اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے بھی الیکشن کمیشن کے ارکان کے استعفوں کا مطالبہ کردیا
جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے بعد الیکشن کمیشن کے چاروں ارکان متنازع ہوچکے ہیں، سید خورشید شاہ
جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے بعد الیکشن کمیشن کے چاروں ارکان متنازع ہوچکے ہیں، سید خورشید شاہ، فوٹو: فائل
SUKKUR:
پیپلزپارٹی نے تحریک انصاف کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے خلاف متحد ہونا کا فیصلہ کیا ہے جب کہ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے الیکشن کمیشن کے چاروں صوبائی ارکان کے استعفے کا مطالبہ کردیا ہے۔
پیپلزپارٹی کے رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ اور تحریک انصاف کے وائس چیرمین خورشید شاہ کےدرمیان اسلام آباد میں ملاقات ہوئی جس میں ملک کی سیاسی صورتحال اور الیکشن کمیشن کے صوبائی ارکان کے استعفوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جب کہ اس موقع پر پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے الیکشن کمیشن کے حوالے سے تحریک انصاف کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے ارکان سے استعفوں کا مطالبہ کردیا۔
ملاقات کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ہمارا اور پی ٹی آئی کا مؤقف یکساں ہیں، جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے بعد الیکشن کمیشن کے چاروں ارکان متنازع ہوچکے ہیں اور ان کی موجودگی کا اب کوئی جواز نہیں لہٰذا انہیں مستعفیٰ ہوجانا چاہیے۔ انہوں نے ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے اندر ریاست قائم کرنا خطرناک ہے یہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ دیکھے ملک میں کیا ہورہا ہے۔
دوسری جانب شاہ محمود قریشی نے کہا کہ شفاف الیکشن سب کی ضرورت ہے لیکن الیکشن کمیشن کے ارکان کا رویہ منصافانہ نہیں اور یہ ارکان پارلیمنٹ سے بالاتر نہیں ہیں اس لیے انہیں اپنی ذمے داریاں نبھانے میں ناکامی پرمستعفیٰ ہوجانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات اور ضمنی انتخابات بھی متنازع ہورہے ہیں۔
https://www.dailymotion.com/video/x3367aq_shah-mehmood-khursheed-shah_news
پیپلزپارٹی نے تحریک انصاف کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے خلاف متحد ہونا کا فیصلہ کیا ہے جب کہ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے الیکشن کمیشن کے چاروں صوبائی ارکان کے استعفے کا مطالبہ کردیا ہے۔
پیپلزپارٹی کے رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ اور تحریک انصاف کے وائس چیرمین خورشید شاہ کےدرمیان اسلام آباد میں ملاقات ہوئی جس میں ملک کی سیاسی صورتحال اور الیکشن کمیشن کے صوبائی ارکان کے استعفوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جب کہ اس موقع پر پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے الیکشن کمیشن کے حوالے سے تحریک انصاف کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے ارکان سے استعفوں کا مطالبہ کردیا۔
ملاقات کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ہمارا اور پی ٹی آئی کا مؤقف یکساں ہیں، جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے بعد الیکشن کمیشن کے چاروں ارکان متنازع ہوچکے ہیں اور ان کی موجودگی کا اب کوئی جواز نہیں لہٰذا انہیں مستعفیٰ ہوجانا چاہیے۔ انہوں نے ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے اندر ریاست قائم کرنا خطرناک ہے یہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ دیکھے ملک میں کیا ہورہا ہے۔
دوسری جانب شاہ محمود قریشی نے کہا کہ شفاف الیکشن سب کی ضرورت ہے لیکن الیکشن کمیشن کے ارکان کا رویہ منصافانہ نہیں اور یہ ارکان پارلیمنٹ سے بالاتر نہیں ہیں اس لیے انہیں اپنی ذمے داریاں نبھانے میں ناکامی پرمستعفیٰ ہوجانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات اور ضمنی انتخابات بھی متنازع ہورہے ہیں۔
https://www.dailymotion.com/video/x3367aq_shah-mehmood-khursheed-shah_news