نمونیا سے بچائو کی نئی ویکسین حفاظتی پروگرام میں شامل

آغا خان یونیورسٹی میں آگاہی کے لیے پروگراموں کا سلسلہ شروع کیاجارہا ہے

آغا خان یونیورسٹی میں آگاہی کے لیے پروگراموں کا سلسلہ شروع کیاجارہا ہے. فوٹو فائل

سندھ میں کے بچوں کونمونیا اورگردن توڑ بخار سے بچانے کے لیے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام میں 10نومبر سے نئی ویکسین شامل کرلی جائیگی۔


نمونیا سے بچاؤکی اس ویکسین کو پہلی بار ای پی آئی پروگرام میں شامل کیاگیا ہے، آغا خان یونیورسٹی کے ڈپارٹمنٹ آف پیڈیاٹرکس اینڈ چائلڈ ہیلتھ کی جانب سے نمونیا اوراس ویکسین کے بارے میں آگاہی کے لیے پروگراموں کا ایک سلسلہ شروع کیاجارہا ہے، ماہرین نے بتایا کہ دنیا بھر میں بچوں میں اموات کی اہم وجہ نمونیا بھی ہے۔

پاکستا ن میں سالانہ 350,000 سے زائد 5 سال سے کم عمر بچے ہلاک ہو جاتے ہیں اور ان میں ہر 5 میں سے ایک بچہ نمونیاکی وجہ سے ہلاک ہوتا ہے، اے کے یو کے ڈپارٹمنٹ آف پیڈیاٹرکس کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر اسد علی نے بتایا کہ پاکستا ن میں نمونیاکی وجہ سے ہلاک ہونے والے تقریباً دو تہائی بچے مناسب اور بروقت دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث گھروں پر ہی ہلاک ہو جاتے ہیں اے کے یو کے سینئر انسٹرکٹر ریسرچ آصف رضاخواجہ نے بتایا کہ نمونیا اور گردن توڑ بخار کی وجہ سے بچوںکی ایک بڑی تعداد ہلاک یا طویل المدت معذوری کا شکار ہو جاتی ہے تاہم اب نمونیا کے اس نئے نیوموکوکل کونجوگیٹ ویکسین (پی سی وی)کی مد د سے اس تعدادکوکم کیا جاسکتاہے۔
Load Next Story