اب انسانی سوچ سے چلنے والے ٹی وی بھی تیار
برطانوی انجینیئرز نے ایسا ہیڈ سیٹ تیارکیا ہے جو سوچنے پر ٹی وی چینل تبدیل کرسکتا ہے۔
دماغ سے ٹی وی چینل بدلنے کے لیے پہلے ٹی وی چینل کا نام10 سیکنڈ تک ذہن میں دوہرانا ہوتا ہے۔ فائل تصویر
لاہور:
اگر کوئی اتنا سست ہے کہ وہ ٹی وی کا ریموٹ بھی نہیں اٹھاسکتا تو اس کے لیے ایک اہم ایجاد پیش خدمت ہے جس میں صرف سوچ کی مدد سے ٹی وی چینل تبدیل کئے جاسکتے ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے نے ایسا ہیڈ سیٹ بنایا ہے جو دماغی طاقت سے چینل تبدیل کرسکتا ہے۔ ہیڈ سیٹ پہننے والے کو سوچ کے ذریعے چینل کے آئی پلیئر تک رسائی دیتا ہے، اس کے لیے دیکھنے والوں کو اپنے ذہن میں کسی ایک چینل پر توجہ دینی ہوتی ہے اور وہ چینل از خود منتخب ہوجاتا ہے۔ ہیڈ سیٹ میں لگے سینسر دماغی سرگرمی کونوٹ کرتے ہیں اور چینل دیکھنے کے لیے اس کے نام کو صرف 10 سینکنڈ تک ذہن میں سوچنا پڑتا ہے اور ٹی وی چینل از خود کھل جاتا ہے۔
جیسے ہی کوئی ہیڈ سیٹ پہن کر کسی چینل کے متعلق یا نمبر کے بارے میں سوچتا ہے تو سسٹم ذہن میں پیدا ہونے والی تبدیلی کو نوٹ کرتا ہے جو برقی سگنل کی صورت میں ہوتی ہے اور اس طرح ٹی وی چینل تبدیل ہوجاتا ہے۔ ہیڈ سیٹ تیار کرنے والے انجینیئرز کا کہنا ہے یہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے نے جب ہیڈسیٹ کو اپنے 10 ملازمین پر آزمایا تو انہوں نے سوچ کی لہروں سے اپنی پسند کے پروگرام دیکھنا شروع کر دیئے۔ ہیڈ سیٹ بنانے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت جلد آپ ریموٹ سے چینل تلاش کرنے کی بجائے اپنے ذہن میں کسی چینل کا سوچیں گے اور وہ چینل ٹی وی پر نمودار ہوجائے گا۔ اسی طرح ہیڈ سیٹ کی مدد سے کار میں بیٹھا شخص کسی ریڈیو چینل کا سوچے گا تو وہ چینل اسٹارٹ ہوجائے گا۔
اگر کوئی اتنا سست ہے کہ وہ ٹی وی کا ریموٹ بھی نہیں اٹھاسکتا تو اس کے لیے ایک اہم ایجاد پیش خدمت ہے جس میں صرف سوچ کی مدد سے ٹی وی چینل تبدیل کئے جاسکتے ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے نے ایسا ہیڈ سیٹ بنایا ہے جو دماغی طاقت سے چینل تبدیل کرسکتا ہے۔ ہیڈ سیٹ پہننے والے کو سوچ کے ذریعے چینل کے آئی پلیئر تک رسائی دیتا ہے، اس کے لیے دیکھنے والوں کو اپنے ذہن میں کسی ایک چینل پر توجہ دینی ہوتی ہے اور وہ چینل از خود منتخب ہوجاتا ہے۔ ہیڈ سیٹ میں لگے سینسر دماغی سرگرمی کونوٹ کرتے ہیں اور چینل دیکھنے کے لیے اس کے نام کو صرف 10 سینکنڈ تک ذہن میں سوچنا پڑتا ہے اور ٹی وی چینل از خود کھل جاتا ہے۔
جیسے ہی کوئی ہیڈ سیٹ پہن کر کسی چینل کے متعلق یا نمبر کے بارے میں سوچتا ہے تو سسٹم ذہن میں پیدا ہونے والی تبدیلی کو نوٹ کرتا ہے جو برقی سگنل کی صورت میں ہوتی ہے اور اس طرح ٹی وی چینل تبدیل ہوجاتا ہے۔ ہیڈ سیٹ تیار کرنے والے انجینیئرز کا کہنا ہے یہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے نے جب ہیڈسیٹ کو اپنے 10 ملازمین پر آزمایا تو انہوں نے سوچ کی لہروں سے اپنی پسند کے پروگرام دیکھنا شروع کر دیئے۔ ہیڈ سیٹ بنانے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت جلد آپ ریموٹ سے چینل تلاش کرنے کی بجائے اپنے ذہن میں کسی چینل کا سوچیں گے اور وہ چینل ٹی وی پر نمودار ہوجائے گا۔ اسی طرح ہیڈ سیٹ کی مدد سے کار میں بیٹھا شخص کسی ریڈیو چینل کا سوچے گا تو وہ چینل اسٹارٹ ہوجائے گا۔