سال 2009 میں ایگزیکٹ کو عدالت سے7 لاکھ ڈالر جرمانہ ہوا
ایگزیکٹ کی مقابل کمپنی نے جب اسے دھوکہ دہی پرمبنی ویب سائٹ قراردیا توایگزیکٹ نے اس پر2009 میں مقدمہ کردیا۔
ایگزیکٹ کی مقابل کمپنی نے جب اسے دھوکہ دہی پرمبنی ویب سائٹ قراردیا توایگزیکٹ نے اس پر2009 میں مقدمہ کردیا۔ فوٹو:فائل
ISLAMABAD:
جعلی ڈگریوں کے کاروبار میں ایگزیکٹ کی شمولیت 2009 میں بے نقاب ہوتے ہوتے رہ گئی جب امریکی ریاست مشی گن کی ایک خاتون نے اس کمپنی کی ملکیت میں چلنے والی دو ویب سائٹس ''بیلفرڈ ہائی اسکول'' اور ''بیلفرڈ یونیورسٹی'' پر مقدمہ دائر کردیا۔
مگر اس مقدمے کا مدعا علیہ جو سامنے آیا وہ ایگزیکٹ کمپنی نہیں بلکہ سلیم قریشی نامی ایک پاکستانی تھا جس نے دعویٰ کیا کہ وہ یہ ویب سائٹس اپنے اپارٹمنٹس سے چلاتا تھا۔ 3 سال سے زیادہ ہونے والی مقدمے کی اس سماعت میں سلیم قریشی صرف ایک ویڈیو بیان کے ذریعے نظروں کے سامنے آیا جس میں وہ کراچی کے ایک کمرے میں انتہائی کم روشنی میں موجود تھا۔ سلیم قریشی نے اپنی صفائی میں کیس لڑنے والے امریکی وکلا کو 4 لاکھ ڈالر فیس ادا کی جسے دبئی کے مختلف کرنسی ایکسچینج سٹورز کے ذریعے بھجوایا گیا۔ حال ہی میں ایک رپورٹر اس کا کراچی کا دیا گیا پتہ ڈھونڈنے میں ناکام ہوا۔
سلیم قریشی نے ایگزیکٹ کمپنی سے اپنے کسی بھی تعلق سے یکسر انکارکیا حالانکہ بیلفرڈ ہائی اسکول اوربیلفرڈ یونیورسٹی کے زیراستعمال میل باکسوں میں ایگزیکٹ ہیڈ کوارٹر کے پتے کو ''فارورڈنگ ایڈریس'' کے طور پر درج کیا گیا تھا۔ یہ مقدمہ 2012 میں ختم ہوا جب جج نے سلیم قریشی اور بیلفرڈ کو 22 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ تاہم کسی بھی مدعی کو کچھ بھی رقم موصول نہیں ہوئی۔ مضمون نگاری کے بزنس میں ایگزیکٹ کی مقابل کمپنی ''اسٹوڈنٹ نیٹ ورک ریورسز'' نے جب ایگزیکٹ کو دھوکہ دہی پر مبنی ویب سائٹ قرار دیا تو ایگزیکٹ نے اس پر 2009 میں مقدمہ کردیا مگراس کمپنی نے مقدمے کا جواب مقدمے سے دیا جس میں ایگزیکٹ کو 7 لاکھ ڈالر ہرجانے کا حکم دیا گیا مگر کمپنی کے وکیل کے مطابق یہ رقم ہنوز ملنا باقی ہے۔
جعلی ڈگریوں کے کاروبار میں ایگزیکٹ کی شمولیت 2009 میں بے نقاب ہوتے ہوتے رہ گئی جب امریکی ریاست مشی گن کی ایک خاتون نے اس کمپنی کی ملکیت میں چلنے والی دو ویب سائٹس ''بیلفرڈ ہائی اسکول'' اور ''بیلفرڈ یونیورسٹی'' پر مقدمہ دائر کردیا۔
مگر اس مقدمے کا مدعا علیہ جو سامنے آیا وہ ایگزیکٹ کمپنی نہیں بلکہ سلیم قریشی نامی ایک پاکستانی تھا جس نے دعویٰ کیا کہ وہ یہ ویب سائٹس اپنے اپارٹمنٹس سے چلاتا تھا۔ 3 سال سے زیادہ ہونے والی مقدمے کی اس سماعت میں سلیم قریشی صرف ایک ویڈیو بیان کے ذریعے نظروں کے سامنے آیا جس میں وہ کراچی کے ایک کمرے میں انتہائی کم روشنی میں موجود تھا۔ سلیم قریشی نے اپنی صفائی میں کیس لڑنے والے امریکی وکلا کو 4 لاکھ ڈالر فیس ادا کی جسے دبئی کے مختلف کرنسی ایکسچینج سٹورز کے ذریعے بھجوایا گیا۔ حال ہی میں ایک رپورٹر اس کا کراچی کا دیا گیا پتہ ڈھونڈنے میں ناکام ہوا۔
سلیم قریشی نے ایگزیکٹ کمپنی سے اپنے کسی بھی تعلق سے یکسر انکارکیا حالانکہ بیلفرڈ ہائی اسکول اوربیلفرڈ یونیورسٹی کے زیراستعمال میل باکسوں میں ایگزیکٹ ہیڈ کوارٹر کے پتے کو ''فارورڈنگ ایڈریس'' کے طور پر درج کیا گیا تھا۔ یہ مقدمہ 2012 میں ختم ہوا جب جج نے سلیم قریشی اور بیلفرڈ کو 22 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ تاہم کسی بھی مدعی کو کچھ بھی رقم موصول نہیں ہوئی۔ مضمون نگاری کے بزنس میں ایگزیکٹ کی مقابل کمپنی ''اسٹوڈنٹ نیٹ ورک ریورسز'' نے جب ایگزیکٹ کو دھوکہ دہی پر مبنی ویب سائٹ قرار دیا تو ایگزیکٹ نے اس پر 2009 میں مقدمہ کردیا مگراس کمپنی نے مقدمے کا جواب مقدمے سے دیا جس میں ایگزیکٹ کو 7 لاکھ ڈالر ہرجانے کا حکم دیا گیا مگر کمپنی کے وکیل کے مطابق یہ رقم ہنوز ملنا باقی ہے۔