بھارت میں دومختلف واقعات میں شیروں کے حملے میں بچہ اورخاتون ہلاک
شیروں کے حملے کے دونوں واقعات ریاست گجرات میں پیش آئے۔
شیروں کے حملے کے دونوں واقعات ریاست گجرات میں پیش آئے۔ فوٹو:فائل
BAHAWALPUR:
بھارت میں دو مختلف واقعات میں شیروں نے حملہ کرکے ایک خاتون اور ایک 7 سالہ بچے کو ہلاک کردیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست گجرات کے ضلع گرسومناتھ اور جوناگڑھ میں دو مختلف واقعات میں شیروں کے حملے میں سات سالہ بچہ اور خاتون اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ جنگلی حیات کے ایک سینیئر افسرنے ان واقعات کو انوکھا اور پوری ریاست میں اپنی نوعیت کا واحد واقعہ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ سال 2010 میں ریاست میں شیروں کی تعداد 411 تھی جو 2015 میں بڑھ کر523 تک جاپہنچی ہے۔
شیرکا شکار بننے والا پہلا واقعہ ضلع گرسومناتھ کے تعلقہ ملیا ہٹینا کے ایک گاؤں بابروردی میں اس وقت پیش آیا جب 7 سالہ روہت رفع حاجت کے لئے اپنے گھرسے باہراور کھیتوں میں گیا ہی تھا کہ شیر نے اسے دبوچ لیا۔ واقعے کے بعد لڑکے کے باپ رومل نے شورمچانا شروع کردیا لیکن مدد تک بہت دیرہوچکی تھی اوربچہ بری طرح زخمی ہوکر دم توڑ چکا تھا۔عینی شاہدین کے مطابق شیر بچے کو دبوچ کرجھاڑیوں میں لے گیا اور اس کے جسم کا کچھ حصہ کھا چکا تھا جس کے بعد جنگلی حیات کے افسروں نے کوششوں کے بعد شام کو اس آدم خورشیرکو قابوکرلیا۔
دوسرا واقعہ جونا گڑھ کے ایک گاؤں سمت پارا میں پیش آیا جہاں ہنسابن دھمیچا نامی ایک خاتون پرشیر نے اس وقت حملہ کیا جب وہ شیروں کے قومی پارک کے قریب لکڑیاں چن رہی تھی۔ شیرنے خاتون پرحملہ کرکے اسے بری طرح زخمی کردیا جسے فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسی۔
بھارت میں جنگلی حیات کے ماہرین کے مطابق شیروں کو جب تک غصہ نہ دلایا جائے وہ انسانوں پرحملہ نہیں کرتے اس لیے یہ دونوں واقعات بہت انوکھے اور حیرتناک ہیں۔
بھارت میں دو مختلف واقعات میں شیروں نے حملہ کرکے ایک خاتون اور ایک 7 سالہ بچے کو ہلاک کردیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست گجرات کے ضلع گرسومناتھ اور جوناگڑھ میں دو مختلف واقعات میں شیروں کے حملے میں سات سالہ بچہ اور خاتون اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ جنگلی حیات کے ایک سینیئر افسرنے ان واقعات کو انوکھا اور پوری ریاست میں اپنی نوعیت کا واحد واقعہ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ سال 2010 میں ریاست میں شیروں کی تعداد 411 تھی جو 2015 میں بڑھ کر523 تک جاپہنچی ہے۔
شیرکا شکار بننے والا پہلا واقعہ ضلع گرسومناتھ کے تعلقہ ملیا ہٹینا کے ایک گاؤں بابروردی میں اس وقت پیش آیا جب 7 سالہ روہت رفع حاجت کے لئے اپنے گھرسے باہراور کھیتوں میں گیا ہی تھا کہ شیر نے اسے دبوچ لیا۔ واقعے کے بعد لڑکے کے باپ رومل نے شورمچانا شروع کردیا لیکن مدد تک بہت دیرہوچکی تھی اوربچہ بری طرح زخمی ہوکر دم توڑ چکا تھا۔عینی شاہدین کے مطابق شیر بچے کو دبوچ کرجھاڑیوں میں لے گیا اور اس کے جسم کا کچھ حصہ کھا چکا تھا جس کے بعد جنگلی حیات کے افسروں نے کوششوں کے بعد شام کو اس آدم خورشیرکو قابوکرلیا۔
دوسرا واقعہ جونا گڑھ کے ایک گاؤں سمت پارا میں پیش آیا جہاں ہنسابن دھمیچا نامی ایک خاتون پرشیر نے اس وقت حملہ کیا جب وہ شیروں کے قومی پارک کے قریب لکڑیاں چن رہی تھی۔ شیرنے خاتون پرحملہ کرکے اسے بری طرح زخمی کردیا جسے فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسی۔
بھارت میں جنگلی حیات کے ماہرین کے مطابق شیروں کو جب تک غصہ نہ دلایا جائے وہ انسانوں پرحملہ نہیں کرتے اس لیے یہ دونوں واقعات بہت انوکھے اور حیرتناک ہیں۔