چین میں ہولناک دھماکوں سے زلزلے کی سرگرمی ریکارڈ ہوئی سائنس دان
دوسرے دھماکا پہلے دھماکے سے 7 گنا زیادہ شدت کا تھا جو 21 ٹن ٹرائی نائٹرو ٹولونی کے برابر تھا، سائنسدان
دوسرے دھماکا پہلے دھماکے سے 7 گنا زیادہ شدت کا تھا جو 21 ٹن ٹرائی نائٹرو ٹولونی کے برابر تھا، سائنسدان، فوٹو: اے ایف پی
KARACHI:
چین میں ہونے والے ہولناک اور تباہ کن دھماکوں سے نہ صرف سیکڑوں جانیں ضائع ہوئیں بلکہ ساتھ ہی متعدد عمارتیں اور گاڑیاں بھی تباہ ہوگئیں جب کہ سائنس دانوں کا کہنا ہےکہ ان دھماکوں سے زلزلے کی سرگرمی بھی نوٹ کی گئی۔
چین کے زلزلہ پیما مرکز کے حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز پیٹرول اسٹوریج میں ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں زلزلے جیسی سرگرمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کی کئی سائنسی وجوہات بھی سامنے آئی ہیں۔
سائنس دانوں کے مطابق پہلا دھماکا 3 ٹن ٹرائی نائٹرو ٹولونی کے برابر تھا یہ پیلے رنگ کا کرسٹلائن عنصر ہے جسے بڑے دھماکوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جب کہ دوسرے دھماکا پہلے دھماکے سے 7 گنا زیادہ شدت کا تھا جو 21 ٹن ٹرائی نائٹرو ٹولونی کے برابر تھا۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ دھماکے کی شدت جائے وقوعہ سے کئی کلومیٹردور تک محسوس کی گئی اور قریبی رہنے والے لوگ دھماکوں کی شدت سے خوف اور دہشت کی تصویر بن گئے جب کہ چینی زلزلہ پیما کے حکام کا کہنا تھا کہ پہلے دھماکے سے زمین کے اندر زلزلے کی شدت 2.3 اور دوسرے دھماکے سے زلزلے کی شدت 2.9 تھی۔
دوسری جانب امریکی جیولوجیکل سروے نے بھی اس دھماکے سے زلزلے کی سرگرمی کی تصدیق کی ہے۔ برطانوی اخبار کے مطابق امریکی زلزلہ پیما مرکز کے سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ کسی دھماکے کی وجہ سے زلزلہ جیسی سرگرمی محسوس کی گئی ہو۔
چین میں ہونے والے ہولناک اور تباہ کن دھماکوں سے نہ صرف سیکڑوں جانیں ضائع ہوئیں بلکہ ساتھ ہی متعدد عمارتیں اور گاڑیاں بھی تباہ ہوگئیں جب کہ سائنس دانوں کا کہنا ہےکہ ان دھماکوں سے زلزلے کی سرگرمی بھی نوٹ کی گئی۔
چین کے زلزلہ پیما مرکز کے حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز پیٹرول اسٹوریج میں ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں زلزلے جیسی سرگرمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کی کئی سائنسی وجوہات بھی سامنے آئی ہیں۔
سائنس دانوں کے مطابق پہلا دھماکا 3 ٹن ٹرائی نائٹرو ٹولونی کے برابر تھا یہ پیلے رنگ کا کرسٹلائن عنصر ہے جسے بڑے دھماکوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جب کہ دوسرے دھماکا پہلے دھماکے سے 7 گنا زیادہ شدت کا تھا جو 21 ٹن ٹرائی نائٹرو ٹولونی کے برابر تھا۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ دھماکے کی شدت جائے وقوعہ سے کئی کلومیٹردور تک محسوس کی گئی اور قریبی رہنے والے لوگ دھماکوں کی شدت سے خوف اور دہشت کی تصویر بن گئے جب کہ چینی زلزلہ پیما کے حکام کا کہنا تھا کہ پہلے دھماکے سے زمین کے اندر زلزلے کی شدت 2.3 اور دوسرے دھماکے سے زلزلے کی شدت 2.9 تھی۔
دوسری جانب امریکی جیولوجیکل سروے نے بھی اس دھماکے سے زلزلے کی سرگرمی کی تصدیق کی ہے۔ برطانوی اخبار کے مطابق امریکی زلزلہ پیما مرکز کے سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ کسی دھماکے کی وجہ سے زلزلہ جیسی سرگرمی محسوس کی گئی ہو۔