گزشتہ 5 برس میں بھارتی فضائیہ کے 20 طیارے حادثے کے شکار ہو کر تباہ ہوئے رپورٹ
بھارتی ایئرفورس ( آئی اے ایف) کے مطابق لڑاکا طیاروں کی تباہی میں ہوابازوں کی ناقص تربیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا
بھارتی ایئرفورس ( آئی اے ایف) کے مطابق لڑاکا طیاروں کی تباہی میں ہوابازوں کی ناقص تربیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، فوٹو:فائل
لاہور:
بھارت دنیا میں اسلحہ خریدنے والے ممالک میں سرِ فہرست ہے لیکن دوسری جانب اس کے عسکری نظام میں کئی خامیاں سامنے آتی رہتی ہیں جن میں ایک تازہ رپورٹ بھارتی طیاروں کی تباہی کے متعلق شائع ہوئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ صرف 5 سال میں بھارتی فضائیہ کے 20 طیارے حادثے کا شکار ہوکر تباہ ہوچکے ہیں جس کی عسکری اور فضائیہ کے ماہرین مختلف وجوہات بتاتے ہیں۔
پائلٹ کی ناقص تربیت:
انڈین ایئرفورس کے ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے پر بتایا کہ بھارت کے پاس بنیادی تربیت کے طیارے نہیں اور نہ ہی جیٹ طیاروں کے جدید سیمولیٹر ( تربیتی نظام) موجود ہیں اور حالیہ برسوں میں اس رحجان میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
انسانی غلطیوں کا کردار:
بھارتی آڈیٹر جنرل کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے طیاروں میں انسانی غلطیوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، 1991 سے97 میں یہ شرح 41 فیصد تھی جو 2010 سے 2013 میں بڑھ کر 51 فیصد ہوگئی جن میں پائلٹ، فضائی اور زمینی عملے سب کی غلطیاں شامل ہیں۔
پرانے مگ طیارے:
بھارتی فضائیہ کے سابق سربراہ پی وی نائیک کے مطابق مگ طیاروں کے بازو ڈیلٹا شکل کے ہوتے ہیں اور ان کے ڈیزائن میں دھچکے کی قوت یا انرشیا زیادہ ہوتا ہے جس سے طیارے کریش ہورہے ہیں جب کہ اس کی پرانی ٹیکنالوجی حادثوں کی اہم وجہ ہے۔ فضائیہ حکام کے مطابق انسانی غلطی کو روکنے کے لیے نئے سیمولیٹر اور تربیتی سافٹ ویئرز استعمال کیے جارہے ہیں۔
بھارتی وزارتِ دفاع کے مطابق تباہ ہونے والے طیاروں میں 3 سخوئی، 12 مگ اور 5 جیگوار طیارے شامل ہیں۔ فضائیہ کے افسر کے مطابق مگ 21 اور مگ 27 طیارے 1960 اور 70 کے عشرے میں خریدے گئے تھے اور اس سال ان کے 3 اسکواڈرن کو فضائیہ کے استعمال سے باہر کیا جارہا ہے۔
بھارتی فضائیہ کے ترجمان ایس ایس بردی کا کہنا ہےکہ جنگی طیاروں کے حادثے روکنے کے لیے بہت سے اہم اقدامات اٹھائے گئے ہیں جن میں حادثوں کی تحقیق، تجزیاتی مطالعہ اور رپورٹنگ کوبہتر بنانا شامل ہے اس کےعلاوہ حادثوں کی وجوہ معلوم کرنے کے لیے خصوصی کمیٹیاں بھی قائم کی گئی ہیں جن کی روشنی میں ہوابازوں کی تربیت کی جائے گی۔
بھارت دنیا میں اسلحہ خریدنے والے ممالک میں سرِ فہرست ہے لیکن دوسری جانب اس کے عسکری نظام میں کئی خامیاں سامنے آتی رہتی ہیں جن میں ایک تازہ رپورٹ بھارتی طیاروں کی تباہی کے متعلق شائع ہوئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ صرف 5 سال میں بھارتی فضائیہ کے 20 طیارے حادثے کا شکار ہوکر تباہ ہوچکے ہیں جس کی عسکری اور فضائیہ کے ماہرین مختلف وجوہات بتاتے ہیں۔
پائلٹ کی ناقص تربیت:
انڈین ایئرفورس کے ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے پر بتایا کہ بھارت کے پاس بنیادی تربیت کے طیارے نہیں اور نہ ہی جیٹ طیاروں کے جدید سیمولیٹر ( تربیتی نظام) موجود ہیں اور حالیہ برسوں میں اس رحجان میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
انسانی غلطیوں کا کردار:
بھارتی آڈیٹر جنرل کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے طیاروں میں انسانی غلطیوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، 1991 سے97 میں یہ شرح 41 فیصد تھی جو 2010 سے 2013 میں بڑھ کر 51 فیصد ہوگئی جن میں پائلٹ، فضائی اور زمینی عملے سب کی غلطیاں شامل ہیں۔
پرانے مگ طیارے:
بھارتی فضائیہ کے سابق سربراہ پی وی نائیک کے مطابق مگ طیاروں کے بازو ڈیلٹا شکل کے ہوتے ہیں اور ان کے ڈیزائن میں دھچکے کی قوت یا انرشیا زیادہ ہوتا ہے جس سے طیارے کریش ہورہے ہیں جب کہ اس کی پرانی ٹیکنالوجی حادثوں کی اہم وجہ ہے۔ فضائیہ حکام کے مطابق انسانی غلطی کو روکنے کے لیے نئے سیمولیٹر اور تربیتی سافٹ ویئرز استعمال کیے جارہے ہیں۔
بھارتی وزارتِ دفاع کے مطابق تباہ ہونے والے طیاروں میں 3 سخوئی، 12 مگ اور 5 جیگوار طیارے شامل ہیں۔ فضائیہ کے افسر کے مطابق مگ 21 اور مگ 27 طیارے 1960 اور 70 کے عشرے میں خریدے گئے تھے اور اس سال ان کے 3 اسکواڈرن کو فضائیہ کے استعمال سے باہر کیا جارہا ہے۔
بھارتی فضائیہ کے ترجمان ایس ایس بردی کا کہنا ہےکہ جنگی طیاروں کے حادثے روکنے کے لیے بہت سے اہم اقدامات اٹھائے گئے ہیں جن میں حادثوں کی تحقیق، تجزیاتی مطالعہ اور رپورٹنگ کوبہتر بنانا شامل ہے اس کےعلاوہ حادثوں کی وجوہ معلوم کرنے کے لیے خصوصی کمیٹیاں بھی قائم کی گئی ہیں جن کی روشنی میں ہوابازوں کی تربیت کی جائے گی۔