سندھ اسمبلی کا اجلاس دوسرے روز بھی ہنگامے کی نذر

فنکشنل لیگ اور اسپیکر سراج درانی کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا جس کے بعد اپوزیشن ارکان واک آؤٹ کرگئے۔

فنکشنل لیگ اور اسپیکر سراج درانی کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا جس کے بعد اپوزیشن ارکان واک آؤٹ کرگئے۔ فوٹو:فائل

سندھ اسمبلی اجلاس کے دوران مسلم لیگ فنکشنل کے ارکان اور اسپیکر کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا جس کے بعد اپوزیشن کے مائیک بند کرتے دیئے گئے جس پر ایوان میں ہنگامہ برپا ہوگیا۔


ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ اسمبلی اجلاس کے دوران نقطہ اعتراض پر بولنے کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن نے اسمبلی سے واک آؤٹ کیا جب کہ پرائیویٹ ممبرزڈے کی وجہ سے رینجرز اختیارات میں توسیع کی قرار داد ایجنڈے پرنہیں لائی گئی۔ اجلاس کے دوران شہریارمہر نے گزشتہ روز ہنگامے پر بات کرنا چاہی جس پر اسپیکر سراج درانی نے انہیں بولنے کی اجازت نہیں دی اور ان کا مائیک بند کردیا جس پر دونوں کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ اس موقع پر مسلم لیگ فنکشنل کی ہی رکن نصرف سحر عباسی نے کہا کہ ہم بھی ایوان کا حصہ ہیں اس لئے اسپیکر کم از کم ہمیں بھی بولنے کی اجازت دیں، پیپلزپارٹی اپنے آپ کو بچانا چاہتی ہے،ڈاکٹر عاصم کے بعد مزید کرپٹ سیاستدانوں کی لائن لگی ہے۔

دوسری جانب فنکشنل لیگ کے اراکان کی جانب سے الزامات پر پیپلزپارٹی کے ارکان بھی میدان میں آگئے اور نثارکھوڑو نے بھی اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اسمبلی میں شدید ہنگامے اور نعرے بازی میں اپوزیشن ارکان اسمبلی سے واک آؤٹ کر گئے۔
Load Next Story