وزارت داخلہ کی اہم رپورٹ
دہشتگردی عالمی عفریت ہے اور مسلم دنیا کو دہشتگردی اور اس کا مرکز ہونے کے سنگین اور بے بنیاد الزامات کا سامنا ہے
راست ہو گا کہ ہر وزارت اپنی کارکردگی رپورٹ ایوان میں پیش کرے اور وزارت کی خامیوں کی نشاندہی پر انھیں دور کرنے کی سعی کی جائے. فوٹو: پی آئی ڈی
موجودہ حکومت کے قیام کو ڈھائی سال گزرنے کے بعد بالآخر وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اپنی وزارت کی مجموعی کارکردگی کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دی ہے جسے بہرحال ایک مستحسن اقدام قرار دیا جانا چاہیے کیونکہ وزرا اپنے دور حکومت میں کس قدر فعال رہتے ہیں اس سے عوام کا آگاہ ہونا ضروری ہے۔ جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیر داخلہ نے کہا کہ اسلام آباد میں بلیک واٹر کا کوئی وجود نہیں، کسی غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی کو پاکستان میں کام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، کراچی آپریشن کے ثمرات کے عوام بھی معترف ہیں۔ ایوان سے خطاب کے دوران انھوں نے انکشاف کیا کہ کراچی آپریشن سے ٹارگٹ کلنگ میں 53 فیصد، قتل کے واقعات میں 50 فیصد، ڈکیتی کے واقعات میں 30 فیصد جب کہ دہشتگردی کے واقعات میں 80 فیصد کمی ہوئی ہے، انٹیلی جنس کی بنیاد پر 6463 آپریشن کیے گئے اور 2109دہشتگرد مارے گئے۔
وزیر داخلہ نے کئی اقدامات اور ان پر عملدرآمد کے حوالے سے تفصیل بتائی تاہم اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ دہشتگردی عالمی عفریت ہے اور مسلم دنیا کو دہشتگردی اور اس کا مرکز ہونے کے سنگین اور بے بنیاد الزامات کا سامنا ہے، عالمی طاقتیں اس الزام کا اعادہ کرتی رہتی ہیں جس کا سدباب اسی طرح ممکن ہے کہ آپریشن اور مجرمانہ عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں مگر ساتھ ہی ملکی سالمیت کو درپیش داخلی و خارجی خطرات سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا چاہیے جب کہ دہشتگردی کے سدباب کے لیے اطمینان بخش اعداد و شمار کے اجرا کے بعد بھی انتہا پسندی، فرقہ وارانہ و مسلکی قتل و غارت بھتہ خوری اور اغوا کی وارداتوں کے مکمل خاتمہ کے لیے ملکی سطح پر سیاسی مفاہمت اور انتظامی شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ یہاں کراچی میں رینجرز کا مسئلہ بھی یادد لا نا ضروری ہے جسے بعض عناصر بلاوجہ غلط رخ دینے کی کوشش کر رہے ہیں، سندھ اسمبلی ایک آئینی ادارہ ہے اس کے تقدس کا بھی خیال رکھنا چاہیے، گورنر سندھ کا بیان خوش آئند ہے جس میں انھوں نے کہا کہ صورتحال غیر معمولی ہے اس لیے آپریشن نہیں روکا جا سکتا۔
وزارت داخلہ کی رپورٹ کے مطابق ملک میں پہلا جامع مشترکہ انٹیلی جنس ڈائریکٹریٹ دو تین ماہ میں کام شروع کر دے گا، اس کے لیے بجٹ بھی منظور ہو چکا ہے، جنوری کے آخر تک پاسپورٹ آن لائن جاری کیے جائیں گے۔ وزیر داخلہ کا یہ کہنا صائب تھا کہ ایوان کو ہر وزیر کی کارکردگی کی غلطیوں کی نشاندہی کرنی چاہیے۔ یقینا یہ ایک مستحسن فعل ہو گا کیونکہ اب تک کی تاریخ میں وزرا کا احتساب اور غلطیوں کی پکڑ کی روایت نہیں رہی ہے۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ اسلام آباد میں غیرملکی خفیہ اداروں نے 400 گھر کرائے پر لے رکھے تھے، ہم نے مشکلات کے باوجود ایک ایک گھر کا ایڈریس رجسٹرڈ کیا، کس گھر میں کون رہتا ہے، اب ہمیں سب پتہ ہے، وزارت داخلہ میں غیر ملکیوں کے داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔ دیر آید درست آید، بلاشبہ ملک میں جاری امن و امان کی خراب صورتحال اور دہشت گردوں کی بیخ کنی کے تناظر میں ہر جانب سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔
اطلاعات کے مطابق نادرا سے بننے والے ایک لاکھ جعلی شناختی کارڈ بلاک کیے گئے ہیں، ای سی ایل سے 9750 اور بلیک لسٹ سے 50 ہزار نام نکال دیے گئے، 9 کروڑ 83 لاکھ سمیں بلاک کی گئی ہیں۔ وزیر داخلہ کی اس بات سے اتفاق کرنا پڑے گا کہ انٹیلی جنس اداروں کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے، ڈھائی ہزار سے زائد انٹیلی جنس شیئر کی گئیں، اب مہینے گزر جاتے ہیں دھماکا نہیں ہوتا، موثر اقدامات کے باعث دہشتگرد بھاگ رہے ہیں تاہم دہشتگردوں سے جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے حوالے سے بیانات دیتے ہوئے احتیاط برتی جائے کہ کارروائیوں میں ملوث عناصر ایسے بیانات کے بعد فعال دکھائی دیتے ہیں اور ملک میں کہیں نہ کہیں کوئی واردات یا سانحہ پیش آ جاتا ہے۔ بلاشبہ کراچی آپریشن پر سیاسی جماعتوں کے تحفظات اور جانب دارانہ کارروائیوں کے الزامات لگتے رہے لیکن اس کی افادیت سے انکار بہرحال ممکن نہیں، لیکن شہر میں رینجرز کے اختیارات کی محدودیت کے بعد شہری حلقوں اور تاجر برادری میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی ہے۔
سابقہ فوجیوں کی تنظیم پیسا نے بھی اس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اختیارات کم کر کے رینجرز کو کراچی میں چوکیدار بنا دیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ نے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ انسانی وسائل کی کمی ہے، اگر کسی سیکریٹری کی پوسٹ خالی ہوتی ہے تو کوئی قابل افسر ہی نہیں ملتا، اس تناظر میں وجوہات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے، قحط الرجال کی اس صورتحال کا سب سے بڑا سبب لائق اور اہل لوگوں کو وزارتوں سے محروم رکھنا اور سفارشی و نااہل لوگوں کو نوازنا ہے۔ اداروں کے زوال اور انحطاط کے پیچھے بھی یہی لوگ کارفرما ہیں، تب ہی چوہدری نثار نے اپنی لاچارگی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وزارت داخلہ میں ریکارڈ ہی نہیں رکھے جا رہے تھے، جب ویزوں کا ریکارڈ مانگا جاتا تو جواب ملتا نہیں ہے، ممنوعہ بور کے لائسنس کی تفصیل پر کہتے ہیں کہ جل گیا ہے۔ یہ صورتحال صرف ایک جگہ نہیں بلکہ تمام گورنمنٹ ادارے اس زبوں حالی اور انتظامی سقم کا شکار ہیں۔ راست ہو گا کہ ہر وزارت اپنی کارکردگی رپورٹ ایوان میں پیش کرے اور وزارت کی خامیوں کی نشاندہی پر انھیں دور کرنے کی سعی کی جائے۔
وزیر داخلہ نے کئی اقدامات اور ان پر عملدرآمد کے حوالے سے تفصیل بتائی تاہم اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ دہشتگردی عالمی عفریت ہے اور مسلم دنیا کو دہشتگردی اور اس کا مرکز ہونے کے سنگین اور بے بنیاد الزامات کا سامنا ہے، عالمی طاقتیں اس الزام کا اعادہ کرتی رہتی ہیں جس کا سدباب اسی طرح ممکن ہے کہ آپریشن اور مجرمانہ عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں مگر ساتھ ہی ملکی سالمیت کو درپیش داخلی و خارجی خطرات سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا چاہیے جب کہ دہشتگردی کے سدباب کے لیے اطمینان بخش اعداد و شمار کے اجرا کے بعد بھی انتہا پسندی، فرقہ وارانہ و مسلکی قتل و غارت بھتہ خوری اور اغوا کی وارداتوں کے مکمل خاتمہ کے لیے ملکی سطح پر سیاسی مفاہمت اور انتظامی شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ یہاں کراچی میں رینجرز کا مسئلہ بھی یادد لا نا ضروری ہے جسے بعض عناصر بلاوجہ غلط رخ دینے کی کوشش کر رہے ہیں، سندھ اسمبلی ایک آئینی ادارہ ہے اس کے تقدس کا بھی خیال رکھنا چاہیے، گورنر سندھ کا بیان خوش آئند ہے جس میں انھوں نے کہا کہ صورتحال غیر معمولی ہے اس لیے آپریشن نہیں روکا جا سکتا۔
وزارت داخلہ کی رپورٹ کے مطابق ملک میں پہلا جامع مشترکہ انٹیلی جنس ڈائریکٹریٹ دو تین ماہ میں کام شروع کر دے گا، اس کے لیے بجٹ بھی منظور ہو چکا ہے، جنوری کے آخر تک پاسپورٹ آن لائن جاری کیے جائیں گے۔ وزیر داخلہ کا یہ کہنا صائب تھا کہ ایوان کو ہر وزیر کی کارکردگی کی غلطیوں کی نشاندہی کرنی چاہیے۔ یقینا یہ ایک مستحسن فعل ہو گا کیونکہ اب تک کی تاریخ میں وزرا کا احتساب اور غلطیوں کی پکڑ کی روایت نہیں رہی ہے۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ اسلام آباد میں غیرملکی خفیہ اداروں نے 400 گھر کرائے پر لے رکھے تھے، ہم نے مشکلات کے باوجود ایک ایک گھر کا ایڈریس رجسٹرڈ کیا، کس گھر میں کون رہتا ہے، اب ہمیں سب پتہ ہے، وزارت داخلہ میں غیر ملکیوں کے داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔ دیر آید درست آید، بلاشبہ ملک میں جاری امن و امان کی خراب صورتحال اور دہشت گردوں کی بیخ کنی کے تناظر میں ہر جانب سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔
اطلاعات کے مطابق نادرا سے بننے والے ایک لاکھ جعلی شناختی کارڈ بلاک کیے گئے ہیں، ای سی ایل سے 9750 اور بلیک لسٹ سے 50 ہزار نام نکال دیے گئے، 9 کروڑ 83 لاکھ سمیں بلاک کی گئی ہیں۔ وزیر داخلہ کی اس بات سے اتفاق کرنا پڑے گا کہ انٹیلی جنس اداروں کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے، ڈھائی ہزار سے زائد انٹیلی جنس شیئر کی گئیں، اب مہینے گزر جاتے ہیں دھماکا نہیں ہوتا، موثر اقدامات کے باعث دہشتگرد بھاگ رہے ہیں تاہم دہشتگردوں سے جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے حوالے سے بیانات دیتے ہوئے احتیاط برتی جائے کہ کارروائیوں میں ملوث عناصر ایسے بیانات کے بعد فعال دکھائی دیتے ہیں اور ملک میں کہیں نہ کہیں کوئی واردات یا سانحہ پیش آ جاتا ہے۔ بلاشبہ کراچی آپریشن پر سیاسی جماعتوں کے تحفظات اور جانب دارانہ کارروائیوں کے الزامات لگتے رہے لیکن اس کی افادیت سے انکار بہرحال ممکن نہیں، لیکن شہر میں رینجرز کے اختیارات کی محدودیت کے بعد شہری حلقوں اور تاجر برادری میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی ہے۔
سابقہ فوجیوں کی تنظیم پیسا نے بھی اس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اختیارات کم کر کے رینجرز کو کراچی میں چوکیدار بنا دیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ نے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ انسانی وسائل کی کمی ہے، اگر کسی سیکریٹری کی پوسٹ خالی ہوتی ہے تو کوئی قابل افسر ہی نہیں ملتا، اس تناظر میں وجوہات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے، قحط الرجال کی اس صورتحال کا سب سے بڑا سبب لائق اور اہل لوگوں کو وزارتوں سے محروم رکھنا اور سفارشی و نااہل لوگوں کو نوازنا ہے۔ اداروں کے زوال اور انحطاط کے پیچھے بھی یہی لوگ کارفرما ہیں، تب ہی چوہدری نثار نے اپنی لاچارگی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وزارت داخلہ میں ریکارڈ ہی نہیں رکھے جا رہے تھے، جب ویزوں کا ریکارڈ مانگا جاتا تو جواب ملتا نہیں ہے، ممنوعہ بور کے لائسنس کی تفصیل پر کہتے ہیں کہ جل گیا ہے۔ یہ صورتحال صرف ایک جگہ نہیں بلکہ تمام گورنمنٹ ادارے اس زبوں حالی اور انتظامی سقم کا شکار ہیں۔ راست ہو گا کہ ہر وزارت اپنی کارکردگی رپورٹ ایوان میں پیش کرے اور وزارت کی خامیوں کی نشاندہی پر انھیں دور کرنے کی سعی کی جائے۔