پاکستان پریمیئر لیگ 30 غیر ملکی کرکٹرز کو شامل کرنے کا فیصلہ
تشکیل شدہ پانچوں ٹیموں میں کم از کم ایک ’’سپراسٹار‘‘ کی شمولیت یقینی بنائی جائے گی.
گورننگ بورڈ میٹنگ میں ٹی20ورلڈ کپ میں ٹیم کی کارکردگی، مینجمنٹ کی رپورٹس، ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے امکانات و دیگرمعاملات پربھی غورہوگا. فوٹو: فائل
پاکستان پریمیئر لیگ کا انعقاد آئندہ سال مارچ میں کرانے کی کوششوں میں تیزی آ گئی۔
30 غیر ملکی کرکٹرز کو شامل کرتے ہوئے 5 ٹیمیں تشکیل دی جائینگی' ہر اسکواڈ میں کم از کم ایک ''سپر اسٹار'' کی شمولیت یقینی بنائی جائے گی، گورننگ باڈی کے اجلاس میں دیگر معاملات پر غور کرنے کے ساتھ پی پی ایل کے حوالے سے پریذینٹیشن بھی دی جائیگی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کی گورننگ باڈی کا اجلاس منگل کو ایبٹ آباد میں ہوگا، چیئرمین ذکااشرف کی سربراہی میٹنگ میں چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد، ڈی جی جاوید میانداد، ڈائریکٹر گیمز ڈیولپمنٹ انتخاب عالم، چیف فنانشل آفیسر بدر ایم خان، اسلام آباد، فیصل آباد، ایبٹ آباد، کوئٹہ، سیالکوٹ ریجنز کرکٹ ایسوسی ایشنز کے صدور اور دیگر حکام شرکت کرینگے۔
اس موقع پر پاکستان پریمیئر لیگ کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت کا امکان ہے۔ ایک سال قبل دیکھے گئے خواب کو تعبیر دینے کیلیے تیزی سے منصوبہ بندی شروع کر دی گئی ہے،اس ضمن میں کام کرنے والی کمیٹی ایونٹ کا مارچ میں انعقاد ممکن بنانے کیلیے مختلف معاملات جلد طے کرنے کی کوشش کر رہی ہے' کراچی میں انٹرنیشنل ورلڈ الیون کیخلاف میچز کے پُر امن انعقاد اور عوام کی بھرپور پذیرائی نے بورڈ حکام کا حوصلہ بڑھا دیا جس کے بعد ویران میدان پھر سے آباد کرنے کیلیے باقاعدہ حکمت عملی وضع کی جا رہی ہے۔
نمائندہ'' ایکسپریس'' فواد حسین کے مطابق اس مقصد کیلیے ڈائریکٹر جنرل پی سی بی جاوید میانداد کی زیرسربراہی کام کرنیوالی کمیٹی نے انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو پاکستان لانے کیساتھ یہ ہدف بھی مقرر کیاکہ صوبوں کی نمائندگی کرنیوالی 5 ٹیموں میں سے ہر ایک میں ٹوئنٹی 20 کرکٹ کا کوئی نہ کوئی ''سپراسٹار'' ضرور شامل ہو، ذرائع کے مطابق ہراسکواڈ میں اے گریڈ کرکٹر کی شمولیت کیلیے بات چیت جاری ہے' کچھ بڑے کھلاڑیوں سے براہ راست رابطے ہوئے جبکہ دیگر کے ایجنٹ معاملات طے کر رہے ہیں۔ بورڈ آفیشل نے کھلاڑیوں کے نام ظاہر کرنے کو نامناسب قرار دیا تاہم یہ ضرور کہاکہ ان میں ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ کی فاتح ویسٹ انڈین ٹیم کے پلیئرز بھی شامل ہیں،انھوں نے یہ بھی کہا کہ سیکیورٹی کوئی مسئلہ نہیں، امید ہے کہ ''سپراسٹارز'' کو پاکستان آ کر کھیلنے کیلیے راضی کر لیں گے۔
دیکھنا یہ ہے کہ معاوضہ انھیں قابل قبول اور پی پی ایل کے دوران ان کا کوئی انٹرنیشنل ایونٹ نہ ہورہا ہو۔ انٹرنیشنل کرکٹرز کو کراچی میں لانے والے آرگنائزر بدر رفاعی اور سرور سلمان بٹ بورڈ کے ساتھ بطور کنسلٹنٹ کام کر رہے ہیں۔ رفاعی کی رواں ماہ آئی سی سی حکام سے ملاقات متوقع ہے جس میں وہ پی پی ایل کے حوالے سے بات کرینگے، سرور سلمان منگل کو گورننگ بورڈ کے اجلاس میں پریذینٹیشن دیتے ہوئے ارکان کو ایونٹ کی منصوبہ بندی سے آگاہ کرینگے۔ ذرائع کے مطابق پی پی ایل میں دیگر غیر ملکی لیگز کی طرح فرنچائز ٹیمیں شریک ہونگی۔
ایک آفیشل نے بتایاکہ کھلاڑیوں کی دستیابی یقینی بنانے کیلیے دیگر ممالک کے کرکٹ بورڈز کو بھی اعتماد میں لینے کی کوشش کی جائیگی، یہ خیال بھی رکھنا ہوگا کہ ایونٹ کا شیڈول فیوچر ٹور پروگرام میں شامل کسی سیریز سے متصادم نہ ہو۔ دریں اثناگورننگ بورڈ کے اجلاس میں دیگر امور بھی زیر بحث آئینگے، ذرائع کے مطابق ٹوئنٹی20ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کی کارکردگی، ٹیم مینجمنٹ کی رپورٹس، قومی ٹیم کے دورئہ بھارت، ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے امکانات، ڈومیسٹک نظام میں بہتری اور شیڈول میں تبدیلی سمیت مختلف معاملات پر غور کیاجائیگا، گورننگ بورڈ کے اراکین کی تعداد میں اضافہ اور ان کی عہدوں کی مدت بڑھانے پر بھی بات ہوگی۔
30 غیر ملکی کرکٹرز کو شامل کرتے ہوئے 5 ٹیمیں تشکیل دی جائینگی' ہر اسکواڈ میں کم از کم ایک ''سپر اسٹار'' کی شمولیت یقینی بنائی جائے گی، گورننگ باڈی کے اجلاس میں دیگر معاملات پر غور کرنے کے ساتھ پی پی ایل کے حوالے سے پریذینٹیشن بھی دی جائیگی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کی گورننگ باڈی کا اجلاس منگل کو ایبٹ آباد میں ہوگا، چیئرمین ذکااشرف کی سربراہی میٹنگ میں چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد، ڈی جی جاوید میانداد، ڈائریکٹر گیمز ڈیولپمنٹ انتخاب عالم، چیف فنانشل آفیسر بدر ایم خان، اسلام آباد، فیصل آباد، ایبٹ آباد، کوئٹہ، سیالکوٹ ریجنز کرکٹ ایسوسی ایشنز کے صدور اور دیگر حکام شرکت کرینگے۔
اس موقع پر پاکستان پریمیئر لیگ کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت کا امکان ہے۔ ایک سال قبل دیکھے گئے خواب کو تعبیر دینے کیلیے تیزی سے منصوبہ بندی شروع کر دی گئی ہے،اس ضمن میں کام کرنے والی کمیٹی ایونٹ کا مارچ میں انعقاد ممکن بنانے کیلیے مختلف معاملات جلد طے کرنے کی کوشش کر رہی ہے' کراچی میں انٹرنیشنل ورلڈ الیون کیخلاف میچز کے پُر امن انعقاد اور عوام کی بھرپور پذیرائی نے بورڈ حکام کا حوصلہ بڑھا دیا جس کے بعد ویران میدان پھر سے آباد کرنے کیلیے باقاعدہ حکمت عملی وضع کی جا رہی ہے۔
نمائندہ'' ایکسپریس'' فواد حسین کے مطابق اس مقصد کیلیے ڈائریکٹر جنرل پی سی بی جاوید میانداد کی زیرسربراہی کام کرنیوالی کمیٹی نے انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو پاکستان لانے کیساتھ یہ ہدف بھی مقرر کیاکہ صوبوں کی نمائندگی کرنیوالی 5 ٹیموں میں سے ہر ایک میں ٹوئنٹی 20 کرکٹ کا کوئی نہ کوئی ''سپراسٹار'' ضرور شامل ہو، ذرائع کے مطابق ہراسکواڈ میں اے گریڈ کرکٹر کی شمولیت کیلیے بات چیت جاری ہے' کچھ بڑے کھلاڑیوں سے براہ راست رابطے ہوئے جبکہ دیگر کے ایجنٹ معاملات طے کر رہے ہیں۔ بورڈ آفیشل نے کھلاڑیوں کے نام ظاہر کرنے کو نامناسب قرار دیا تاہم یہ ضرور کہاکہ ان میں ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ کی فاتح ویسٹ انڈین ٹیم کے پلیئرز بھی شامل ہیں،انھوں نے یہ بھی کہا کہ سیکیورٹی کوئی مسئلہ نہیں، امید ہے کہ ''سپراسٹارز'' کو پاکستان آ کر کھیلنے کیلیے راضی کر لیں گے۔
دیکھنا یہ ہے کہ معاوضہ انھیں قابل قبول اور پی پی ایل کے دوران ان کا کوئی انٹرنیشنل ایونٹ نہ ہورہا ہو۔ انٹرنیشنل کرکٹرز کو کراچی میں لانے والے آرگنائزر بدر رفاعی اور سرور سلمان بٹ بورڈ کے ساتھ بطور کنسلٹنٹ کام کر رہے ہیں۔ رفاعی کی رواں ماہ آئی سی سی حکام سے ملاقات متوقع ہے جس میں وہ پی پی ایل کے حوالے سے بات کرینگے، سرور سلمان منگل کو گورننگ بورڈ کے اجلاس میں پریذینٹیشن دیتے ہوئے ارکان کو ایونٹ کی منصوبہ بندی سے آگاہ کرینگے۔ ذرائع کے مطابق پی پی ایل میں دیگر غیر ملکی لیگز کی طرح فرنچائز ٹیمیں شریک ہونگی۔
ایک آفیشل نے بتایاکہ کھلاڑیوں کی دستیابی یقینی بنانے کیلیے دیگر ممالک کے کرکٹ بورڈز کو بھی اعتماد میں لینے کی کوشش کی جائیگی، یہ خیال بھی رکھنا ہوگا کہ ایونٹ کا شیڈول فیوچر ٹور پروگرام میں شامل کسی سیریز سے متصادم نہ ہو۔ دریں اثناگورننگ بورڈ کے اجلاس میں دیگر امور بھی زیر بحث آئینگے، ذرائع کے مطابق ٹوئنٹی20ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کی کارکردگی، ٹیم مینجمنٹ کی رپورٹس، قومی ٹیم کے دورئہ بھارت، ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے امکانات، ڈومیسٹک نظام میں بہتری اور شیڈول میں تبدیلی سمیت مختلف معاملات پر غور کیاجائیگا، گورننگ بورڈ کے اراکین کی تعداد میں اضافہ اور ان کی عہدوں کی مدت بڑھانے پر بھی بات ہوگی۔