وزیرستان آپریشن کی مشروط حمایت پرتیارہیں خرم دستگیر

عمران کو مینڈیٹ دیتے ہیں مگر وہ بتائیں مذاکرات کے لیے کس کوچنیں گے، زاہد خان

متفقہ امن کمیٹی بنائی جائے، ہمایوں مہمند اورامتیاز گل کی لائیو ود طلعت میں گفتگو۔ فوٹو: فائل

مسلم لیگ (ن) کے رہنما خرم دستگیر نے کہاکہ دہشتگردی صرف ڈرون حملوں کی وجہ سے نہیں کی جارہی ۔

ہم وزیرستان آپریشن کی مشروط حمایت کو تیار ہیں۔ ایکسپریس نیوز کے پروگرام لائیو ود طلعت میں اینکرپرسن طلعت حسین سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ، داتا گنج بخش ہجویریؒ اور دیگر بزرگوں کے مزاروں پر حملے کرنے والے مسلمان نہیں، ان کے چہروں سے نقاب ہٹیں گے تو بہت کچھ سامنے آئے گا۔


اے این پی کے رہنما سینیٹر زاہد خان نے کہاکہ مذاکرات ہونے چاہئیں لیکن اہم بات یہ ہے کہ مذاکرات ہونے کس سے ہیں ۔ہم نے صوفی محمد سے امن معاہدہ کیا لیکن جب وہ سوات گئے تو ان کو کہاگیا کہ تم سے کس نے کہاتھا کہ امن معاہدہ کرو، تحریک انصاف کو مینڈیٹ دیتے ہیں کہ وہ مذاکرات کرلیں، عمران خان جس سے مرضی جاکر مذاکرات کرلیں، ہمیں امن چاہیے لیکن یہ بتائیں کہ وہ مذاکرات کے لیے کس کوچنیں گے ۔دس ماہ قبل بھی طالبان سے مذاکرات ہوئے، ان سے کہاکہ جو لوگ پاکستان پر حملے کرتے ہیں ان کی مذمت کردیں لیکن انھوں نے ہماری بات نہیں مانی۔

تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ دہشتگردی کی اصل وجوہات کا بھی علم ہونا چاہیے، ایک امن کمیٹی بنائی جانی چاہیے جس کو ساری سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہو۔ ہمیں اپنے گھر کو محفوظ بنانا ہے۔ تجزیہ کار امتیاز گل نے کہاکہ ہمیں طالبان اور دہشتگردوں میں فرق کو سمجھنا ہوگا اور مذاکرات ان سے ہونے چاہئیں جو ملک کے قانون کو مانتے ہوں، طالبان سے پوچھنا ہوگا کہ انکی جدوجہد اور پاکستان میں کارروائیوں کی وجہ کیا ہے ، جب تک قومی اتفاق رائے سے امن کمیٹی قائم نہیں ہوگی، مطلوبہ نتائج نہیں ملیں گے۔
Load Next Story