2015 بالی ووڈ کے حکمران خانز پر بھاری رہا

شاہ رخ خان اور عامر خان کو بھارت میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور مذہبی انتہا پسندی پر بولنا مہنگا پڑا۔

شاہ رخ خان اور عامر خان کو بھارت میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور مذہبی انتہا پسندی پر بولنا مہنگا پڑا فوٹو؛ فائل

QUETTA:
بالی ووڈ کے کنگ شاہ رخ خان اور مسٹر پرفیکشنسٹ عامر خان کو بھارت میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور مذہبی انتہا پسندی پر بولنا مہنگا پڑگیا جس کے باعث عامر خان کو عارضی طور پر ملک چھوڑنا پڑا۔

سال 2015 بالی ووڈ انڈسٹری کے لیے نہایت ہی بہترین سال ثابت ہوا جس میں معروف اداکاروں کی 150 سے زائد فلمیں ریلیز کی گئیں جس میں سے متعدد فلموں نے باکس آفس پر کمائی کے کئی ریکارڈ اپنے نام کیے تاہم بالی ووڈ کے حکمران خانز شاہ رخ خان اور عامر خان کے لیے یہ سال کچھ زیادہ اچھا ثابت نہیں رہا۔

بالی ووڈ کے کنگ تصور کیے جانے والے اداکار شاہ رخ خان اور مسٹر پرفیکشنسٹ عامر خان نے بھارت میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی پر آئینہ کیا دکھایا تو حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور شیوسینا نے ان کا جینا حرام کردیا۔

اپنی 50 ویں سالگرہ کے موقع پر شاہ رخ خان نے انٹرویو میں کہا کہ بھارت میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے کسی کے کھانے پینے اور عادات کو کیسے ایشو بنایا جا سکتا ہے جب کہ انتہا پسندی اور عدم برداشت پر احتجاجاً اپنے قومی اعزازات علامتی طور پر واپس کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔


کنگ خان کے بیان کے بعد بی جے پی اور شیوسینا کے غنڈوں نے انہیں آڑے ہاتھوں میں لیا اور ان کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع کردیئے یہی نہیں انتہاپسندوں نے روایتی دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں پاکستانی ایجنٹ قرار دیا بلکہ شاہ رخ خان سے بھارت چھوڑنے اور عوام سے ان کی فلمیں نہ دیکھنے کا مطالبہ کیا جس کے نتیجے میں انہیں اپنا بیان واپس لینا پڑا تاہم اس بیان کے بعد انہیں انڈسٹری میں سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا جب کہ شاہ رخ خان کی فل م''دل والے'' کی ریلیز کے بعد انتہاپسندوں نے سنیما گھروں پر حملے کیے جس کے نتیجے میں فلم کا بزنس شدید متاثر ہوا اور فلم باکس آفس پرزیادہ اچھی کمائی نہ کرسکی۔

ہندو انتہا پسند شاہ رخ خان کے بیان پر ٹھنڈے ہی ہوئے تھے کہ مسٹر پرفیکشنسٹ عامر خان نے بھی عدم برداشت اور بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی پر لب کشائی کرکے ایک بار پھر ہندو انتہا پسندوں کو آگ بگولہ کردیا جب کہ اپنے بیان میں عامر خان کا کہنا تھا کہ ملک میں رونما ہونے والے کئی واقعات نے انہیں اور بالخصوص ان کی اہلیہ کو ملک چھوڑنے کے حوالے سے غور کرنے پر مجبور کردیا ہے تاہم وہ خود بھی ملک میں بڑھتے ہوئے عدم تحفظ کے احساس کو شدت سے محسوس کررہے ہیں۔

عامر خان کے بیان کے بعد شیوسینا اور بی جے پی نے مسٹر پرفیکشنسٹ کے خلاف روایتی دشمنی کا محاذ قائم کرلیا اوران کے خلاف بیان بازی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا یہی نہیں بھارت بھر میں عامر خان کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور ان کے گھر پر حملہ بھی کیا گیا جب کہ انتہا پسندوں کی جانب سے انہیں دھمکیاں بھی دی گئیں جس کے باعث انہیں عارضی طور پر بھارت چھوڑ کر اپنی جان چھڑانی پڑی۔

Load Next Story