وزیردفاعی پیداوارنے طیارہ حادثے میں سابق ایئرچیف مارشل کی شہادت سے متعلق رپورٹ مسترد کردی

مصحف علی میر کا طیارہ پرواز کے وقت مکمل ٹھیک تھا اور موسم کی خرابی کے باعث حادثے کا شکار ہوا، رانا تنویر

مصحف علی میر کا طیارہ پرواز کے وقت مکمل ٹھیک تھا اور موسم کی خرابی کے باعث حادثے کا شکار ہوا، رانا تنویر۔ فوٹو:فائل

وفاقی وزیر دفاعی پیداوار رانا تنویرحسین نے ناکارہ طیارے کے باعث سابق ایئرچیف مارشل مصحف علی میر اور 10 افسران کی شہادت سے متعلق پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پیش کردہ رپورٹ مسترد کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق گزشتہ روز پبلک اکاؤنٹس کی ذیلی کمیٹی میں پیش کی جانے والی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ 2003 میں سابق ایئرچیف مارشل مصحف علی میر جس طیارہ حادثے میں شہید ہوئے وہ ناکارہ اور سرپلس تھا جو اپنی اڑان کی مدت پوری کرچکا تھا جب کہ ایئرفورس حکام نے حادثے کو پائلٹ کی غلطی اور موسم کی خرابی قرار دیا تھا تاہم وزیرپیداوار رانا تنویر حسین کا کہنا ہے کہ سابق ایئرچیف کا طیارہ پرواز کے وقت مکمل ٹھیک تھا اور موسم کی خرابی کے باعث طیارہ حادثے کا شکارہوا تھا۔


رانا تنویر حسین کا کہنا تھا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پیش کردہ آڈیٹر رپورٹ میں مینڈیٹ سے بڑھ کر طیارے کے فنی پہلوؤں پر بات کی گئی جب کہ آڈٹ پیرا وزیراعظم کی طیارے کی منظوری کا لیٹر نہ ملنے کی وجہ سے بنا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ترکی نے پاکستان سے 52 مشاق طیارے خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے جب کہ جے ایف 17 کی صلاحیت ایف 16 سے کم نہیں۔

واضح رہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں گزشتہ روز آڈیٹر رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ایئر چیف مارشل مصحف علی میر کیلیے خریدا گیا ایئرکرافٹ ناقص تھا، 1994 میں یہ ایئر فورس کے حوالے کیا گیا جب کہ یہ طیارہ پہلے نیوی اور پھر پی آئی اے کو آفر کیا گیا مگر انھوں نے طیارہ لینے سے صاف انکار کردیا تھا۔
Load Next Story