دائود کالج کے طلبا کا پرنسپل پر تشدد کالج تا حکم ثانی بند کردیا گیا

تدریسی اوقات کے بعد کالج کی عمارت حوالے کرنے سے پرنسپل کے انکارپر کانفرنس روم میں توڑپھوڑ


Staff Reporter October 12, 2012
دائود کالج کے پرنسپل پر تشدد و ہنگامہ آرائی کے بعد رینجرز نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے کالج کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ فوٹو: ایکسپریس

دائود کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں ایک طلبا گروپ نے تدریسی اوقات کے بعد کالج کی عمارت حوالے کرنے سے انکار پر انچارج پرنسپل کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔

کالج کے کانفرنس روم کے شیشے اور فرنیچر توڑ دیا، ہنگامہ آرائی کی اور فرار ہوگئے جبکہ کالج انتظامیہ نے واقعے کے بعد کالج کو تاحکم ثانی بند کردیا اور ملوث طلبا کے داخلے معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، یاد رہے کہ رواں ہفتے کالج میں اساتذہ سے بدتمیزی اور ہنگامہ آرائی کا یہ دوسرا واقعہ ہے، واضح رہے کہ حکومت سندھ کی عدم توجہی کے سبب دائودکالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی بدترین انتظامی بحران سے دوچار ہے، کالج کے پرنسپل استعفیٰ دے چکے ہیں، ان کا استعفیٰ منظورنہیں کیا گیا جبکہ انتظام چلانے کیلیے کوئی مستقل پرنسپل موجود نہیں ہے۔

جمعرات کو جب دائود کالج کے انچارج پرنسپل راشد بیگ کانفرنس روم میں اپنے دفتری امور میں مصروف تھے تو طلبا کا ایک گروپ کانفرنس روم میں داخل ہوا اور انچارج پرنسپل سے تدریسی اوقات کے بعد شام4 سے رات گئے تک پروگرام کی غرض سے کالج کی عمارت استعمال کرنے کی اجازت طلب کی تاہم انچارج پرنسپل کا موقف تھا کہ پروگرام کے انعقاد کیلیے کالج کا کوئی بھی حصہ صرف تدریسی اوقات میں ہی استعمال کیا جاسکتا ہے اور تدریسی اوقات کے بعد کالج میںکسی بھی قسم کے پروگرام کی اجازت نہیں دی جائے گی جس کے بعد متعلقہ طلبا گروپ مشتعل ہوگیا اور انچارج پرنسپل سے تلخ کلامی کے بعد کرسی اٹھاکر ان کی جانب پھینک دی جو ان کے پیٹ پر لگی اور انھیں شدید چوٹیں آئیں۔

طلبا گروپ نے اس موقع پر کانفرنس ہال میں رکھا ہوا فرنیچر اور دیگر ساز و سامان پھینک دیا، توڑپھوڑکی اور وہاں سے فرار ہوگئے، بعدازاں کالج انتظامیہ نے اس واقعے کی اطلاع پولیس اور رینجرز کو دی، انتظامیہ کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کیاگیا جس میں کالج کو تاحکم ثانی بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، ''ایکسپریس''کے رابطہ کرنے پردائود انجینئرنگ کالج کے مستعفی پرنسپل اور سندھ مدرسۃ الاسلام کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شیخ نے بتایاکہ حالات معمول پر آتے ہی کالج کھول دیا جائیگا، ان کا کہنا تھا کہ انچارج پرنسپل پر تشددکرنے والے طلبا سے سختی سے نمٹا جائے گا، ان کے داخلے معطل کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ معاملے کی رپورٹ پولیس کوکردی گئی ہے۔

مقبول خبریں