سچائی کمیشن

اس خوفناک صورتحال میں ہزاروں لوگ قتل ہوئے، لاکھوں بے گھر ہوئے۔


Dr Tauseef Ahmed Khan October 24, 2012
[email protected]

سیاسی کارکنوں، وکلا کے طویل مطالبے کے بعد سپریم کورٹ نے ایئر مارشل(ر)اصغر خان کیس کے بارے میں تاریخی فیصلہ دے دیا۔

16 سال سے زیر التوا اس مقدمے کے فیصلے سے واضح ہوا کہ اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان اور فوج کے سربراہ جنرل اسلم بیگ کے مشترکہ فیصلے کے تحت آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی نے 140 ملین روپے سیاست دانوں میں تقسیم کیے تھے تاکہ دائیں بازو کے سیاست دان اسلامی جمہوری اتحاد (IJI) میں متحد ہوکر پیپلزپارٹی کو 1990 کے انتخابات میں کامیابی سے روک سکیں۔ 1990 میں صدر غلام اسحاق خان نے پیپلزپارٹی کی دوسری حکومت اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت کو برطرف کرکے نیشنل پیپلزپارٹی کے صدر غلام مصطفیٰ جتوئی کو نگراں وزیر اعظم مقرر کیا تھا۔

غلام مصطفیٰ جتوئی کی اس نگراں حکومت میں اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اسلم بیگ کی ہدایت پر آئی ایس آئی نے مہران بینک کے سربراہ یونس حبیب کے ذریعے 140 ملین روپے حاصل کیے تھے۔ جنرل درانی کے حلف نامے کے مطابق یہ رقم کئی اہم سیاستدانوں اور سینئر صحافیوں میں تقسیم کی گئی تھی، ان انتخابات میں نواز شریف بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے تھے۔ سپریم کورٹ نے جنرل اسلم بیگ اور جنرل اسد درانی کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی FIA کو ہدایت کی ہے کہ رقم لینے والے سیاستدانوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ بریگیڈیئر امتیاز نے متعدد چینلز کو دیے گئے ٹی وی انٹرویو میں اس وقت کی اسٹبلشمنٹ کی حکمت عملی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ کیوں کہ بائیں بازو کی قوتیں متحد ہورہی تھیں اور پیپلزپارٹی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے امکانات پیدا ہوگئے تھے، اس لیے آئی ایس آئی نے دائیں بازو کی قوتوں کو متحد کرنے کے لیے یہ کوشش کی تھی۔ پاکستان میں جمہوریت کا ارتقا نہ ہونے میں عسکری اسٹبلشمنٹ کا بنیادی کردار ہے۔

تاریخ کی کتابیں بتاتی ہیں کہ جب 1956 کے آئین کے تحت 1958 میں عام انتخابات کا انعقاد لازمی ہوا تو بائیں بازو اور قوم پرستوں کی تنظیم نیشنل عوامی پارٹی پنجاب، مشرقی پاکستان سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں منظم ہوئی۔ پنجاب میں روشن خیال ترقی پسند رہنمائوں کے عوام سے رابطے گہرے ہوئے، مزدور، کسان، ادیبوں، دانشوروں، تنظیموںکی سرگرمیوں نے تقویت پائی، حسن شہید سہروردی کی قیادت میں عوامی لیگ، مشرقی پاکستان کے عوام کی ترجمانی کرنے لگی تو اس وقت کے صدر میجر جنرل (ر) اسکندر مرزا نے 1956 کا آئین منسوخ کرکے مارشل لاء نافذ کردیا اور فوج کے سربراہ جنرل ایوب خان چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقرر ہوئے۔

ایوب خان نے سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا کر انتخابات کرنے کا منصوبہ سبوتاژ کرایا۔ ملک میں مارشل لاء نے جمہوری عمل کو ختم کرکے مشرقی پاکستان کے عوام کو مکمل طور پر مایوس کردیا۔ اس مارشل لاء کے نتیجے میں پاکستانی ریاست کی عوام میں جڑیں کمزور ہونا شروع ہوئیں۔ جنرل یحییٰ خان نے 1970 کے انتخابات کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے اکثریتی جماعت عوامی لیگ کو اقتدار دینے سے انکار کیا جس کے نتیجے میں 9 ماہ کی خانہ جنگی کے بعد مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بنا اور پاکستانی فوج کے 90 ہزار فوجی بھارتی قید میں چلے گئے۔

اس خوفناک صورتحال میں ہزاروں لوگ قتل ہوئے، لاکھوں بے گھر ہوئے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جنرل یحییٰ خان کے دور میں مشرقی پاکستان سندھ اور پنجاب کے بعض سیاستدانوں کو رقوم فراہم کی گئی تھی تاکہ عوامی لیگ مشرقی پاکستا ن میں اور پیپلزپارٹی کی سندھ اور پنجاب میں اکثریت حاصل نہ کرسکے اور جنرل یحییٰ خان کو اپنے اقتدارکے دوام کے لیے چھوٹی سیاسی جماعتیں میسر آسکیں۔ بہرحال جب 1971 میں پیپلزپارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو صدر اور پھر 1972 میں وزیراعظم بنے تو معروضی حالات کی بناء پر اسٹبلشمنٹ کمزور ہوچکی تھی مگر اس دور میں پارلیمنٹ نے پاکستان ٹوٹنے کے اسباب پر کھل کر بحث نہیں کی۔ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے چیف جسٹس حمود الرحمن کی قیادت میں ایک کمیشن قائم کیا گیا مگر اس کمیشن کی رپورٹ 25 سال سے زیادہ عرصے بعد شایع ہوئی۔

اگر یہ رپورٹ وقت پر شایع ہوتی اور جنرل یحییٰ خان اور ان کے ساتھیوں کو سزائیں ہوتیں اور جن جماعتوں نے جنرل یحییٰ خان کے ساتھ تعاون کیا تھا انھیں عوام سے معافی مانگنی پڑتی تو مستقبل میں جمہوری عمل کو کسی جنرل کو سبوتاژ کرنے کی جرأت نہ ہوتی۔ اس طرح جب جنرل اسلم بیگ کی زیر نگرانی اسٹبلشمنٹ نے 1988 میں اقتدار محترمہ بے نظیر کے حوالے کیا تو انھیں معاہدے کے تحت اس بات کا پابند کیا گیا کہ جنرل ضیاء الحق کے اقتدار سنبھالنے اور فوجی جنرلوں کے کردار کے بارے میں کسی قسم کی تحقیقات نہیں کرائی جائے گی۔

غلام اسحاق خان کو 50 کی دہائی کے سینئر بیورو کریٹ غلام محمد کی طرح ایک نیا کھیل کھیلنے کا موقع ملا۔ انھوں نے بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کی دو حکومتوں کو برطرف کیا اور پیپلزپارٹی کو اقتدار سے روکنے کے لیے آئی جے آئی قائم کرائی۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اس وقت کے سیاستدان اسٹبلشمنٹ کی پالیسی سے متاثر ہوتے تھے اور اقتدار سے محروم بھی ہوتے تھے مگر دوبارہ اقتدار میں آنے کے لیے اسٹبلشمنٹ کی کاسہ لیسی کرنے لگتے۔ اسٹبلشمنٹ نے پاکستان کو سیکیورٹی اسٹیٹ کی حیثیت سے برقرار رکھنے کے لیے پڑوسی ممالک میں مداخلت کی پالیسی اختیار کی۔ اس پالیسی کی بناء پر ملک میں مذہبی لسانی اور سیاسی تضادات پیدا ہوئے، پاکستان دہشت گردی کے بحرانات کا شکار ہوا اور ریاست کی رٹ ختم ہونے سے انارکی بڑھ گئی ۔

آج کل کراچی، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے نام پر جو ہورہا ہے اور پنجاب میں انتہاپسند دہشت گردوں کی کمین گاہیں پھیل رہی ہیں وہ اسی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ مہران بینک اسکینڈل سے سب سے زیادہ فائدہ آئی جے آئی کے لیڈروں نے اٹھایا، جب اخبارات اور تحقیقی رپورٹنگ شایع کرنے والے جرائد میں یونس حبیب کے حوالے سے سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم کی خبریں شایع ہوئیں تو میاں صاحب سمیت رقوم لینے والے سیاستدانوں نے ان الزامات کی تردید کی مگر ان جماعتوں کے رہنمائوں نے اس مطالبے کی حمایت نہیں کی کہ سپریم کورٹ ائیر مارشل اصغر خان کی پٹیشن کے بارے میں جلد فیصلہ کرے۔ چیف جسٹس افتخار چوہدری دوبارہ بحال ہوئے تو امید تھی کہ اب یہ مقدمہ چلایا جائے گا مگر ایسا نہیں ہوا۔

ایک وقت آیا ایئر مارشل اصغر خان نے اپنی مایوسی کا اظہار یہ بیان دے کر کیا کہ ان کی زندگی میں شاید مہران بینک اسکینڈل کا فیصلہ نہیں ہوگا ، جب سابق وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ شروع ہوا تو انھوں نے بھری عدالت میں اصغر خان مقدمے کی سماعت کا مطالبہ کیا جس پر معزز عدالت نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ مسلم لیگ کے رہنما چوہدری نثارعلی خان نے ایک طرف تو اس فیصلے کا خیر مقدم کیا پھر انھوں نے یہ عذر پیش کرکے کسی فرد کے بیان حلفی کی بنیاد پر فیصلے کا جواز نہیں، انھوں نے فیصلے پر تنقید کی۔

چوہدری نثار نے کہا کہ مسلم لیگ ایف آئی اے کی تحقیقات میں شریک نہیں ہوگی، یہ بیان دے کر وہ اس حقیقت کو فراموش کرگئے کہ اسی عدالت نے صدر زرداری کے سوئس اکائونٹ کے بارے میں جو تاریخی فیصلہ دیا تھا اس مقدمے کے بارے میں پیپلزپارٹی اس طرح کے تیکنیکی تحقیقات کا اظہار کرتی ہے۔ معروف دانشور آئی اے رحمن نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے انتہائی معقول بات کی ہے کہ سیاستدان پھر 90 کی دہائی کے کلچر کو تقویت دے رہے ہیں۔ ان کی یہ بات بھی انتہائی مناسب ہے کہ ماضی میں جو ہوا اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ مستقبل میں اسٹبلشمنٹ ایسا کردار ادا نہ کرسکے، اس مسئلے کا حل بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے درمیان 2005 میں ہونے والے میثاق جمہوریت میں موجود ہے۔

پارلیمنٹ ایک ''سچائی کمیشن'' قائم کرے، تمام جماعتیں ماضی میں اسٹبلشمنٹ سے ساز باز پر قوم سے معذرت کریں اور مستقبل میں اس صورتحال کے تدارک کے لیے قانونی طریقہ کار وضع کیا جائے۔ صدر زرداری فوج کے سپریم کمانڈر کی حیثیت سے جنرل اسلم بیگ اور جنرل درانی کے کورٹ مارشل کے لیے چیف آف آرمی اسٹاف کو احکامات جاری کریں تاکہ جمہوری نظام کو درپیش خطرات دور ہوسکیں۔