کراچی اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کے باعث انڈیکس کی 2 حدیں بحال
کاروباری حجم منگل کی نسبت 32.13 فیصد زائد رہا اورمجموعی طور پر55 کروڑ15 لاکھ 38 ہزار510 حصص کے سودے ہوئے
کاروباری حجم منگل کی نسبت 32.13 فیصد زائد رہا اورمجموعی طور پر55 کروڑ15 لاکھ 38 ہزار510 حصص کے سودے ہوئے فوٹو: فائل
پی ٹی سی ایل کے مالیاتی نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی لسٹڈ کمپنیوں کا رزلٹ سیزن شروع ہونے، عیدالفطر کے بعد گیس ٹیرف میں اضافے کی خبروں پر پی اوایل اورگیس کمپنیوں کے علاوہ فرٹیلائزر سیکٹر میں خریداری سرگرمیاں بڑھنے کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں بدھ کواتارچڑھاؤ کے باوجود تیزی کی بڑی لہر رونما ہوئی جس سے انڈیکس کی 35500 اور35600 پوائنٹس کی دوحدیں بیک وقت بحال ہوگئیں۔
تیزی کے سبب67.36 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیںجبکہ حصص کی مالیت میں 46 ارب56 کروڑ77 لاکھ72 ہزار648 روپے کا اضافہ ہوگیا۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ نچلی قیمتوں پرمستحکم کمپنیوں میں سرمایہ کاری بڑھنے سے مارکیٹ میں بہتری رونما ہوئی حالانکہ ایک موقع پر16 پوائنٹس سے زائد کی مندی بھی رونما ہوئی۔ ٹریڈنگ کے دوران بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے75 لاکھ17 ہزار50 ڈالر اور این بی ایف سیز کی جانب سے1 لاکھ35 ہزار997 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا جبکہ اس دوران غیرملکیوں، مقامی کمپنیوں، میوچل فنڈز، انفرادی سرمایہ کاروں اوردیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر80 لاکھ26 ہزار681 ڈالرمالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جو مارکیٹ میں تیزی کا سبب بنی۔
تیزی کے باعث کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 252.86 پوائنٹس کے اضافے سے 35699.75 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 160.81 پوائنٹس کے اضافے سے 22246.46 اور کے ایم آئی30 انڈیکس271.10 پوائنٹس کے اضافے سے 59370.57 ہوگیا۔ کاروباری حجم منگل کی نسبت 32.13 فیصد زائد رہا اورمجموعی طور پر55 کروڑ15 لاکھ 38 ہزار510 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار380 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا۔
جن میں256 کے بھاؤ میں اضافہ، 105 کے داموں میں کمی اور19 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں یونی لیورفوڈز کے بھاؤ395 روپے بڑھ کر8595 روپے اور آئسلینڈ ٹیکسٹائل کے بھاؤ38 روپے بڑھ کر 802.99 روپے ہوگئے جبکہ باٹا پاکستان کے بھاؤ100 روپے کم ہوکر 3550 روپے اور ایکسائیڈ پاکستان کے بھاؤ 24.84 روپے کم ہوکر1064.16 روپے ہوگئے۔
تیزی کے سبب67.36 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیںجبکہ حصص کی مالیت میں 46 ارب56 کروڑ77 لاکھ72 ہزار648 روپے کا اضافہ ہوگیا۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ نچلی قیمتوں پرمستحکم کمپنیوں میں سرمایہ کاری بڑھنے سے مارکیٹ میں بہتری رونما ہوئی حالانکہ ایک موقع پر16 پوائنٹس سے زائد کی مندی بھی رونما ہوئی۔ ٹریڈنگ کے دوران بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے75 لاکھ17 ہزار50 ڈالر اور این بی ایف سیز کی جانب سے1 لاکھ35 ہزار997 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا جبکہ اس دوران غیرملکیوں، مقامی کمپنیوں، میوچل فنڈز، انفرادی سرمایہ کاروں اوردیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر80 لاکھ26 ہزار681 ڈالرمالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جو مارکیٹ میں تیزی کا سبب بنی۔
تیزی کے باعث کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 252.86 پوائنٹس کے اضافے سے 35699.75 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 160.81 پوائنٹس کے اضافے سے 22246.46 اور کے ایم آئی30 انڈیکس271.10 پوائنٹس کے اضافے سے 59370.57 ہوگیا۔ کاروباری حجم منگل کی نسبت 32.13 فیصد زائد رہا اورمجموعی طور پر55 کروڑ15 لاکھ 38 ہزار510 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار380 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا۔
جن میں256 کے بھاؤ میں اضافہ، 105 کے داموں میں کمی اور19 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں یونی لیورفوڈز کے بھاؤ395 روپے بڑھ کر8595 روپے اور آئسلینڈ ٹیکسٹائل کے بھاؤ38 روپے بڑھ کر 802.99 روپے ہوگئے جبکہ باٹا پاکستان کے بھاؤ100 روپے کم ہوکر 3550 روپے اور ایکسائیڈ پاکستان کے بھاؤ 24.84 روپے کم ہوکر1064.16 روپے ہوگئے۔