اسٹیبلشمنٹ سے ڈر کر خفیہ ملاقاتیں کرنے والا لیڈر نہیں ہوتا عمران خان
لیڈرکی خصوصیت بہادری ہوتی ہے اگروزیراعظم نوازشریف اور مودی کی جگہ ہوتا تو سب سے پہلے اپنا ویژن دیتا،چیئرمین پی ٹی آئی
لیڈرکی خصوصیت بہادری ہوتی ہے اگروزیراعظم نوازشریف اور مودی کی جگہ ہوتا تو سب سے پہلے اپنا ویژن دیتا،چیئرمین پی ٹی آئی. فوٹو: فائل
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے ڈر کر خفیہ ملاقاتیں کرنے یا والدہ اور نانا کی تصویریں لگاکر کوئی لیڈر نہیں بنتا، پاکستان میں آج لیڈرشپ کی اشد ضرورت ہے۔
لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف نے پیرس میں بھارتی ہم منصب نریندر مودی سے خفیہ ملاقات کی اگر نوازشریف اور مودی کی جگہ ہوتا تو سب سے پہلے اپنا ویژن دیتا، لیڈر کی خصوصیت بہادری ہوتی ہے اور ٹیم کو کپتان کی اصل ضرورت بحران کی صورت میں پڑتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر اہم ہے لیکن دونوں طرف سے اس مسئلہ کے حل کے لئے مثبت کوششیں نہیں کی گئیں اگر پاکستان اور بھارت میں تجارت کھل جائے تو آگے بڑھنے کے بڑے مواقع ہیں، دونوں ممالک کو سب سے پہلے غربت سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی اپناتے ہوئے عوام کی فلاح کے لئے پالیسی مرتب کرنا ہوگی۔
چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں غربت کا خاتمہ پہلی ترجیح اور دوسرا بڑا مسئلہ ٹیکس جمع کرنا ہے لیکن اگر لیڈر خود ہی ٹیکس نہ دے تو قوم سے کس طرح اکھٹا کرسکتا ہے اور بدقسمتی سے ٹیکسز کا سارا بوجھ غریب عوام پر ڈال دیا جاتا ہے تاہم اب سمجھ لینا چاہیئے کہ جمہوریت بادشاہت سے آگے نکل چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان 10 ملکوں میں شامل ہے جہاں سب سے زیادہ آلودگی ہے، خیبرپختونخوا میں ٹمبر مافیا نے 200 ارب روپے کے درخت کاٹ کر جنگل خالی کردیئے تاہم تحریک انصاف کی حکومت صوبے میں 2018 تک ایک ارب 20 کروڑ درخت لگائے گی اور اب تک 10 کروڑ درخت لگائے جاچکے ہیں۔
لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف نے پیرس میں بھارتی ہم منصب نریندر مودی سے خفیہ ملاقات کی اگر نوازشریف اور مودی کی جگہ ہوتا تو سب سے پہلے اپنا ویژن دیتا، لیڈر کی خصوصیت بہادری ہوتی ہے اور ٹیم کو کپتان کی اصل ضرورت بحران کی صورت میں پڑتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر اہم ہے لیکن دونوں طرف سے اس مسئلہ کے حل کے لئے مثبت کوششیں نہیں کی گئیں اگر پاکستان اور بھارت میں تجارت کھل جائے تو آگے بڑھنے کے بڑے مواقع ہیں، دونوں ممالک کو سب سے پہلے غربت سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی اپناتے ہوئے عوام کی فلاح کے لئے پالیسی مرتب کرنا ہوگی۔
چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں غربت کا خاتمہ پہلی ترجیح اور دوسرا بڑا مسئلہ ٹیکس جمع کرنا ہے لیکن اگر لیڈر خود ہی ٹیکس نہ دے تو قوم سے کس طرح اکھٹا کرسکتا ہے اور بدقسمتی سے ٹیکسز کا سارا بوجھ غریب عوام پر ڈال دیا جاتا ہے تاہم اب سمجھ لینا چاہیئے کہ جمہوریت بادشاہت سے آگے نکل چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان 10 ملکوں میں شامل ہے جہاں سب سے زیادہ آلودگی ہے، خیبرپختونخوا میں ٹمبر مافیا نے 200 ارب روپے کے درخت کاٹ کر جنگل خالی کردیئے تاہم تحریک انصاف کی حکومت صوبے میں 2018 تک ایک ارب 20 کروڑ درخت لگائے گی اور اب تک 10 کروڑ درخت لگائے جاچکے ہیں۔