وزیراعظم نوازشریف کی برطانوی ہم منصب سے ملاقات عمران فاروق قتل کیس پر بات چیت

ملاقات میں عمران فاروق کیس کے سلسلے میں دونوں ممالک کے ایک دوسرے کے ساتھ مکمل تعاون پر بھی اتفاق کیا گیا، ذرائع

ملاقات میں عمران فارق کیس کے سلسلے میں دونوں ممالک کے ایک دوسرے کے ساتھ مکمل تعاون پر بھی اتفاق کیا گیا، ذرائع، فوٹو: اے پی پی

وزیراعظم نوازشریف اور برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں عمران فاروق قتل کیس سے متعلق بھی بات چیت کی گئی۔



وزیراعظم نوازشریف نے اپنے برطانوی ہم منصب ڈیوڈ کیمرون سے لندن میں ان کی رہائش گاہ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں ملاقات کی جس میں دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالك كے درمیان مجموعی دو طرفہ تعلقات پر اطمینان كا اظہار كیا اور باہمی دلچسپی كے مختلف شعبوں میں تعاون كو مزید تقویت دینے كے طریقوں پر بات چیت كی۔ وزرائے اعظم کی ملاقات میں افغانستان كی صورتحال سمیت عالمی اور علاقائی اہمیت كے امور پر بھی تبادلہ خیال كیا گیا جب کہ اس موقع پر وزیراعظم نوازشریف نے اس امر كو اجاگر كیا كہ برطانیہ میں بڑی تعداد میں پاكستانی برادری كی موجودگی دونوں ممالك كے درمیان ایک پل كا كردار ادا كرتی ہے۔



وزیراعظم نے اپنے وژن كی روشنی میں تمام ہمسایوں كے ساتھ اچھے تعلقات كی پاكستان كی خواہش كا اعادہ كیا انہوں نے دہشت گردی كیخلاف جنگ میں پاكستان كے اہم كردار اور قربانیوں كا بھی ذكر كیا۔ برطانوی وزیراعظم نے پرامن ہمسائیگی كیلئے پاكستان كی پالیسیوں كا خیر مقدم كرتے ہوئے شدت پسندی اور دہشت گردی كے خلاف جنگ میں پاكستان كے كردار كی تعریف كی۔





ذرائع کےمطابق وزیراعظم نوازشریف اور برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے درمیان ملاقات میں عمران فاروق قتل کیس پر بھی بات چیت ہوئی جب کہ کیس کے سلسلے میں دونوں ممالک کے ایک دوسرے کے ساتھ مکمل تعاون پر بھی اتفاق کیا گیا۔

https://www.dailymotion.com/video/x37mqnx_nawaz-sharif-david-cameron_news






دوسری جانب پاکستان نے ملک میں تخریبی کارروائیوں میں بھارت کے ملوث ہونے کا معاملہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اٹھانے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستانی متعلقہ حکام بھارتی مداخلت کا معاملہ مؤثر انداز میں اٹھانے کے لیے لائحہ عمل تیار کررہے ہیں، پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات میں بھارتی مداخلت کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں جس کی بنا پر پاکستان نے تخریبی سرگرمیوں میں بھارت کے ملوث ہونے کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھانے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔



سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق حکام کا کہنا تھا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانا چاہتا ہے اور بھارتی مداخلت کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھانے کا مقصد اسے جارحیت سے روکنا ہے۔ حکام نے کہا کہ پاکستان نے کبھی غیر ریاستی عناصر کو بھارت نہیں بھیجا بلکہ ملک کو دہشت گرد عناصر سے پاک کرنے کی مہم شروع کررکھی ہے۔ حکام کا کہنا تھا کہ بھارت کےعلاوہ افغانستان کی سرزمین کو بھی پاکستان کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے اور سانحہ بڈھ بیر میں افغان عناصر کے ملوث ہونے کے ثبوتوں سے افغان قیادت کو بھی آگاہ کیا جائے گا۔



سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق حکام نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا یہ ایک جامع تقریر ہوگی جس میں تنازعہ کشمیر، افغانستان کے مسئلے، پاکستان کی انسداد دہشت گردی کے حوالے سے کوششوں، چین کے ساتھ تعلقات اور جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی تفصیلی ذکر ہوگا۔



واضح رہے کہ وزیراعظم نوازشریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے روانہ ہوئے ہیں جہاں وہ برطانیہ میں اہم حکام سے ملاقاتیں کریں گے جس کے بعد جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکا روانہ ہوں گے جہاں وہ 30 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔

https://www.dailymotion.com/video/x37mq27_pm-speech-for-gen-assembly_news
Load Next Story