بجلی کا شارٹ فال جعلی اور لوڈشیڈنگ جان بوجھ کر کی جاتی ہے نیپرا
سرکاری تھرمل پاور یونٹس کو جان بوجھ کربند رکھاگیا ہے جن میں بعض پلانٹس تو 3 سال سے بند پڑے ہیں، نیپرا
70 فیصد صارفین کو درست بل نہیں دیئے جاتے، نیپرا کا انکشاف فوٹو: فائل
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے بجلی کی طلب اور پیداوار کے درمیان شارٹ فال کو جعلی اور اس سلسلے میں لوڈ شیڈنگ کو بھی حکام کی جان بوجھ کر کارروائی قرار دیا ہے۔
نیپرا کی سالانہ رپورٹ برائے 15-2014 کے مطابق کارکردگی کی بنیاد پر آئیسکو پہلے اور کے الیکٹرک دوسرے نمبر پر ہے۔ گیپکو تیسرے، کیسکو چوتھے، فیسکو پانچویں، میپکو چھٹے، حیسکو ساتویں، لیسکو آٹھویں، پیسکو نوویں جب کہ سکھر الیکٹرک پاور کمپنی دسویں نمبر پر ہے۔
بجلی کے بلوں کے حوالے سے سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بجلی کا نیا میٹر سسٹم بھی ناکارہ ہے اور 70 فیصد صارفین کو درست بل نہیں دیئے جاتے۔
رپورٹ میں وزارت پانی و بجلی کی کارکردگی ناقص قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ملک میں بجلی کا شارٹ فال اور لوڈ شیڈنگ جان بوجھ کر کی جاتی رہی ہے، سرکاری تھرمل پاور پلانٹس کی انتظامیہ نے مشینوں اور پاور یونٹس کو جان بوجھ کر بند رکھا۔ بعض پاور پلانٹس کی مشینیں 3 سال سے بند ہیں۔
نیپرا نے دریائے سندھ پر بجلی کے پیداواری یونٹ جناح ہائیڈرو پروجیکٹ کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ 17 ارب خرچ کر دینے کے باوجود منصوبے میں تکنیکی خرابیاں پیدا ہو گئیں، منصوبے کو مکمل ہوئے 3 برس ہوگئے ہیں لیکن یہ مطلوبہ مقدار میں بجلی پیدا نہیں کر سکا اور منصوبے سے 3 برسوں میں صرف 72 کروڑ یونٹ بجلی پیدا ہوئی۔
https://www.dailymotion.com/video/x3802vm_nepra_news
نیپرا کی سالانہ رپورٹ برائے 15-2014 کے مطابق کارکردگی کی بنیاد پر آئیسکو پہلے اور کے الیکٹرک دوسرے نمبر پر ہے۔ گیپکو تیسرے، کیسکو چوتھے، فیسکو پانچویں، میپکو چھٹے، حیسکو ساتویں، لیسکو آٹھویں، پیسکو نوویں جب کہ سکھر الیکٹرک پاور کمپنی دسویں نمبر پر ہے۔
بجلی کے بلوں کے حوالے سے سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بجلی کا نیا میٹر سسٹم بھی ناکارہ ہے اور 70 فیصد صارفین کو درست بل نہیں دیئے جاتے۔
رپورٹ میں وزارت پانی و بجلی کی کارکردگی ناقص قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ملک میں بجلی کا شارٹ فال اور لوڈ شیڈنگ جان بوجھ کر کی جاتی رہی ہے، سرکاری تھرمل پاور پلانٹس کی انتظامیہ نے مشینوں اور پاور یونٹس کو جان بوجھ کر بند رکھا۔ بعض پاور پلانٹس کی مشینیں 3 سال سے بند ہیں۔
نیپرا نے دریائے سندھ پر بجلی کے پیداواری یونٹ جناح ہائیڈرو پروجیکٹ کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ 17 ارب خرچ کر دینے کے باوجود منصوبے میں تکنیکی خرابیاں پیدا ہو گئیں، منصوبے کو مکمل ہوئے 3 برس ہوگئے ہیں لیکن یہ مطلوبہ مقدار میں بجلی پیدا نہیں کر سکا اور منصوبے سے 3 برسوں میں صرف 72 کروڑ یونٹ بجلی پیدا ہوئی۔
https://www.dailymotion.com/video/x3802vm_nepra_news