پھیپھڑوں کے کینسر کے خلاف قوت مدافعت بڑھانے والی دوا تیار

نِوالومب نامی دوا انسانی جسم کے قدرتی دفاعی نظام کو کینسر والے خلیوں پر حملہ کرنے کے قابل بناتی ہے،محقیق

سرطان سب سے زیادہ مہلک کینسر ہے اورہرسال تقریبا ایک کروڑ ساٹھ لاکھ افراد اس مرض کے ہاتھوں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں،فوٹو فائل

لاہور:
ہسپانوی ماہرین نے ایسی دوا تیارکرنے کا دعویٰ کیا ہے جو پھیپڑوں کے کینسر میں مبتلا مریضوں میں قوت مدافعت کو بڑھا دیتی ہے۔

کینسر کے مرض پر کام کرنے والی 'امریکن سوسائٹی آف کلینیکل اونکولوجی' کے جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق انسانی جسم میں قدرتی طور پر یہ دفاعی صلاحیت ہوتی ہے کہ جس کے تحت وہ اپنے پیدا ہونے والے انفیکشن کا مقابلہ کرسکتا ہے اور یہ نظام ان حصوں پر بھی کارگر ہوتا ہے جو درست کام نہیں کررہے ہوتے لیکن کینسر کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ٹیومرز پی ڈی ایل 1 نامی ایک پروٹین پیدا کرتے ہیں جس میں دفاعی نظام کو بے بس کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ کینسر کی مختلف اقسام میں سے پھیپھڑوں کا کینسرسب سے زیادہ مہلک ہے، جس سے دنیا بھر میں ہرسال تقریباً ایک کروڑ 60 لاکھ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

اسپین سے تعلق رکھنے والے سائنسدان ڈاکٹر لوئز پاز ایرس کی سربراہی میں قائم بین الاقوامی ٹیم نے پھیپھڑے کے کینسر کے لئے اس سلسلے میں تیار کی گئی ایک دوا کو انتہائی مثبت اثرات کا حامل قراردیا ہے، 'نِوالومیب' نامی دواؤں کا مجموعہ سرطان زدہ خلیوں کو ہمارے جسم کے دفاعی نظام سے چُھپنے سے روکتا ہے اور یوں ہمارے دفاعی خلیے کینسر کے خلیوں پر حملہ کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ یورپ اورامریکا میں جن مریضوں پر اس دوا کے تجربات کئے گئے وہ دوسرے مریضوں کے مقابلے میں اوسطاً ایک سال زیادہ عرصے تک زندہ رہے۔


ڈاکٹر لوئز پاز ایرس کا کہنا ہے کہ نِوالومیب ادویات کی وہ پہلی قسم ہے جس نے پھیپھڑوں کے سرطان کے مریضوں میں اتنی زیادہ بہتری دکھائی ہے۔ اس تجربے کے نتائج انتہائی حوصلہ افزا ہیں۔ دوا کو تجرباتی بنیادوں پر استعمال کرانے والے برطانوی ڈاکٹر مارٹن فورسٹر کے مطابق وہ اس تجربے کے نتائج پر بہت پرجوش ہیں کیونکہ ان کے خیال میں پھیپھڑوں کے کینسر کے علاج میں یہ ہماری سوچ کو بالکل بدل کے رکھ دے گی۔

دوسری جانب کئی ماہرین کا خیال ہے کہ نِوالومیب سے متعلق کوئی رائے قائم کرنے سے قبل یہ جاننا بہت ضروری ہوگا کہ اس سے مدافعتی نظام میں تبدیلی کے کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور کن مریضوں پر اس کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔

واضح ر ہے کہ پھیپھڑوں کا سرطان سب سے زیادہ مہلک کینسر ہے اورہرسال تقریبا ایک کروڑ ساٹھ لاکھ افراد اس مرض کے ہاتھوں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
Load Next Story