شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستان کی شمولیت

شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت سے پاکستان اپنے مفادات کو ماسکو سے بیجنگ تک پھیلا سکتا ہے

شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم سے پاکستان وسطی ایشیاء سے منگولیا تک اقتصادی مواقع سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں آ گیا ہے۔ فوٹو : فائل

MIRAMSHAH:
پاکستان نے عالمی سطح پر اس وقت اہم کامیابی حاصل کی ' جب روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے جمعہ کے دن بھارت اور پاکستان کو شنگھائی تعاون کونسل میں شامل کرنے کا اعلان کیا۔ پاکستان کے ساتھ بھارت کو اس اہم تنظیم کا رکن بنایا گیا۔ شنگھائی تعاون کونسل (ایس سی او) جس میں چین اور روس کی بالادستی ہے جب کہ اس تنظیم کے دیگر اراکین میں وسطیٰ ایشیا کی سابق سوویت ریاستیں شامل ہیں۔

یہ تنظیم 2001ء میں قائم کی گئی جس میں پاکستان اور بھارت کی شمولیت کے بعد وسعت پیدا ہو گئی ہے۔ تنظیم میں پاکستان کی مکمل رکنیت کی توثیق تنظیم کے پندرھویں سربراہ اجلاس میں کی گئی جب کہ بھارت کو اس تنظیم کی رکنیت سے وسطیٰ ایشیاء کی ریاستوں کے توانائی کے ذخائر تک رسائی حاصل ہو جائے گی۔ کونسل کے سالانہ برسراہ اجلاس کا افتتاح روسی صدر نے پاکستان اور بھارت کو مکمل رکنیت دینے کے اعلان کے ساتھ کیا اور کہاکہ بیلا روس کو مبصر کا درجہ حاصل ہو گا جو کہ افغانستان' ایران اور منگولیا کو بھی حاصل ہے جب کہ آذربائیجان' آرمینیا' کمبوڈیا اور نیپال کو ''ڈائیلاگ پارٹنرز'' کے طور پر خوش آمدید کہا جائے گا۔

تنظیم کے اراکین نے امید ظاہر کی کہ ایران بھی جلد تنظیم کا مکمل رکن بن جائے گا لیکن اس سے قبل تہران کو اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے بین الاقوامی سمجھوتے پر پہنچنا ہو گا۔ صدر پیوٹن نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس خطے کو افغانستان کی صورت حال کی وجہ سے سلامتی کے لیے خطرات درپیش ہیں کیونکہ وہاں پر دہشتگردوں یک سرگرمیوں میں کمی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔


انھوں نے افغانستان سے منشیات کی اسمگلنگ کو بھی تشویش کا باعث قرار دیا۔ روسی لیڈر نے تنظیم کے اراکین کے مابین اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ پر بھی زور دیا۔ سربراہ اجلاس سے وزیراعظم نواز شریف نے بھی خطاب کیا اور انتہا پسندی' دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت پر زوردیا۔ انھوں نے کہا خطے کی صورت حال بہت سیمابی ہے اور پاکستان ہر قیمت پر انتہا پسندی کا خاتمہ چاہتا ہے اور وہ سرحدی سلامتی پر بھی بھرپور توجہ دے رہا ہے جو کہ ایس سی او کی پالیسی کے مطابق ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایس سی او کا فورم جنوبی ایشیا اور افغانستان میں امن و امان کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ علاقائی استحکام اقوام کی اقتصادی ترقی کے لیے بہت ضروری ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت سے پاکستان اپنے مفادات کو ماسکو سے بیجنگ تک پھیلا سکتا ہے اور اس خطے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے' گو اس تنظیم میںبھارت بھی شامل ہے لیکن یہاں وہ پاکستان کا راستہ روکنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

سارک تنظیم کی عدم فعالیت کی وجہ یہ ہے کہ اس تنظیم میں بھارت اپنے حجم اور طاقت کے بل بوتے پر کوئی فیصلہ نہیں ہونے دیتا جب کہ شنگھائی تعاون تنظیم میں روس اور چین جیسی عالمی قوتیں شامل ہیں جہاں بھارت من مانی نہیں کر سکتا ہے' یوں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم سے پاکستان وسطی ایشیاء سے منگولیا تک اقتصادی مواقع سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں آ گیا ہے۔
Load Next Story