نیپال میں پہلی بار عہدہ صدارت کے لیے خاتون صدر کا انتخاب
بدھیا دیوی نے پارلیمنٹ میں ہونے والی رائے شماری میں 327 ارکان پارلیمنٹ کا اعتماد حاصل کیا
بدھیا دیوی نے پارلمینٹ میں ہونے والی رائے شماری میں 327 ارکان پارلیمنٹ کا اعتماد حاصل کیا، فوٹو: فائل
KARACHI:
دنیا کے اکثر ممالک میں اب خواتین کا سیاست میں کردار بڑھتا جا رہا ہے اور عوام کی اکثریت انہیں اپنا نمائندہ منتخب کر رہی ہے جب کہ اسی تناظر میں نیپال میں موجودہ انتخابات کے بعد اس وقت ایک نئی تاریخ رقم ہوگئی ہے جہاں پہلی مرتبہ ملک میں عہدہ صدارت کے لیے خاتون کا انتخاب کیا گیا ہے۔
نیپال کی پارلیمنٹ نے کیمونسٹ پارٹی کی نائب سربراہ اور خواتین کے حقوق کے لیے ایک عرصے سے جدوجہد میں مصروف بدھیا دیوی بھنداری کو اپنے ملک کا صدر منتخب کر لیا۔ بدھیا نے پارلیمنٹ میں ہونے والی رائے شماری میں 327 ارکان پارلیمنٹ کا اعتماد حاصل کیا اوران کے مخالف امیدوار کو 214 ووٹ ملے جب کہ اس سے قبل کیمونسٹ پارٹی کے سربراہ اپنے اتحادیوں کی مدد سے وازرت عظمی کے عہدے پر منتخب ہوچکے ہیں اس طرح اب کیمونسٹ پارٹی نے مکمل طور پر اقتدارحاصل کرلیا ہے۔
نیپال میں بادشاہت کے خاتمے کے بعد بدھیا دیوی دوسری منتخب صدر ہیں ان سے قبل رام باران یادیو آئین کی عدم موجودگی کی بنا پر 7 سال تک صدر رہے۔
دنیا کے اکثر ممالک میں اب خواتین کا سیاست میں کردار بڑھتا جا رہا ہے اور عوام کی اکثریت انہیں اپنا نمائندہ منتخب کر رہی ہے جب کہ اسی تناظر میں نیپال میں موجودہ انتخابات کے بعد اس وقت ایک نئی تاریخ رقم ہوگئی ہے جہاں پہلی مرتبہ ملک میں عہدہ صدارت کے لیے خاتون کا انتخاب کیا گیا ہے۔
نیپال کی پارلیمنٹ نے کیمونسٹ پارٹی کی نائب سربراہ اور خواتین کے حقوق کے لیے ایک عرصے سے جدوجہد میں مصروف بدھیا دیوی بھنداری کو اپنے ملک کا صدر منتخب کر لیا۔ بدھیا نے پارلیمنٹ میں ہونے والی رائے شماری میں 327 ارکان پارلیمنٹ کا اعتماد حاصل کیا اوران کے مخالف امیدوار کو 214 ووٹ ملے جب کہ اس سے قبل کیمونسٹ پارٹی کے سربراہ اپنے اتحادیوں کی مدد سے وازرت عظمی کے عہدے پر منتخب ہوچکے ہیں اس طرح اب کیمونسٹ پارٹی نے مکمل طور پر اقتدارحاصل کرلیا ہے۔
نیپال میں بادشاہت کے خاتمے کے بعد بدھیا دیوی دوسری منتخب صدر ہیں ان سے قبل رام باران یادیو آئین کی عدم موجودگی کی بنا پر 7 سال تک صدر رہے۔