پنجاب یوتھ فیسٹیول … ایک اچھا قدم
لاہور کے طلبہ قومی پرچم بنانے والے پینلز کو دس منٹ تک تھامے کھڑے رہے۔
ریکارڈ پر ریکارڈ قائم کرنے سے یہ توقع بھی کی جا سکتی ہے کہ گینز بک والے ہمارے یہاں اپنا ایک مستقل دفترقائم کر دیں گے. فوٹو: آئی این پی
پنجاب یوتھ فیسٹیول پیر کو لاہور میںاپنے اختتام کو پہنچ گیا۔
نیشنل ہاکی اسٹیڈیم لاہور میں منعقد ہونے والے اس رنگا رنگ اور یاد گار میلے میں ہزاروں طلبہ نے حصہ کیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب بھی اتوار کو میلے میں شریک ہوئے اور طلبہ کی حوصلہ افزائی کی۔اس میلے کے انعقاد کے لیے پنجاب حکومت نے مثالی اقدامات کیے تھے۔ گینز بک آف ورلڈ ریکارڈز کے لیے پیر کے دن بھی دو عالمی ریکارڈ قائم کیے گئے۔ ان ریکارڈز میں ایک تو دنیا کا سب سے بڑا قومی پرچم بنانے کا ریکارڈ تھا جو ہمارے نو عمر طلبہ نے سبز اور سفید رنگ کے پینل اٹھا کر تخلیق کیا جب کہ دوسرا ریکارڈ انسانی موزیق کی صورت میں لاہور کے قلعے کی شکل میں بنایا گیا۔ اس ریکارڈ سازی میں اسکولوں اور کالجوں کے 24ہزار 2 سو طلبہ نے حصہ لیا۔ اس سے قبل پرچم بنانے کا ریکارڈ ہانگ کانگ میں2007میں قائم کیا گیا تھا جس میں 21 ہزار سات سو 26 افراد نے شرکت کی تھی۔
لاہور کے طلبہ قومی پرچم بنانے والے پینلز کو دس منٹ تک تھامے کھڑے رہے۔ اس موقع پر گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے نمایندے بھی اسٹیڈیم میں موجود تھے۔ علاوہ ازیں 24 ہزار طلبہ نے قومی ترانہ گا کر بھی ریکارڈ قائم کیا۔ یکے بعد دیگرے عالمی ریکارڈ قائم کرنا کوئی معمولی بات نہیں، اس کے لیے طلبہ کے عزم حوصلے اور حکومت کی کاوشوں کی تعریف کی جانی چاہیے جس کی وجہ سے بظاہر ناممکن ریکارڈ قائم ہوگئے۔یہ یقیناً پاکستان کے لیے ایک اعزاز کی بات ہے۔ قومی ترانہ گانے کے ریکارڈ میں ہم نے اپنے مشرقی پڑوسی بھارت کو مات دی ہے۔
علاوہ ازیں بعض چھوٹے چھوٹے ریکارڈ بھی قائم کیے گئے ہیں، ان میں ایک شخص کا سب سے تیز رفتاری کے ساتھ روٹیاں پکانے کا ریکارڈ بھی شامل ہے نیز ایک شخص نے اپنی مونچھوں سے رسی باندھ کر ایک وین کھینچ کر دکھائی۔ ایک نوجوان نے جوڈو کراٹے میں مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 3 منٹ کے عرصے میں 617 ککیں لگائیںجب کہ ایک ننھی بچی نے شطرنج کی بساط پر پلک جھپکتے میں 32 مہرے ترتیب سے لگادیے۔
ریکارڈ پر ریکارڈ قائم کرنے سے یہ توقع بھی کی جا سکتی ہے کہ گینز بک والے ہمارے یہاں اپنا ایک مستقل دفترقائم کر دیں گے کہ نہ جانے کب کوئی نیا ریکارڈ قائم ہو جائے اور کب کوئی سابقہ ریکارڈ پاکستانی نوجوان توڑدیں۔ متذکرہ ریکارڈوں سے جہاں پاکستانی نوجوانوں کی امتیازی صلاحیتوں کااندازہ ہوتا ہے وہاں حکومت کی طرف سے ہمارے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی بھی آئینہ داری ہوتی ہے۔ تاہم سنجیدہ حلقوں کی رائے ہے کہ سرکاری سطح پر نوجوانوں کو ایسے ریکارڈ قائم کرنے کی بھی تحریک دی جائے جو معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی کی راہ ہموار کریں۔ لاہور کے ہاکی اسٹیڈیم میں قائم کیے جانے والے ریکارڈوں کی وجہ سے پاکستان کا نام پوری دنیا میں گونجے گا اور جب بھی ان ریکارڈز کا ذکر ہوگا، پاکستان کا نام لازمی آئے گا؟ یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ ہاکی اسٹیڈیم میں صرف اسکولوں کالجوں کے طلبہ کو شریک کیا گیا جب کہ اگر شہر کے تمام نوجوانوں کو مدعو کیا جاتا تو کئی اور ریکارڈ بھی بن سکتے تھے۔
ہمارے طلبہ نے یہ ثابت کیا ہے کہ ان کا جوش وجذبہ کسی سے کم نہیں ، اگر ان طلبہ کو دوسری صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جائے تو وہ ان میں بھی نئے ریکارڈ قائم کرسکتے ہیں۔طلبہ اور عام نوجوانوں کو مہینے میں ایک بار رضاکارانہ طور پر شہر کے گلی کوچوں کی صفائی میں مصروف کیا جا سکتا ہے جس سے تمام شہریوں کو صفائی کی اہمیت سے آشنائی ہو سکے کہ حدیث مقدسہ کے مطابق صفائی نصف ایمان ہے۔
علاوہ ازیں پوری قوم کو شجر کاری کی مہم میں بھی استعمال کیا جاسکتاہے۔ ہر سال سرکاری طور پر شجرکاری کے نام پر جو مہم چلائی جاتی ہے اس کے لیے پوسٹر اور بینر تیار کرنے پر زیادہ زور ہوتا ہے مگر وہ بینر بس لٹکتے ہی رہ جاتے ہیں اور دوسری طرف پہلے سے لگے لگائے جنگل کے جنگل صاف ہوتے رہتے ہیں۔پنجاب حکومت نے یوتھ فیسٹول منعقد کراکے ایک اچھا کام کیا ہے، اس میلے سے پوری دنیا میں یہ پیغام گیا ہے کہ پاکستان کا معاشرہ انتہا پسند نہیں ہے، یہاں تفریحی سرگرمیاں ہورہی ہیں۔یہ ملک غیر ملکی مہمانوں کے لیے بھی محفوظ ہے اور وہ کھلے دل سے یہاں آ سکتے ہیں۔ پنجاب حکومت جس طرح کھیلوں اور دیگر تفریحی سرگرمیوں کے فروغ کے کام کررہی ہے، اس کے مثبت نتائج نکلیں گے۔
اس حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب کا کردار سراہے جانے کے قابل ہے کہ وہ خود یوتھ فیسٹیول میں گئے اور طلبہ کا حوصلہ بڑھایا۔وزیراعلیٰ پنجاب کو یوتھ فیسٹیول منعقد کراکے ہی آرام سے نہیں بیٹھنا چاہیے بلکہ انھیں دوسری ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے بھی رہنما کردار ادا کرنا چاہیے۔ پنجاب یوتھ فیسٹیول کا انعقادپورے پاکستان کے لیے ایک مثال ہے۔ پاکستان کے دوسرے صوبوں کی انتظامیہ کو بھی ایسے فیسٹیول منعقد کرانے چاہئیں تاکہ پورے ملک میں تفریحی سرگرمیوں کی رفتار تیز ہوسکے اور پاکستان کا ماڈریٹ امیج بنے۔اس طریقے سے ہی ہم پاکستان کے مخالفوں کے اس پراپیگنڈے کا توڑ کر سکتے ہیں کہ یہاں دہشت گردی کی وجہ سے حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ دنیا نے دیکھا کہ لاہور میں یوتھ فیسٹیول ہوا اور اس میں ہزاروں طلباء نے شرکت کی اور یہاں پوری طرح امن و امان رہا۔
نیشنل ہاکی اسٹیڈیم لاہور میں منعقد ہونے والے اس رنگا رنگ اور یاد گار میلے میں ہزاروں طلبہ نے حصہ کیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب بھی اتوار کو میلے میں شریک ہوئے اور طلبہ کی حوصلہ افزائی کی۔اس میلے کے انعقاد کے لیے پنجاب حکومت نے مثالی اقدامات کیے تھے۔ گینز بک آف ورلڈ ریکارڈز کے لیے پیر کے دن بھی دو عالمی ریکارڈ قائم کیے گئے۔ ان ریکارڈز میں ایک تو دنیا کا سب سے بڑا قومی پرچم بنانے کا ریکارڈ تھا جو ہمارے نو عمر طلبہ نے سبز اور سفید رنگ کے پینل اٹھا کر تخلیق کیا جب کہ دوسرا ریکارڈ انسانی موزیق کی صورت میں لاہور کے قلعے کی شکل میں بنایا گیا۔ اس ریکارڈ سازی میں اسکولوں اور کالجوں کے 24ہزار 2 سو طلبہ نے حصہ لیا۔ اس سے قبل پرچم بنانے کا ریکارڈ ہانگ کانگ میں2007میں قائم کیا گیا تھا جس میں 21 ہزار سات سو 26 افراد نے شرکت کی تھی۔
لاہور کے طلبہ قومی پرچم بنانے والے پینلز کو دس منٹ تک تھامے کھڑے رہے۔ اس موقع پر گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے نمایندے بھی اسٹیڈیم میں موجود تھے۔ علاوہ ازیں 24 ہزار طلبہ نے قومی ترانہ گا کر بھی ریکارڈ قائم کیا۔ یکے بعد دیگرے عالمی ریکارڈ قائم کرنا کوئی معمولی بات نہیں، اس کے لیے طلبہ کے عزم حوصلے اور حکومت کی کاوشوں کی تعریف کی جانی چاہیے جس کی وجہ سے بظاہر ناممکن ریکارڈ قائم ہوگئے۔یہ یقیناً پاکستان کے لیے ایک اعزاز کی بات ہے۔ قومی ترانہ گانے کے ریکارڈ میں ہم نے اپنے مشرقی پڑوسی بھارت کو مات دی ہے۔
علاوہ ازیں بعض چھوٹے چھوٹے ریکارڈ بھی قائم کیے گئے ہیں، ان میں ایک شخص کا سب سے تیز رفتاری کے ساتھ روٹیاں پکانے کا ریکارڈ بھی شامل ہے نیز ایک شخص نے اپنی مونچھوں سے رسی باندھ کر ایک وین کھینچ کر دکھائی۔ ایک نوجوان نے جوڈو کراٹے میں مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 3 منٹ کے عرصے میں 617 ککیں لگائیںجب کہ ایک ننھی بچی نے شطرنج کی بساط پر پلک جھپکتے میں 32 مہرے ترتیب سے لگادیے۔
ریکارڈ پر ریکارڈ قائم کرنے سے یہ توقع بھی کی جا سکتی ہے کہ گینز بک والے ہمارے یہاں اپنا ایک مستقل دفترقائم کر دیں گے کہ نہ جانے کب کوئی نیا ریکارڈ قائم ہو جائے اور کب کوئی سابقہ ریکارڈ پاکستانی نوجوان توڑدیں۔ متذکرہ ریکارڈوں سے جہاں پاکستانی نوجوانوں کی امتیازی صلاحیتوں کااندازہ ہوتا ہے وہاں حکومت کی طرف سے ہمارے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی بھی آئینہ داری ہوتی ہے۔ تاہم سنجیدہ حلقوں کی رائے ہے کہ سرکاری سطح پر نوجوانوں کو ایسے ریکارڈ قائم کرنے کی بھی تحریک دی جائے جو معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی کی راہ ہموار کریں۔ لاہور کے ہاکی اسٹیڈیم میں قائم کیے جانے والے ریکارڈوں کی وجہ سے پاکستان کا نام پوری دنیا میں گونجے گا اور جب بھی ان ریکارڈز کا ذکر ہوگا، پاکستان کا نام لازمی آئے گا؟ یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ ہاکی اسٹیڈیم میں صرف اسکولوں کالجوں کے طلبہ کو شریک کیا گیا جب کہ اگر شہر کے تمام نوجوانوں کو مدعو کیا جاتا تو کئی اور ریکارڈ بھی بن سکتے تھے۔
ہمارے طلبہ نے یہ ثابت کیا ہے کہ ان کا جوش وجذبہ کسی سے کم نہیں ، اگر ان طلبہ کو دوسری صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جائے تو وہ ان میں بھی نئے ریکارڈ قائم کرسکتے ہیں۔طلبہ اور عام نوجوانوں کو مہینے میں ایک بار رضاکارانہ طور پر شہر کے گلی کوچوں کی صفائی میں مصروف کیا جا سکتا ہے جس سے تمام شہریوں کو صفائی کی اہمیت سے آشنائی ہو سکے کہ حدیث مقدسہ کے مطابق صفائی نصف ایمان ہے۔
علاوہ ازیں پوری قوم کو شجر کاری کی مہم میں بھی استعمال کیا جاسکتاہے۔ ہر سال سرکاری طور پر شجرکاری کے نام پر جو مہم چلائی جاتی ہے اس کے لیے پوسٹر اور بینر تیار کرنے پر زیادہ زور ہوتا ہے مگر وہ بینر بس لٹکتے ہی رہ جاتے ہیں اور دوسری طرف پہلے سے لگے لگائے جنگل کے جنگل صاف ہوتے رہتے ہیں۔پنجاب حکومت نے یوتھ فیسٹول منعقد کراکے ایک اچھا کام کیا ہے، اس میلے سے پوری دنیا میں یہ پیغام گیا ہے کہ پاکستان کا معاشرہ انتہا پسند نہیں ہے، یہاں تفریحی سرگرمیاں ہورہی ہیں۔یہ ملک غیر ملکی مہمانوں کے لیے بھی محفوظ ہے اور وہ کھلے دل سے یہاں آ سکتے ہیں۔ پنجاب حکومت جس طرح کھیلوں اور دیگر تفریحی سرگرمیوں کے فروغ کے کام کررہی ہے، اس کے مثبت نتائج نکلیں گے۔
اس حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب کا کردار سراہے جانے کے قابل ہے کہ وہ خود یوتھ فیسٹیول میں گئے اور طلبہ کا حوصلہ بڑھایا۔وزیراعلیٰ پنجاب کو یوتھ فیسٹیول منعقد کراکے ہی آرام سے نہیں بیٹھنا چاہیے بلکہ انھیں دوسری ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے بھی رہنما کردار ادا کرنا چاہیے۔ پنجاب یوتھ فیسٹیول کا انعقادپورے پاکستان کے لیے ایک مثال ہے۔ پاکستان کے دوسرے صوبوں کی انتظامیہ کو بھی ایسے فیسٹیول منعقد کرانے چاہئیں تاکہ پورے ملک میں تفریحی سرگرمیوں کی رفتار تیز ہوسکے اور پاکستان کا ماڈریٹ امیج بنے۔اس طریقے سے ہی ہم پاکستان کے مخالفوں کے اس پراپیگنڈے کا توڑ کر سکتے ہیں کہ یہاں دہشت گردی کی وجہ سے حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ دنیا نے دیکھا کہ لاہور میں یوتھ فیسٹیول ہوا اور اس میں ہزاروں طلباء نے شرکت کی اور یہاں پوری طرح امن و امان رہا۔