جرمن فضائی کمپنی لفتھانزا کی تجارتی مال برداری کیلئے ڈرونز استعمال کرنے کی تیاریاں
مال برداری کیلیے ڈرونز کے استعمال سے وہ مسائل بھی کم ہوں گے جو پائلٹوں کی ہڑتالوں سے پیدا ہوتے ہیں، سربراہ لفتھانزا
لفتھانزا کی سالانہ آمدنی 30 ارب یورو سے بھی زیادہ ہے فوٹو: فائل
جرمنی کی قومی اور دنیا کی سب سے بڑی فضائی کمپنی لفتھانزا نے تجارتی مال برداری کے لیے ہوائی جہازوں کے بجائے ڈرونز استعمال کرنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔
جرمن ویب سائیٹ کے مطابق فضائی کمپنی لفتھانزا نے جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مال برداری کرنے والے نجی ڈرونز استعمال کرنے کے لئے اپنے ملازمین کی تربیت شروع کردی ہے، اس کے علاوہ ان ڈرونز کی تکنیکی دیکھ بھال کی مشقیں بھی زور و شور سے جاری ہیں۔
جرمنی سمیت کئی یورپی ملکوں میں ہوائی اڈوں کی فضاؤں میں ڈرون طیارے اڑانے کی ممانعت ہے۔ اس کے علاوہ ایک قانون یہ بھی ہے کہ کوئی بھی ڈرون طیارہ ہر وقت اسے اڑانے والے پائلٹ کی نظروں میں رہنا چاہیے۔ ان قوانین کی وجہ سے کارگو کمپنیوں کے لئے سامان کی ترسیل کے لیے ڈرون طیاروں کا استعمال ناممکن ہے، اس کے باوجود لفتھانزا کے چیف ایگزیکٹو کارسٹن شپوہر کو توقع ہے کہ مستقبل قریب میں تجارتی مال برداری کے لیے نجی ڈرونز کا استعمال بہت ترویج پائے گا اور فضائی کمپنیوں کے وہ مسائل بھی کسی حد تک کم ہو جائیں گے جو مال بردار پروازوں کے پائلٹوں کی ہڑتالوں کے باعث پیدا ہوتے ہیں۔
واضح رہے کہ لفتھانزا کی کمرشل پروازوں میں سفر کرنے والے مسافروں کی سالانہ تعداد لاکھوں میں ہے اور اس ادارے کی سالانہ آمدنی 30 ارب یورو سے بھی زیادہ ہے۔
جرمن ویب سائیٹ کے مطابق فضائی کمپنی لفتھانزا نے جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مال برداری کرنے والے نجی ڈرونز استعمال کرنے کے لئے اپنے ملازمین کی تربیت شروع کردی ہے، اس کے علاوہ ان ڈرونز کی تکنیکی دیکھ بھال کی مشقیں بھی زور و شور سے جاری ہیں۔
جرمنی سمیت کئی یورپی ملکوں میں ہوائی اڈوں کی فضاؤں میں ڈرون طیارے اڑانے کی ممانعت ہے۔ اس کے علاوہ ایک قانون یہ بھی ہے کہ کوئی بھی ڈرون طیارہ ہر وقت اسے اڑانے والے پائلٹ کی نظروں میں رہنا چاہیے۔ ان قوانین کی وجہ سے کارگو کمپنیوں کے لئے سامان کی ترسیل کے لیے ڈرون طیاروں کا استعمال ناممکن ہے، اس کے باوجود لفتھانزا کے چیف ایگزیکٹو کارسٹن شپوہر کو توقع ہے کہ مستقبل قریب میں تجارتی مال برداری کے لیے نجی ڈرونز کا استعمال بہت ترویج پائے گا اور فضائی کمپنیوں کے وہ مسائل بھی کسی حد تک کم ہو جائیں گے جو مال بردار پروازوں کے پائلٹوں کی ہڑتالوں کے باعث پیدا ہوتے ہیں۔
واضح رہے کہ لفتھانزا کی کمرشل پروازوں میں سفر کرنے والے مسافروں کی سالانہ تعداد لاکھوں میں ہے اور اس ادارے کی سالانہ آمدنی 30 ارب یورو سے بھی زیادہ ہے۔