این اے 154 صدیق بلوچ کی تاحیات نااہلی کالعدم دوبارہ انتخابات کا حکم برقرار

ٹریبونل کے فیصلے کے بعد کہا تھا کہ اگر میری ڈگری جعلی ہوئی تو میں سیاست چھوڑ دوں گا، صدیق بلوچ

فیصلے سے ثابت ہو گیا کہ ڈھائی برس قبل عوامی مینڈیٹ چرایا گیا، جہانگیر ترین۔ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے این اے 154 لودھراں سے مسلم لیگ (ن) کے رہنما صدیق بلوچ کی تاحیات نا اہلی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حلقے میں دوبارہ انتخابات کے ٹریبونل کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔



سپریم کورٹ میں این اے 154 لودھراں میں دوبارہ انتخابات اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما صدیق بلوچ کی تاحیات نااہلی سے متعلق کیس میں وکلا کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس ثاقب نثار نے (ن) لیگی رہنما صدیق بلوچ کی تاحیات الیکشن لڑنے پر پابندی کے ٹریبونل کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حلقے میں دوبارہ انتخابات کے فیصلے کو برقرار رکھا۔






سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کا کہنا تھا فیصلے سے ثابت ہو گیا کہ ڈھائی برس قبل عوامی مینڈیٹ چرایا گیا، فیصلے سے لودھراں کے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، ہم انتخابات سے بھاگیں گے نہیں اور ضمنی الیکشن میں (ن) لیگ کو شکست دیں گے۔ دوسری جانب صدیق بلوچ نے کہا کہ میں نے ٹریبونل کے فیصلے کے بعد کہا تھا کہ اگر میری ڈگری جعلی ہوئی تو میں سیاست چھوڑ دوں گا اور آج اللہ کے فضل سے میں سرخ رو ہوا ہوں، آج میں شرم محسوس کر رہا ہوں کہ میرا مقابلہ پاکستان کے کرپٹ ترین آدمی سے ہے۔



واضح رہے کہ 26 اگست کو الیکشن ٹریبونل نے این اے 154 لودھراں میں انتخابات کالعدم قرار دیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار صدیق بلوچ کو بھی تاحیات نا اہل قرار دے دیا تھا جس پر (ن) لیگی رہنما نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

https://www.dailymotion.com/video/x3bdhql_supreme-court_news
Load Next Story