عالمی یوم امن

پاکستان سمیت دنیا بھر میں 21 ستمبر کو یوم امن منایا گیا، عام طور پر اس قسم کے عالمی مسائل پر جو دن منائے جاتے ہیں

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

HARARE:
پاکستان سمیت دنیا بھر میں 21 ستمبر کو یوم امن منایا گیا، عام طور پر اس قسم کے عالمی مسائل پر جو دن منائے جاتے ہیں وہ محض رسمی کارروائی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ امن آج کا نہیں بلکہ ہر دور کا مسئلہ رہا ہے، امن کا حزب اختلاف ہمیشہ جنگ رہا ہے اور جنگ کا پیٹرن اگرچہ ہر دور میں مختلف رہا ہے لیکن اس کا نتیجہ ہر دور میں انسانی جانوں کا اتلاف تباہی اور بربادی کے علاوہ کچھ نہیں رہا۔ ماضی میں خاص طور پر ملوکیت اور شخصی اور خاندانی حکمرانیوں کے دور میں جنگوں کی اصل وجہ ملک گیری یعنی دوسروں کے ملکوں پر قبضہ رہی ہے اور عام طور پر طاقتور ملک کمزور ملکوں کے خلاف جنگ کرتے رہے ہیں۔

جسے ہم جنگل کے قانون کا نام بھی دے سکتے ہیں، ماضی کے ملازمین کے دورکی جنگیں ہوں یا حال کے ترقی یافتہ دورکی جنگیں ہوں، فریقین کی طرف سے لڑنے والی طاقتیں افواج ہی ہوتی تھیں اور بدقسمتی یہ ہے بلکہ اس حوالے سے سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ افواج خواہ ان کا تعلق کسی ملک سے کیوں نہ ہو غریب طبقات ہی پر مشتمل ہوتی تھیں اور ہوتی ہیں یعنی اس کا واضح مطلب یہی ہوسکتا ہے کہ یہ جنگیں غریبوں کے خلاف غریبوں کی جنگیں رہی ہیں جب کہ ان جنگوں کے قائدین کا تعلق عموماً بالادست طبقات سے رہا ہے۔

جس طرح جنگیں ہردورکی ضرورت رہیں اسی طرح امن بھی ہردورکی ضرورت رہا ہے۔ دور سلاطین میں جنگوں کی بڑی وجہ بہ ظاہرکمزور ملکوں پر قبضہ نظر آتا ہے لیکن دراصل اس قسم کے قبضوں کا اصل مقصد وسائل اور دولت پر قبضہ ہی رہا ہے ۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کا مقصد نوآبادیوں پر اور عالمی منڈیوں پر قبضہ بتایا جاتا ہے لیکن اس مبینہ مقصد کے پس منظر پر اگر نظر ڈالی جائے تو یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ جنگ خواہ کسی دورکی ہو اس کا بنیادی مقصد کسی نہ کسی شکل میں وسائل اور دولت پر قبضہ ہی رہا ہے۔ اس حوالے سے المیہ یہی ہے کہ وسائل اور دولت کے حصول کی اس جنگ میں فریقین کی طرف سے فوج کے نام پر غریب طبقات ہی کو استعمال کیا گیا یہ عمل آج بھی جاری ہے بس جنگوں کی قیادت تبدیل ہوتی رہی ہے۔

جنگ کے ساتھ ہمیشہ امن ملزوم رہا ہے کہا جاتا ہے امن کی اہمیت وہی جانتا ہے جو جنگوں سے گزرا ہے۔ بدقسمتی سے بیسویں صدی دنیا کی جنگوں کی تاریخ میں بدترین صدی کی حیثیت رکھتی ہے اس صدی میں ویت نام، کوریا، عراق اور افغانستان کی خونریز جنگیں ہی نہیں ہوئیں بلکہ وہ دو عالمی جنگیں بھی ہوئیں جن میں انسان لاکھوں کی تعداد میں نہیں بلکہ کروڑوں کی تعداد میں مارے گئے۔ امن کی خواہش ہر انسان کا تہذیبی سرمایہ ہے دنیا کا ہر شخص امن چاہتا ہے 21 ستمبر کو ہر سال دنیا بھر میں یوم امن منانے کا مقصد بھی دنیا بھر میں امن کا قیام ہے لیکن تسلسل سے منائے جانے والے اس یوم امن کے باوجود دنیا امن سے کیوں محروم ہے؟یہ ایک ایسا منطقی سوال ہے ۔


جس کے جواب کے لیے جنگوں کے اسباب تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔دنیا کے ہر مذہب کے ماننے والوں کا دعویٰ یہی ہوتا ہے کہ ان کا مذہب امن اور محبت کی ہدایت کرتا ہے۔ اس دعوے کو جھٹلایا تو نہیں جاسکتا لیکن سوال ذہن میں یہی آتا ہے کہ صلیبی جنگوں کی وجہ کیا تھی؟ 1947 میں دنیا کی تاریخ کی جو بدترین خونریزی ہوئی جس میں 22 لاکھ انسان مارے گئے۔ اس کی وجہ کیا تھی؟ 70 سال سے فلسطین میں جو خونریزی ہو رہی ہے اس کی وجہ کیا ہے؟ 66 سال سے کشمیر میں جو قتل و غارت کا سلسلہ جاری ہے اس کا سبب کیا ہے؟ اگرچہ ان سارے سوالوں کا جواب مذہبی منافرت ہی آتا ہے لیکن مذہب خدا کو سمجھنے کا ایک وسیلہ ہے تو خدا سر تا پا محبت کا نام ہے پھر اس وسیلے یعنی مذہب کو انسان نے نفرت کا ذریعہ کیوں بنالیا ہے؟

انسان کو ایک دوسرے سے محبت کرنے کے جتنے جواز چاہئیں نفرت کرنے کے لیے بھی اس کے پاس اس سے زیادہ بہانے موجود ہوتے ہیں مثلاً رنگ نسل ذات پات دین دھرم وغیرہ وغیرہ ہر دور میں ایسے انسان موجود رہے ہیں جو انسانوں کے درمیان نفرت اور تعصب کی آبیاری کرتے رہے ہیں۔کیا کسی دور میں بھی نفرت اور تعصبات کا کوئی مثبت پہلو سامنے آیا ہے؟جب اس کا جواب ہمیشہ نفی ہی میں آتا رہا ہے توکیا نفرتوں تعصبات کی حمایت کی جاسکتی ہے؟ ہم نے یہاں امن کی خواہش کے حوالے سے امن دشمنی کے چند اسباب کی مثال دی ہے ورنہ امن دشمنی کی ادنیٰ سے لے کر ''اعلیٰ سطح'' تک اتنی وجوہات ہیں کہ ان کا احاطہ ممکن نہیں۔

ہم نے بارہا انھیں کالموں میں اس بات کی نشان دہی کی ہے کہ جدید اور مہذب دنیا میں امن دشمن طاقتیں بہت مضبوط ہیں، اس حوالے سے اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ جنگ کا ایک اہم رکن ہتھیار ہیں۔ ہتھیار آسمان سے نہیں ٹپکتے بلکہ بنائے جاتے ہیں ،کیا ایک چھوٹے سے چھوٹے ہتھیار سے لے کر ایٹم بم جیسے سب بڑے ہتھیاروں کا مقصد انسان کی جان لینے کے علاوہ کچھ اور ہوسکتا ہے؟ اگر نہیں تو پھر ساری دنیا ہتھیاروں سے کیوں اٹی پڑی ہوئی ہے؟ ساری دنیا خصوصاً ترقی یافتہ دنیا میں ہتھیاروں کی صنعت اس قدر وسیع کیوں ہے؟امن کی خواہش کرنے والے اور دنیا بھر کو یوم امن کی ترغیب فراہم کرنے والے مغربی ملک ہتھیاروں کی صنعت کے خلاف اقدامات کیوں نہیں کرتے؟

کیا عالمی سطح پر یوم امن منانے کا ڈرامہ کرنے والے ترقی یافتہ مغربی ملک اس حقیقت سے باخبر ہیں کہ امن صرف خواہشوں سے قائم نہیں ہوتا بلکہ امن کے قیام کے لیے جنگ کے ہر سبب کا خاتمہ کرنا ضروری ہے۔ جن میں سے ایک بڑا سبب ہتھیاروں کی صنعت ہے جس سے اربوں کھربوں ڈالر کمائے جا رہے ہیں۔ کیا اس صنعت کو امن کے خواہش مند بند کرسکتے ہیں؟ نہیں کیوں کہ یہ حصول دولت کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے اور حصول دولت ماضی کی سلاطینی جنگوں کا بھی بڑا مقصد رہا ہے اور موجودہ جمہوری حکومتوں کا بھی ایک بڑا مقصد ہے۔ پھر امن کہاں سے آئے گا؟
Load Next Story