انوار احسن صدیقی حقیقی ترقی پسند تھےمقررین
ادبی ریفرنس سے ڈاکٹر اسلم فرخی،سحرانصاری،صبا اکرام، جعفر احمد ودیگر کا خطاب
SWAT:
انوار احسن صدیقی ایک سنجیدہ اور صحیح معنوں میں حقیقی ترقی پسند تھے جن کے حافظے کی، اسلوب کی اور دانشوری کہ داد دینی پڑتی ہے۔
کچھ لوگ تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں اور کچھ لوگ تاریخ کو بسر کرتے ہیں، انوار احسن صدیقی کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنھوں نے تاریخ کو بسر کیا، ان کے کے ناولوں کی پذیرائی کا سبب یہ ہے کہ جو سامنے کے مسائل وہ ناولوں میں بیان کرتے تھے وہ منظر عام پر نہیں آ پاتے تھے۔
ان خیالات کا اظہار آرٹس کونسل کے زیر اہتمام منعقدہ ادبی ریفرنس بیادِ انوار احسن صدیقی کے موقع پر تقریب کے شرکا نے کیا، تقریب سے ڈاکٹر اسلم فرخی، صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ، پروفیسر سحر انصاری، ڈاکٹر جعفر احمد، علی حیدر ملک، ڈاکٹر آصف فرخی اور صبا اکرام نے کیا، پروفیسر سحر انصاری نے کہا کہ انوار احسن صدیقی جیسے ناولسٹ اور نثر نگار کم ہی نظر آتے ہیں، ان کی کتاب میں پورا ایک عہد سمٹ آیا ہے، علی حیدر ملک نے کہا کہ انوار احسن صدیقی نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا بلکہ کھری اور مختصر بات کیا کرتے تھے۔
انوار احسن صدیقی ایک سنجیدہ اور صحیح معنوں میں حقیقی ترقی پسند تھے جن کے حافظے کی، اسلوب کی اور دانشوری کہ داد دینی پڑتی ہے۔
کچھ لوگ تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں اور کچھ لوگ تاریخ کو بسر کرتے ہیں، انوار احسن صدیقی کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنھوں نے تاریخ کو بسر کیا، ان کے کے ناولوں کی پذیرائی کا سبب یہ ہے کہ جو سامنے کے مسائل وہ ناولوں میں بیان کرتے تھے وہ منظر عام پر نہیں آ پاتے تھے۔
ان خیالات کا اظہار آرٹس کونسل کے زیر اہتمام منعقدہ ادبی ریفرنس بیادِ انوار احسن صدیقی کے موقع پر تقریب کے شرکا نے کیا، تقریب سے ڈاکٹر اسلم فرخی، صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ، پروفیسر سحر انصاری، ڈاکٹر جعفر احمد، علی حیدر ملک، ڈاکٹر آصف فرخی اور صبا اکرام نے کیا، پروفیسر سحر انصاری نے کہا کہ انوار احسن صدیقی جیسے ناولسٹ اور نثر نگار کم ہی نظر آتے ہیں، ان کی کتاب میں پورا ایک عہد سمٹ آیا ہے، علی حیدر ملک نے کہا کہ انوار احسن صدیقی نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا بلکہ کھری اور مختصر بات کیا کرتے تھے۔