بلدیاتی ملازمین وعدے کے باوجود عید بعد بھی تنخواہ سے محروم

ٹی ایم اے سٹی افسر نے حکومت سندھ کی گرانٹ سے ٹھیکیداروں کو بھاری ادائیگی کر دی.

حیدرآباد:شہری انتظامیہ کے دعوئوں کے برعکس ٹی ایم اے سٹی کی عمارت کے سامنے عید کے چوتھے روز بھی آلائشوں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں ۔ فوٹو : شاہد علی / ایکسپریس

ٹی ایم اے سٹی حیدرآباد کی انتظامیہ نے ملازمین کی تنخواہوں کیلیے حیدرآباد میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے ایڈمنسٹریٹر کی کوششوں سے حکومت سندھ سے حاصل کردہ گرانٹ سے ستمبر کی تنخواہ دینے کا پروگرام ملتوی کر دیا۔

جبکہ مخصوص اور معمولی کام کے بھاری بل بنانے والے ٹھیکیداروں کو45 لاکھ روپے سے زائد کی ادائیگی کر دی گئی، برکات رضوی عید سے پہلے ڈھائی کروڑ روپے کی خصوصی رقم تنخواہ بانٹنے کیلیے لائے تھے لیکن ٹائون سٹی کے فنانس آفیسر کی لیت و لعل کے باعث ملازمین کو عید سے پہلے تنخواہ جاری نہیں ہو سکی، عید بعد منگل کو پہلے دن تنخواہ کے بجائے فنانس آفیسر نے ایڈمنسٹریٹر سے بینکس کو لیٹر لکھوا کر45 لاکھ روپے کی رقم ٹھیکیداروں کو جاری کرا دی، جسکے بعد اب ملازمین کو ستمبر کی تنخواہ ادا نہیں کی جا سکے گی۔ رابطہ کرنے پر ایڈمنسٹریٹر و چیف آفیسر ٹی ایم اے سٹی عابد محبوب قریشی کا کہنا تھا کہ ٹھیکیداروں کو جو ادائیگی کرائی وہ درست ہے، لیکن وہ اس سوال کا جواب نہیں دے سکے کہ تنخواہ کیلیے آئی رقم سے ہی ٹھیکیداروں کو پے منٹ کیوں کرائی جا رہی ہے اور یہ کہ سندھ ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود اگست سے اب تک پنشن ادا کیوں نہیں کی جا رہی۔


البتہ ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک ٹائون سٹی کے پرانے ملازمین کو ستمبر کی تنخواہ دینے کا فی الحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا لیکن کیونکہ ہندو ملازمین کا مذہبی تہوار آ رہا ہے تو انتظامیہ کی کوشش ہے کہ ہندو ملازمین کو ستمبر کی تنخواہیں ادا کر دی جائیں جب ان کی توجہ، ایڈمنسٹریٹر حیدرآباد کے وعدے کی جانب مبذول کرائی گئی جو انھوں نے بلدیاتی ملازمین سے کیا تھا کہ عید کے بعد منگل یا بدھ کو ستمبر کی تنخواہ جاری کر دی جائے گی تو عابد محبوب قریشی کا کہنا تھا کہ یہ وعدہ برکات رضوی نے کیا تھا اس سے متعلق ان سے ہی معلوم کیا جائے۔

ہمارے پاس فی الحال اتنے پیسے نہیں۔ دوسری جانب عید کے چوتھے روز بھی شہر کے بڑے حصے سے کچرے کے ڈھیر نہیں اٹھائے جا سکے جبکہ ٹائون سٹی کی عمارت سے محض 22 قدم کے فاصلے پر واقع عید گاہ چاڑی پر عید کے پہلے روز سے آلائشیں پڑی سڑ رہی ہیں، جن سے متعلق گزشتہ روز ایکسپریس کی نشاندہی پر میٹرو پولیٹن ایڈمنسٹریٹر نے ٹائون ایڈمنسٹریٹر کے پی ایس مکرم خان کو ہدایت کی تھی کہ فوری طور پر کچرے کے مذکورہ ڈھیر اور آلائشیں اٹھائی جائیں تاہم اس کے باوجود ان کے احکامات پر عملدرآمد نہیں کیا گیا جس پر علاقے کے لوگوں نے منگل کو احتجاج بھی کیا۔
Load Next Story