میانداد نے ورلڈ ٹوئنٹی 20 کے بائیکاٹ کا مشورہ دے دیا
بھارت میں سیکیورٹی کی صورتحال ٹھیک نہیں پاکستان آئی سی سی کو بتائے، ٹیم وہاں بھیجنا مناسب نہیں ہو گا، سابق کپتان
ڈرامے بازی بند ہونی چاہیے، سیریز کیلیے پیچھے بھاگنا درست نہیں، پی سی بی کی کمزور پالیسیز نے یہ دن دکھایا،عبدالقادر فوٹو: فائل
جاوید میانداد نے تو ورلڈٹی ٹوئنٹی کے بائیکاٹ کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان آئی سی سی کو بتائے کہ بھارت میں سیکیورٹی کی صورتحال ٹھیک نہیں، ہم ٹیم وہاں بھیجنا مناسب نہیں سمجھتے۔
تفصیلات کے مطابق سیریز کیلیے طویل عرصے سے بی سی سی آئی کی ٹال مٹول پر سابق کرکٹرز بھی خاصے برہم نظر آتے ہیں، سابق کپتان جاوید میانداد نے کہاکہ میرا شروع سے یہ موقف رہاکہ بار بار بھارتی وعدوں سے دھوکا کھانے کے بجائے پاکستان کو خود ہی انکار کردینا چاہیے، ہمیں پاکستانی ہونے پر فخر ہے، ایک ملک کے ساتھ نہ کھیلنے سے ہماری کرکٹ ختم نہیں ہو جائے گی۔
میانداد کا کہنا تھا کہ ہم محبت کا جواب محبت سے دیتے ہیں لیکن خود کو کمتر کیوں سمجھیں، ہمارے پاس کس چیز کی کمی ہے، پیسے کا بھی کوئی مسئلہ نہیں، ہمارے ملک میں سیکیورٹی مسائل ہیں تو بھارت میں حالات کون سے اچھے ہیں، پاکستانی فنکاروں اور مہمانوں کے ساتھ ان کا سلوک کتنا بُرا رہا ہے، انتہاپسندوں کی دھمکیاں، لڑائی جھگڑے، مار کٹائی، احتجاج آئے روز کا معمول ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان آئی سی سی پر دباؤ ڈالے اور بتائے کہ بھارت میں سیکیورٹی کی صورتحال ٹھیک نہیں، ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں شرکت کیلیے ٹیم وہاں بھیجنا مناسب نہیں سمجھتے۔
ایک سوال پر جاوید میانداد نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ پاکستان نے ''بگ تھری'' کی حمایت کرتے ہوئے کوئی ایسی تحریری یقین دہانی حاصل کی ہوگی کہ سیریز کھیلنے سے انکار پر بھارت سے ہرجانہ طلب کرسکے، البتہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینا ہی مناسب قدم ہوگا۔
سابق ٹیسٹ اسپنر عبدالقادر نے کہا کہ کرکٹ کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے،کھیلوں کو ڈپلومیسی کا حصہ بنانے کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ بھارت کو بھی چاہیے تھا کہ کرکٹ معاملات کو سیاسی سرگرمیوں کے اتار چڑھاؤ سے دور رکھتا، اس نے بار بار جذبات سے کھیلنے کا سلسلہ جاری رکھا، میرا خیال ہے کہ جب ان کی حکومت متواتر مداخلت کررہی تھی تو ہوم سیریزکے باوجود پی سی بی ان کے پیچھے کیوں بھاگا؟
عبدالقادر کا کہنا تھا کہ یہ ڈرامے بازی بند ہونی چاہیے، کرکٹ کھیلنا بری بات نہیں لیکن عزت اور وقار مقدم رکھا جائے، پاکستان کو اب بھارت میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کھیلنے کے حوالے فیصلہ سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ یہ سارا معاملہ پی سی بی کی کمزور پالیسی کے سبب بگڑا، ہم ٹھوس فیصلے کرنے کے بعد ان پر کاربند رہنے کا حوصلہ بھی رکھتے تو بین الاقوامی سطح پر ساکھ بہتر رہتی۔
تفصیلات کے مطابق سیریز کیلیے طویل عرصے سے بی سی سی آئی کی ٹال مٹول پر سابق کرکٹرز بھی خاصے برہم نظر آتے ہیں، سابق کپتان جاوید میانداد نے کہاکہ میرا شروع سے یہ موقف رہاکہ بار بار بھارتی وعدوں سے دھوکا کھانے کے بجائے پاکستان کو خود ہی انکار کردینا چاہیے، ہمیں پاکستانی ہونے پر فخر ہے، ایک ملک کے ساتھ نہ کھیلنے سے ہماری کرکٹ ختم نہیں ہو جائے گی۔
میانداد کا کہنا تھا کہ ہم محبت کا جواب محبت سے دیتے ہیں لیکن خود کو کمتر کیوں سمجھیں، ہمارے پاس کس چیز کی کمی ہے، پیسے کا بھی کوئی مسئلہ نہیں، ہمارے ملک میں سیکیورٹی مسائل ہیں تو بھارت میں حالات کون سے اچھے ہیں، پاکستانی فنکاروں اور مہمانوں کے ساتھ ان کا سلوک کتنا بُرا رہا ہے، انتہاپسندوں کی دھمکیاں، لڑائی جھگڑے، مار کٹائی، احتجاج آئے روز کا معمول ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان آئی سی سی پر دباؤ ڈالے اور بتائے کہ بھارت میں سیکیورٹی کی صورتحال ٹھیک نہیں، ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں شرکت کیلیے ٹیم وہاں بھیجنا مناسب نہیں سمجھتے۔
ایک سوال پر جاوید میانداد نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ پاکستان نے ''بگ تھری'' کی حمایت کرتے ہوئے کوئی ایسی تحریری یقین دہانی حاصل کی ہوگی کہ سیریز کھیلنے سے انکار پر بھارت سے ہرجانہ طلب کرسکے، البتہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینا ہی مناسب قدم ہوگا۔
سابق ٹیسٹ اسپنر عبدالقادر نے کہا کہ کرکٹ کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے،کھیلوں کو ڈپلومیسی کا حصہ بنانے کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ بھارت کو بھی چاہیے تھا کہ کرکٹ معاملات کو سیاسی سرگرمیوں کے اتار چڑھاؤ سے دور رکھتا، اس نے بار بار جذبات سے کھیلنے کا سلسلہ جاری رکھا، میرا خیال ہے کہ جب ان کی حکومت متواتر مداخلت کررہی تھی تو ہوم سیریزکے باوجود پی سی بی ان کے پیچھے کیوں بھاگا؟
عبدالقادر کا کہنا تھا کہ یہ ڈرامے بازی بند ہونی چاہیے، کرکٹ کھیلنا بری بات نہیں لیکن عزت اور وقار مقدم رکھا جائے، پاکستان کو اب بھارت میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کھیلنے کے حوالے فیصلہ سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ یہ سارا معاملہ پی سی بی کی کمزور پالیسی کے سبب بگڑا، ہم ٹھوس فیصلے کرنے کے بعد ان پر کاربند رہنے کا حوصلہ بھی رکھتے تو بین الاقوامی سطح پر ساکھ بہتر رہتی۔