بزرگ شہریوں یتیموں اور بیواؤں کے مقدمات کو ترجیح دینے کا فیصلہ

فاضل چیف جسٹس نے یہاں ہدایت کی ہے کہ ایسے مقدمات کی فائلوں کو علیحدہ رنگ دیا جائے

چیف جسٹس نے روسٹر برانچ کو ہدایت کی ہے کہ ایسے شہری جن کی عمر 65 سال سے زائد ہو، بیوہ خواتین اور ایسے بچے جن کے والدین انتقال کرچکے ہوں ان کے مقدمات کو دوسرے مقدمات پر ترجیح دی جائے۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس مشیرعالم نے حکم دیا ہے کہ بزرگ شہریوں ، بیوائوں اور یتیموں کے مقدمات علیحدہ کرکے انھیں ترجیح دی جائے اور ان کے مقدمات کی فائلوں کو مختلف رنگ دیا جائے ۔

فاضل چیف جسٹس نے روسٹر برانچ کو ہدایت کی ہے کہ ایسے شہری جن کی عمر 65سال سے زائد ہو، وہ خواتین جو بیوہ ہیں ، اس کے علاوہ ایسے بچے جن کے والدین انتقال کرچکے ہوں ان کے مقدمات کو دوسرے مقدمات پر ترجیح دی جائے، فاضل چیف جسٹس نے ان افراد کوبھی ہدایت کی ہے کہ وہ بھی ایک درخواست کے ذریعے عدالت کو اپنے کوائف سے آگاہ کریں تاکہ عدالت ان کے بارے میں فیصلہ کرکے مقدمے کو فاسٹ ٹریک میں شامل کرنے کی ہدایت کرسکے ، جسٹس مشیرعالم نے ہدایت کی ہے کہ جب اس سلسلے کے کسی مقدمے کوایک بار ترجیح دے دی جائے تو پھر اس مقدمے کو روسٹر برانچ ہر ہفتے عدالت میں سماعت کے لیے پیش کریگی اور اس کی ترجیح مخصوص ہوجائیگی ۔


فاضل چیف جسٹس نے یہاں ہدایت کی ہے کہ ایسے مقدمات کی فائلوں کو علیحدہ رنگ دیا جائے تاہم اگر یہ رنگ سرخ ہوتو زیادہ بہتر ہے تاکہ دیگر فائلوں کے ساتھ یہ رنگ علیحدہ سے جج صاحبان کی توجہ خود بخود اپنی جانب مبذول کرالے، اس حوالے سے متعلقہ شعبوں کوسرکلر جاری کردیا گیا ہے جن میں عدالتوں کے ریڈرز، روسٹر برانچز کے انچارجز اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری بھی شامل ہیں ۔

واضح رہے کہ سندھ ہائیکورٹ میں پیر کا دن پہلے سے ہی وراثت اور ایسے معاملات کے لیے ہی مختص تھا اور زیادہ تر سنگل بینچ انکی سماعت کرتے تھے لیکن 2007میں جنرل پرویز مشرف کی جانب سے عدلیہ پر شب خون مارے جانے کے بعد سندھ ہائیکورٹ کا انتظامی ڈھانچہ بھی انتہائی متاثر ہوا، بعدازاں ججوں کی کمی کے باعث عام مقدمات کے ساتھ ساتھ سینئر شہریوں ، یتیموں ، بیوائوں اورپنشنروں کے مقدمات بھی متاثر ہوئے ، شہریوں اور صحافیوں کو مقدمات کے متعلق معلومات میں دشواریاں پیش آنے لگیں ۔
Load Next Story