کینیڈا نے شام اور عراق میں داعش کے خلاف کارروائی میں شامل جنگی طیارے واپس بلالئے
کینیڈا کی افواج عراق میں کرد باغیوں کو فوجی تربیت فراہم کرتی رہیں گی، وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو
داعش کے خلاف کینیڈا کے ذمہ دارانہ طریقے سے کردار ادا کرنے کے عزم پر قائم ہوں، جسٹن ٹروڈو فوٹو: فائل
KARACHI:
کینیڈا کے نو منتخب وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو نے تصدیق کی ہے کہ اب ان کے ملک کے جنگی طیارے امریکی سربراہی میں عراق اور شام میں داعش کے خلاف فضائی حملوں کا مزید حصہ نہیں بنیں گے۔
کینیڈا کے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی کے بعد اپنی پہلی نیوز کانفرنس میں جسٹن ٹوڈر نے کہا کہ کینیڈا کے 6 سی ایف 18 طیارے امریکی مشن کے ساتھ داعش کے خلاف بمباری کررہے ہیں اور یہ طیارے اگلے سال مارچ تک وہاں رہیں گے جبکہ کینیڈا کے 70 فوجی شمالی عراق میں کردوں کو فوجی تربیت فراہم کررہے ہیں۔
جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ کینیڈا کے ان طیاروں کو واپس طلب کیا جا رہا ہے جو شام اور عراق میں داعش کے خلاف امریکا کی سربراہی میں فضائی کارروائی میں شامل اتحاد کا حصہ ہیں تاہم ان کی جانب سے فی الحال واپسی کا وقت نہیں بتایا گیا ہے۔ انہوں نے اپنی کامیابی کے چند گھنٹوں بعد امریکی صدر باراک اوباما سے ٹیلیفونک گفتگو کے بارے بتاتتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک داعش کے خلاف کینیڈا کے ذمہ دارانہ طریقے سے کردار ادا کرنے کے عزم پر قائم ہے لیکن براک اوباما ان کی جانب سے انتخابی مہم میں جنگی کارروائیوں کے خاتمے کے ضمن میں کیے گئے وعدوں کو سمجھتے ہیں۔
دوسری جانب غیر ملکی خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ نو منتخب وزیر اعظم کینیڈا کے فوجی تربیت کے ماہرین کو واپس نہیں بلوائیں گے اور انہیں عراق میں ہی رہنے دیاجائے گا۔
واضح رہے کہ جسٹن ٹروڈو نے انتخابی مہم کے دوران داعش کے خلاف اپنے طیارے واپس بلانے اور رواں سال 25 ہزار شامی پناہ گزینوں کو پناہ دینے کا وعدہ کیا تھا جب کہ سابق وزیراعظم اسٹیفن ہارپر نے نا صرف ایسا کرنے سے انکار کردیا تھا بلکہ اس معاملے پر ان کا موقف خاصا سخت تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنی کابینہ میں 50 فیصد خواتین اور 50 فیصد مرد کی شمولیت کا منصوبہ پیش کیا ہے۔
کینیڈا کے نو منتخب وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو نے تصدیق کی ہے کہ اب ان کے ملک کے جنگی طیارے امریکی سربراہی میں عراق اور شام میں داعش کے خلاف فضائی حملوں کا مزید حصہ نہیں بنیں گے۔
کینیڈا کے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی کے بعد اپنی پہلی نیوز کانفرنس میں جسٹن ٹوڈر نے کہا کہ کینیڈا کے 6 سی ایف 18 طیارے امریکی مشن کے ساتھ داعش کے خلاف بمباری کررہے ہیں اور یہ طیارے اگلے سال مارچ تک وہاں رہیں گے جبکہ کینیڈا کے 70 فوجی شمالی عراق میں کردوں کو فوجی تربیت فراہم کررہے ہیں۔
جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ کینیڈا کے ان طیاروں کو واپس طلب کیا جا رہا ہے جو شام اور عراق میں داعش کے خلاف امریکا کی سربراہی میں فضائی کارروائی میں شامل اتحاد کا حصہ ہیں تاہم ان کی جانب سے فی الحال واپسی کا وقت نہیں بتایا گیا ہے۔ انہوں نے اپنی کامیابی کے چند گھنٹوں بعد امریکی صدر باراک اوباما سے ٹیلیفونک گفتگو کے بارے بتاتتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک داعش کے خلاف کینیڈا کے ذمہ دارانہ طریقے سے کردار ادا کرنے کے عزم پر قائم ہے لیکن براک اوباما ان کی جانب سے انتخابی مہم میں جنگی کارروائیوں کے خاتمے کے ضمن میں کیے گئے وعدوں کو سمجھتے ہیں۔
دوسری جانب غیر ملکی خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ نو منتخب وزیر اعظم کینیڈا کے فوجی تربیت کے ماہرین کو واپس نہیں بلوائیں گے اور انہیں عراق میں ہی رہنے دیاجائے گا۔
واضح رہے کہ جسٹن ٹروڈو نے انتخابی مہم کے دوران داعش کے خلاف اپنے طیارے واپس بلانے اور رواں سال 25 ہزار شامی پناہ گزینوں کو پناہ دینے کا وعدہ کیا تھا جب کہ سابق وزیراعظم اسٹیفن ہارپر نے نا صرف ایسا کرنے سے انکار کردیا تھا بلکہ اس معاملے پر ان کا موقف خاصا سخت تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنی کابینہ میں 50 فیصد خواتین اور 50 فیصد مرد کی شمولیت کا منصوبہ پیش کیا ہے۔