پانی میں کلورین کا درست استعمال نہیں کیا گیا دماغ چاٹنے والا جرثومہ واٹر بورڈ کی غفلت سے پھیلا سٹی
واٹربورڈ کے ایک چیف انجینئر نے چند ماہ قبل ہی پانی میں کلورین شامل نہ کرنے کی نشاندہی کی تھی ایم ڈی نے نوٹس نہیں لیا
6پمپنگ اسٹیشنوں کو ماہانہ 450 کلورین سلنڈرز کی ضرورت ہوتی ہے تاہم180سلنڈر خریدے جارہے ہیں،پانی میں کلورین ملانے والی مشینیں بھی خراب پڑی ہیں۔ فوٹو : فائل
کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ کی انتظامیہ کی غفلت اور بے قاعدگیوں کے باعث کراچی میں دماغ چاٹنے والے جرثومے نے جنم لیا۔
جو کہ شہر میں ایک انتہائی خطرناک مرض کی طرح پھیل گیا اور متعدد شہریوں کی جان لے چکا ہے، اگر واٹربورڈ شہر میں فراہم کیے جانے والے پانی میں کلورین کا درست استعمال کررہا ہوتا تو یہ صورتحال پیدا نہیں ہوتی، واٹربورڈ کے ایک چیف انجینئر نے چند ماہ قبل واٹربورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر کو اس بات سے آگاہ کردیا تھا کہ شہریوں میں فراہم کیے جانے والے پانی میں کلورین کا استعمال نہیں ہورہا ہے جس کے باعث پانی سے پیدا ہونے والی خطرناک بیماری جنم لے سکتی ہیں مگر واٹربورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر نے اس صورتحال کا نوٹس لینے کی زحمت گوارہ نہیں کیا جس کا خمیازہ کراچی کے شہریوں کو بھگتنا پڑا۔
باخبر ذرائع نے اس امر کا انکشاف کرتے ہوئے ایکسپریس کو بتایا کہ واٹربورڈ کے ایک سینئر ترین انجینئر اسداﷲ خان نے چند ماہ قبل بحثیت چیف انجینئر الیکٹریکل اینڈ میکینکل چند ماہ قبل واٹربورڈ کی انتظامیہ کو خط لکھا جس میں محکمہ فنانس پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ واٹربورڈ کی انتظامیہ کی غفلت کے باعث کلورین کی فراہمی بند ہوگئی ہے جس کے باعث شہر میں پانی سے پیدا ہونے والے امراض پھوٹنے کا شدید خدشہ ہے، اگر یہ امراض پھوٹے تو اس کی ذمے داری واٹربورڈ کی انتظامیہ پر ہوگی مگر واٹربورڈ کی انتظامیہ نے اس خط پر توجہ نہیں دی۔
ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ اس خط کے بعد کلورین کی فراہمی شروع ہوگئی تاہم وہ مطلوبہ مقدار کے مطابق نہیں تھی مجموعی طور پر واٹربورڈ کے6پمپنگ اسٹیشنوں کو450 کلورین سلنڈرز کی ضرورت ہوتی ہے تاہم ماہانہ180 سلنڈر خریدے جارہے ہیں، ذرائع نے بتایا کہ اس کی ایک بڑی وجہ صرف یہ ہے کہ کلورین ایک مونوپولی آئٹم میں شمار ہوتا ہے اس کو فراہم کرنے والے ٹھیکیداروں کی کیونکہ اس آئٹم پر اجارہ داری ہے جس کے باعث وہ واٹربورڈ کے انتہائی کرپٹ انتظامیہ کو منہ مانگی رشوت نہیں دیتے جس کے باعث واٹربورڈ کی انتظامیہ کلورین مطلوبہ مقدار میں حاصل کرنے کے بجائے ایسے ٹھیکے دینے پر توجہ دیتی ہے جس سے ان کو منہ مانگی رشوت مل سکے۔
ذرائع نے بتایا کہ کراچی میں دماغ چاٹنے والے جرثومے کے جنم لینے کی مکمل ذمے داری واٹربورڈ کی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے، ذرائع نے اس حوالے سے ایک دلچسپ انکشاف یہ بھی کیا کہ کلورین کو پانی میں عالمی معیار کے مطابق ملانے کیلیے کلورینیٹر نامی ایک مشین کا استعمال کیا جاتا ہے مگر واٹربورڈ کے تمام پمپنگ اسٹیشنوں میں یہ میشن خراب پڑی ہے اورواٹربورڈ کی انتظامیہ نے اس مشین کو درست کرانے کی کوشش نہیں کی۔
ذرائع نے بتایا کہ اس حوالے سے ایک شرمناک بات یہ بھی ہے کہ گذشتہ مالیاتی سال میں واٹربورڈ نے شعبہ الیکٹریکل اینڈ میکینکل میں40کروڑ روپے کی لاگت سے کام کرائے تاہم یہ کام کہاں ہوئے کن مشینوں کو خریدا یا درست کیا گیا، اگر اس حوالے سے نیب یا کوئی دیگر تفتیشی ادارہ تحقیقات کرے تو انتہائی سنسنی خیز انکشاف ہونگے بہرحال ان چالیس کروڑ روپے کو خرچ کرنے کے باوجود کلورینیٹر نامی مشینیں درست نہیں ہوئیں۔
ذرائع نے بتایا کہ اگر واٹربورڈ کی انتظامیہ سابق چیف انجینئر اسداﷲ کی طرف سے بار بار توجہ دلانے کا نوٹس لے لیتی تو کراچی کے شہریوںکو یہ خوفناک صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، اس نئے جرثومے کے پھیلنے سے کراچی کے شہریوں شدید خوف زدہ ہیں مگر واٹربورڈ کی انتظامیہ اس صورتحال کا نوٹس لینے کے بجائے صرف وصرف دعوؤں کے ذریعے کراچی کے شہریوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش کررہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر واٹربورڈ میں ہونے والے معاملات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے بہت سارے ایسے کرپٹ افسران کے چہرے عوام کے سامنے آجائیں گے جنھوں نے اپنی جیبیں بھرنے کے لیے کراچی کے شہریوں کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا اور یہ کرپٹ افسران اعلیٰ ترین عہدوں پر بیٹھے ہوئے ہیں مگر کسی سطح پر ان افسران کے کرتوتوں کا نوٹس نہیں لیا جارہا۔
جو کہ شہر میں ایک انتہائی خطرناک مرض کی طرح پھیل گیا اور متعدد شہریوں کی جان لے چکا ہے، اگر واٹربورڈ شہر میں فراہم کیے جانے والے پانی میں کلورین کا درست استعمال کررہا ہوتا تو یہ صورتحال پیدا نہیں ہوتی، واٹربورڈ کے ایک چیف انجینئر نے چند ماہ قبل واٹربورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر کو اس بات سے آگاہ کردیا تھا کہ شہریوں میں فراہم کیے جانے والے پانی میں کلورین کا استعمال نہیں ہورہا ہے جس کے باعث پانی سے پیدا ہونے والی خطرناک بیماری جنم لے سکتی ہیں مگر واٹربورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر نے اس صورتحال کا نوٹس لینے کی زحمت گوارہ نہیں کیا جس کا خمیازہ کراچی کے شہریوں کو بھگتنا پڑا۔
باخبر ذرائع نے اس امر کا انکشاف کرتے ہوئے ایکسپریس کو بتایا کہ واٹربورڈ کے ایک سینئر ترین انجینئر اسداﷲ خان نے چند ماہ قبل بحثیت چیف انجینئر الیکٹریکل اینڈ میکینکل چند ماہ قبل واٹربورڈ کی انتظامیہ کو خط لکھا جس میں محکمہ فنانس پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ واٹربورڈ کی انتظامیہ کی غفلت کے باعث کلورین کی فراہمی بند ہوگئی ہے جس کے باعث شہر میں پانی سے پیدا ہونے والے امراض پھوٹنے کا شدید خدشہ ہے، اگر یہ امراض پھوٹے تو اس کی ذمے داری واٹربورڈ کی انتظامیہ پر ہوگی مگر واٹربورڈ کی انتظامیہ نے اس خط پر توجہ نہیں دی۔
ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ اس خط کے بعد کلورین کی فراہمی شروع ہوگئی تاہم وہ مطلوبہ مقدار کے مطابق نہیں تھی مجموعی طور پر واٹربورڈ کے6پمپنگ اسٹیشنوں کو450 کلورین سلنڈرز کی ضرورت ہوتی ہے تاہم ماہانہ180 سلنڈر خریدے جارہے ہیں، ذرائع نے بتایا کہ اس کی ایک بڑی وجہ صرف یہ ہے کہ کلورین ایک مونوپولی آئٹم میں شمار ہوتا ہے اس کو فراہم کرنے والے ٹھیکیداروں کی کیونکہ اس آئٹم پر اجارہ داری ہے جس کے باعث وہ واٹربورڈ کے انتہائی کرپٹ انتظامیہ کو منہ مانگی رشوت نہیں دیتے جس کے باعث واٹربورڈ کی انتظامیہ کلورین مطلوبہ مقدار میں حاصل کرنے کے بجائے ایسے ٹھیکے دینے پر توجہ دیتی ہے جس سے ان کو منہ مانگی رشوت مل سکے۔
ذرائع نے بتایا کہ کراچی میں دماغ چاٹنے والے جرثومے کے جنم لینے کی مکمل ذمے داری واٹربورڈ کی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے، ذرائع نے اس حوالے سے ایک دلچسپ انکشاف یہ بھی کیا کہ کلورین کو پانی میں عالمی معیار کے مطابق ملانے کیلیے کلورینیٹر نامی ایک مشین کا استعمال کیا جاتا ہے مگر واٹربورڈ کے تمام پمپنگ اسٹیشنوں میں یہ میشن خراب پڑی ہے اورواٹربورڈ کی انتظامیہ نے اس مشین کو درست کرانے کی کوشش نہیں کی۔
ذرائع نے بتایا کہ اس حوالے سے ایک شرمناک بات یہ بھی ہے کہ گذشتہ مالیاتی سال میں واٹربورڈ نے شعبہ الیکٹریکل اینڈ میکینکل میں40کروڑ روپے کی لاگت سے کام کرائے تاہم یہ کام کہاں ہوئے کن مشینوں کو خریدا یا درست کیا گیا، اگر اس حوالے سے نیب یا کوئی دیگر تفتیشی ادارہ تحقیقات کرے تو انتہائی سنسنی خیز انکشاف ہونگے بہرحال ان چالیس کروڑ روپے کو خرچ کرنے کے باوجود کلورینیٹر نامی مشینیں درست نہیں ہوئیں۔
ذرائع نے بتایا کہ اگر واٹربورڈ کی انتظامیہ سابق چیف انجینئر اسداﷲ کی طرف سے بار بار توجہ دلانے کا نوٹس لے لیتی تو کراچی کے شہریوںکو یہ خوفناک صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، اس نئے جرثومے کے پھیلنے سے کراچی کے شہریوں شدید خوف زدہ ہیں مگر واٹربورڈ کی انتظامیہ اس صورتحال کا نوٹس لینے کے بجائے صرف وصرف دعوؤں کے ذریعے کراچی کے شہریوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش کررہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر واٹربورڈ میں ہونے والے معاملات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے بہت سارے ایسے کرپٹ افسران کے چہرے عوام کے سامنے آجائیں گے جنھوں نے اپنی جیبیں بھرنے کے لیے کراچی کے شہریوں کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا اور یہ کرپٹ افسران اعلیٰ ترین عہدوں پر بیٹھے ہوئے ہیں مگر کسی سطح پر ان افسران کے کرتوتوں کا نوٹس نہیں لیا جارہا۔