھنے کیلیے سیکیورٹی پر سمجھوتا کررہے ہیں۔

بینک ڈکیتی کی وارداتوں میں نجی کمپنیوں کے سیکیورٹی گارڈز کی مزاحمت نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ متعدد وارداتوں میں بینک پر تعینات نجی سیکیوٹی گارڈز ہی ملوث پائے گئے ہیں جو بینکوں کی جانب سے حفاظت کے لیے اختیار کردہ اقدامات پر سوالیہ نشان ہیں، بینکوں میں زائد العمر گارڈز زنگ آلود ہتھیاروں کے ساتھ پہرے دے رہے ہیں اور بینکوں میں واردات کی فوری اطلاع متعلقہ تھانوں کو مہیا کرنے کے تکنیکی انتظامات کا بھی فقدان ہے۔


بینکنگ انڈسٹری کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ بینکوں میں سیکیوریٹی کمپنیوں کی خدمات حاصل کرنے کیلیے پاکستان بینک ایسوسی ایشن نے 140 سیکیورٹی کمپنیاں منظور کی ہیں، ملک میں کام کرنیوالے 56سرکاری، نجی، غیرملکی بینک اور مالیاتی ادارے پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے رکن ہیں جن کیلیے ان 140 کمپنیوں کو سخت اسکروٹنی کے بعد منظور کیا جاتا ہے اور رکن بینک منظورہ شدہ ایجنسیوںکی ہی خدمات لینے کے پابند ہیں تاہم ان میں سے50فیصد کمپنیوں کے لائسنس ایکسپائر ہوچکے ہیں، بہت سی کمپنیاں ایک سے زائد صوبے میں کام کررہی ہیں۔

رکن بینکوں کے لیے سیکیورٹی کمپنی کی خدمات کے لیے صوبائی وزارت داخلہ کے لائسنس کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے، بینکوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے والی نجی کمپنیاں لائسنس کی مدت کے خاتمے کی صورت میں اندرون تیس یوم تجدید کی پابند ہیں، کمپنی کے لیے وزارت مواصلات کا این او سی بھی لازمی قرار دیا گیا ہے، بینکوں کی سیکیورٹی کے لیے مسلح افواج اور سابق پیرا ملٹری اہلکاروں کو ترجیح دینا لازمی ہے جبکہ سویلین گارڈز کے لیے مستحکم ساکھ کے تربیتی اداروں سے تربیت لازم ہے جس میں نشانہ بازی اور فائرنگ کی تربیت بہت ضروری ہے۔

پاکستان بینکس ایسوسی ایشن نے اپنے اراکین کو پابند کیا ہے کہ صرف مکمل طور پر صحت مند اور چاق و چوبند گارڈز کی خدمات حاصل کی جائیں اور سیکیورٹی کمپنی سے گارڈز کی فٹنس اور صحت کے بارے میں تصدیق نامے حاصل کریں، بینکوں میں ہونے والی کسی واردات میں سیکیورٹی ایجنسی کے اہلکار کے ملوث ہونے پر سیکیورٹی ایجنسیوں سے 10لاکھ روپے (فی واردات) تک کے نقصان کی تلافی کی ذمے داری عائد کی گئی ہے۔

سیکیورٹی ایجنسیوں کو واردات کی صورت میں لوٹے گئے مال کی ریکوری میں بھی تعاون کا پابند بنایا گیا ہے، اسی طرح نامکمل کوائف کے حامل گارڈز اور کسی واردات میں ملوث پائے جانے والے گارڈز کی کسی بینک میں تعیناتی پر بھی پابندی ہے، ایسوسی ایشن کے پاس کسی بھی سیکیورٹی کمپنی کو ڈی لسٹ کرنے کا اختیار ہے تاہم چار سال میں ایک کمپنی کو قواعدوضوابط کی خلاف ورزی پر 25ستمبر 2009کو ایک کو ڈی لسٹ کیا ہے۔
Load Next Story