نئی تجارتی پالیسی کی منظوری

حکومت کی طرف سے ملکی ترقی کے لیے تین سالہ تجارتی پالیسی کا اعلان خوش آئند ہے


Editorial December 19, 2015
نئی تجارتی پالیسی کے مسودہ میں سرجیکل آلات، فوڈ، فشریز اور دیگر برآمدی شعبوں کے لیے ٹیکس اور ڈیوٹی سے استثنیٰ دینے کے لیے20 ارب ڈالر کی خصوصی مراعات کا اعلان کیا گیا ہے۔ فوٹو : فائل

PESHAWAR: اخباری اطلاع کے مطابق وزیر اعظم نے 3 سالہ نئی تجارتی پالیسی 2015-18 کے مسودہ کی منظوری دیدی جس کا باقاعدہ اعلان وفاقی وزیر تجارت کے بیرون ملک دورہ سے واپسی پر ہو گا، تجارتی پالیسی کے مسودہ کے مطابق نئی تجارتی پالیسی میں برآمدات کا ہدف35 ارب ڈالر رکھا گیا ہے، اس وقت ملکی برآمدات 24 ارب ڈالر سالانہ ہیں، رواں مالی سال میں 28 ارب ڈالر، اگلے مالی سال میں 32 ارب ڈالر اور مالی سال 2017-18ء میں برآمدات کا ہدف35 ارب ڈالر تک لے جایا جائے گا، نئی تجارتی پالیسی کے مسودہ میں سرجیکل آلات، فوڈ، فشریز اور دیگر برآمدی شعبوں کے لیے ٹیکس اور ڈیوٹی سے استثنیٰ دینے کے لیے20 ارب ڈالر کی خصوصی مراعات کا اعلان کیا گیا ہے۔ برآمدکنندگان کی سپورٹ کے لیے امدادی پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے جس کے مطابق رواں مالی سال کے دوران 6 ارب ڈالر بجٹ میں مختص کیے گئے ہیں جب کہ اگلے مالی سال کے لیے7 ارب ڈالر جب کہ مالی سال2017-18 میں بھی 7 ارب ڈالر مختص کیے جائیں گے۔ نئی تجارتی پالیسی میں ویلیو ایڈیشن پر زور دیا گیا ہے، زرعی پیداوار کی برآمدات کے منصوبے بھی شروع کیے جائیں گے۔

حکومت کی طرف سے ملکی ترقی کے لیے تین سالہ تجارتی پالیسی کا اعلان خوش آئند ہے لیکن یہ پالیسی اسی وقت کامیاب ہو گی جب صنعتی اور زرعی ترقی میں مناسب رفتار سے پیشرفت ہو گی۔ جب کہ صورت حال یہ ہے کہ ملک کو اس وقت توانائی کے شدید بحران کا سامنا ہے' ریسرچ اور ڈویلپمنٹ کے شعبے بھی عالمی معیار کے مطابق نہیں ہیں' صنعتوں میں نصب مشینری بھی پرانی ہو چکی ہے نئی اور جدید مشینری کے حصول کے لیے بھی ایک لمبے عرصے اور کثیر سرمائے کی ضرورت ہے اگر صنعتوں کو ان کی ضرورت کے مطابق سستے داموں بجلی اور گیس فراہم کر دی جاتی ہے تو ممکن ہے کہ حکومت نے جو 35 ارب ڈالر کا ہدف مقرر کیا ہے وہ پورا ہو جائے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی اب تک کی کارکردگی کا بھی جائزہ لینا ضروری ہے وہ کہتے ہیں کہ مالی سال 2014-15ء میں بیشتر اہم معاشی اہداف حاصل نہ ہو سکے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں جی ڈی پی کی شرح نمو 2014-15ء کے لیے مقررہ 5.1 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں 4.2 فیصد رہی، زراعت کا شعبہ بھی مقررہ ہدف حاصل نہ کر سکا جو کہ 3.3 فیصد کے بجائے 2.9 فیصد حاصل ہوا۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے 2018ء تک بجلی کی قلت پر قابو پانے کا اعلان کر رکھا ہے جب تک توانائی کا بحران ختم نہیں ہوتا معاشی اہداف کا حاصل ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

مقبول خبریں