عالمی بینک کی ایف بی آر میں مربوط آئی ٹی سسٹم متعارف کرانیکی تجویز

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے موجودہ کمپیوٹر اپنی وارنٹی پوری کرچکے ہیں اور اب آئی ٹی سسٹم میں مسائل آرہے ہیں


Irshad Ansari July 16, 2015
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے موجودہ کمپیوٹر اپنی وارنٹی پوری کرچکے ہیں اور اب آئی ٹی سسٹم میں مسائل آرہے ہیں، ذرائع فوٹو: فائل

KARACHI: ملک میں ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے عالمی بینک نے ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالر کی لاگت سے پاکستان کو ایف بی آر میں ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کیلیے انٹیگریٹڈ (مربوط)آئی ٹی سسٹم متعارف کروانے کی تجویز دیدی ہے جبکہ عالمی بینک نے برطانیہ کے ترقیاتی ادارے(ڈی ایف آئی ڈی)اورحکومت پاکستان کے تعاون سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) میں ڈیٹا ویئر ہاؤس اور ڈیٹا سینٹر کے قیام کیلیے اسٹڈی مکمل کرلی ہے۔

اس ضمن میں ذرائع نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے موجودہ کمپیوٹر اپنی وارنٹی پوری کرچکے ہیں اور اب آئی ٹی سسٹم میں مسائل آرہے ہیں جس کے باعث یہ جدید نوعیت کا اسٹیٹ آف دی آرٹ ڈیٹا ویئر ہاؤس اور ڈیٹا سینٹر قائم کیا جارہا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کے دورے پر آیا ہوا عالمی بینک کا جائزہ مشن اپنی اسٹڈی اور فیزیبلٹی رپورٹ تیار کرکے واپس جاچُکا ہے اور اس منصوبے پر ستمبر 2015 سے کام شروع ہوگا۔

ذرائع کے مطابق عالمی بینک نے اپنی فیزیبلٹی اسٹڈی میں بتایا ہے کہ ایف بی آر میں ڈیٹا ویئر ہاؤس اور ڈیٹا سینٹر کے قیام پر مجموعی طور پر ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالر لاگت آئے گی جس میں سے چالیس لاکھ ڈالر برطانیہ کا ترقیاتی ادارہ(ڈی ایف آئی ڈی یوکے)بغیر سود کے بطور امداد فراہم کرے گا جو کہ اس منصوبے کیلیے ایک تحفہ ہوگی جبکہ باقی رقم عالمی بینک کی جانب سے پاکستان کو بطور قرضہ فراہم کی جائے گی۔ ذرائع بتایا کہ مذکورہ منصوبے پر ستمبر سے کام شروع ہوگا اور ٹینڈرز جاری ہوں گے۔

ذرائع نے بتایا کہ عالمی بینک کے تعاون سے شروع کیے جانے والے منصوبے کے تحت ایف بی آر کے موجودہ کمپیوٹرز کی جگہ نئے کمپیوٹر لگائے جائیں گے اس کے علاوہ جدید نوعیت کا ڈیٹا سینٹر قائم کیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ عالمی بینک کے تعان سے قائم کیے جانے والے اس ڈیٹا ویئر ہاؤس کیلیے تمام یوٹیلٹی کمپنیوں، اداروں، موٹر وہیکل رجسٹریشن اتھارٹیز، ایئر لائنز، بینکوں، نادرا، ایکسائز ڈپارٹمنٹ و دیگر وفاقی و صوبائی اداروں سے ڈیٹا حاصل کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ ایف بی آر اور اس کے فیلڈ فارمشنز میں جدید نوعیت کے حامل کمپیوٹر آلات و مشینری نصب کی جائے گی جس کا بنیادی مقصد آٹومیشن کو فروغ دینا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ صوبائی رجسٹرار سمیت پراپرٹی کی خریدو فروخت سے متعلقہ اداروں کو قانونی طور پر پابند کیا جائے گا کہ صوبوں میں جو بھی جائیداد کی خریدوفروخت ہو خواہ ان جائیدادوں کی رجسٹریاں ہوں یا انتقال ہو اس کی ایک کاپی لازمی طور پر ایف بی آر کو بھجوائی جائے۔ ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ اقدام کا بنیادی مقصد ملکی معشیت کو دستاویزی (ڈاکومنٹڈ)بنانا ہے۔

ایف بی آر کے مذکورہ افسر نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح بڑھانے کیلیے ایک جامع مضبوط ڈیٹا بینک قائم کرنے جارہا ہے اور اس ڈیٹا بینک کیلیے مختلف ذرائع سے ڈیٹا اکھٹا کررہا ہے اور یہ اقدام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہوگا تاہم اس بارے میں چاروں صوبوں کو بھی آن بورڈ لیا جائے گا اور اس ڈیٹا بینک اور ڈیٹا ویئر ہاؤس کے قیام سے صوبوں کے وسائل بھی بڑھیں گے اور صوبے بھی اس ڈیٹا بینک سے استفادہ اٹھا کر اپنے ریونیو کو بڑھا سکیں گے۔

ذرائع نے بتایا کہ تمام صوبائی رجسٹرار اور دیگر متعلقہ ادارے اس بات کے پابند ہو ں گے کہ جو بھی پراپرٹی کی خریدوفروخت ہوگی اس کی تفصیلات اور رجسٹری کی ایک کاپی ایف بی آر کو بھجوائی جائے گی اور اس ڈیٹا کی مدد سے ایف بی آر کو ٹیکس سے باہر لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے اور لوگوں کی آمدنی و اخراجات کی تفصیلات کے حصول میں مدد ملے گی۔

ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ تمام اداروں سے ڈیٹا حاصل کرکے ڈیٹا ویئر ہاؤس میں اپ ڈیٹ کیا جائے گا اور اس ڈیٹا ویئر ہاؤس کی بنیاد پر جدید نوعیت کا سافٹ ویئر تیار کیا جائے گا جس سافٹ ویئر کی مدد سے قابل ٹیکس آمدنی رکھنے کے باوجود ٹیکس نہ دینے والے اور اپنی مطلوبہ صلاحیت و آمدنی کے مطابق ٹیکس نہ دینے والوں کا سُراغ لگا کر ان کیخلاف کارروائی کی جائیگی۔