گیند اورکورٹ کا کھیل

قبل ازیں بھارتی سرکار نے 7 جنوری کی شام کو ممکنہ مذاکرات کے ملتوی کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

2 جنوری کو پٹھان کوٹ پر حملے کے بعد ہندوستان کے حکمران طبقے کی طرف سے جو محتاط اور حوصلہ مندانہ ردعمل آ رہا تھا اس کے پیش نظر یہ امید ہو چلی تھی کہ جنوری کے دوسرے ہفتے میں ہونے والے مذاکرات میں تعطل پیدا نہیں ہو گا چنانچہ اسی پر امیدی کی وجہ ہم نے اس سنگین مسئلہ پر لکھے گئے اپنے کالم میں جو 8 جنوری کے ایکسپریس میں شایع ہوا، مذاکرات کے ملتوی ہونے کے امکانات کو نظرانداز کرتے ہوئے، بھارتی حکمرانوں کی سراہنا کی تھی کہ بھارتی حکمرانوں کے مثبت رویے کی وجہ جنوری میں مذاکرات ہوں گے، تاہم تازہ اطلاع کے مطابق پاک بھارت مذاکرات باہمی رضامندی سے موخر ہو گئے، نئی تاریخیں طے کرنے کے لیے رابطے جاری ہیں۔

قبل ازیں بھارتی سرکار نے 7 جنوری کی شام کو ممکنہ مذاکرات کے ملتوی کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا اور ہم منہ دیکھتے رہ گئے تھے۔ بھارتی سرکار نے کہا ہے کہ ''ہم نے پٹھان کوٹ حملے کے حوالے سے حکومت پاکستان کو ثبوت دے دیے ہیں۔ ان ثبوتوں کے پیش نظر اگر حکومت پاکستان کوئی کارروائی کرے تو ملتوی شدہ مذاکرات کی بحالی ہو گی ورنہ اللہ اللہ خیر صلہ۔'' واضح رہے کہ مذاکرات پاکستان کا واحد آپشن اور مجبوری ہے بھارت کی نہیں۔

بھارتی حکومت نے اس حوالے سے اپنے موقف کو وزن دار بنانے کے لیے یہ بھی کہا ہے کہ پٹھان کوٹ اور افغانستان میں بھارتی قونصل خانے پر حملوں کے تانے بانے ملتے ہیں۔ نواز شریف نے پٹھان کوٹ حملے کے حوالے سے فوری ایکشن کی یقین دہانی کرائی ہے جس پر عملدرآمد ہونا چاہیے۔ اب گیند پاکستان کے کورٹ میں ہے۔

بھارتی حکومت کے اس اقدام کی وجہ سے جنوری میں ہونے والے ممکنہ مذاکرات کی بھینس تو پانی میں گئی لیکن اصل سوال یہ ہے کہ جو ثبوت بھارتی حکومت نے پٹھان کوٹ حملے کے حوالے سے پاکستان کو دیے ہیں۔ کیا ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ حملہ حکومت پاکستان نے کرایا تھا؟ اگر ایسا نہیں ہے اور یقینا ایسا نہیں ہو گا اور یہ کارروائی ان ہی طاقتوں کی ہے جو پاکستان میں بھی فعال ہیں تو پھر اس کا الزام یا ذمے داری حکومت پاکستان پر کیسے آ سکتی ہے پاکستان تو خود دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار ہے اور ضرب عضب کے ذریعے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائیاں کر رہا ہے، اس کے باوجود آئے دن پاکستان کو پٹھان کوٹ سے زیادہ بڑی دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ہندوستانی حکومت کی بداعتقادی کا عالم یہ ہے کہ اس نے پٹھان کوٹ حملے کے حوالے سے جو بیان جاری کیا ہے۔ اس میں پاکستان کو ملزم ٹھہرانے کی کوشش میں پٹھان کوٹ حملے کو افغانستان میں بھارتی قونصل خانے پر حملے سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ پچھلے دنوں لاہور میں مودی اور نواز شریف ملاقات سے اعتماد کی بحالی کا جو تاثر پیدا ہوا تھا وہ بھارتی حکومت کے تازہ موقف سے شیئر ہو گیا ہے اس سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ بھارتی حکومت ہمیشہ کی طرح مذاکرات کو ٹالنے کے لیے کسی نہ کسی بہانے کو استعمال کر رہی ہے۔

پاکستان پر پٹھان کوٹ حملے میں ملوث ہونے کا الزام اس لیے لغو ہے کہ پاکستان کی حکومت، عوام اور میڈیا نے مذاکرات کی بحالی کی پوری طرح حمایت کی ہے اور اس حوالے سے پاکستان کا رویہ ہمیشہ مثبت رہا ہے۔ اس پس منظر میں یہ فلسفہ کس طرح منطقی ہو سکتا ہے کہ پاکستان نے تازہ ممکنہ مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے لیے پٹھان کوٹ ایئر بیس پر حملہ کرایا ہو گا؟


اسے ہم اس خطے کے عوام کی بدقسمتی ہی کہہ سکتے ہیں کہ برصغیر کی 68 سالہ تاریخ میں بھارتی حکمرانوں نے کشمیر کے حوالے سے زمین کو ہی اپنی اولین ترجیح بنا لیا ہے، اس نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت نہیں کی کہ زمین تو ایک بے جان ٹکڑا ہوتی ہے، خواہ اسے دھرتی ماں کہہ کر سینے سے لگا لیا جائے یا سر پر سوار کر لیا جائے۔ انسان تو ایک زندہ ہستی ہے کیا ایک بے جان عنصر پر قبضے کی خاطر اربوں انسانوں کی زندگی اور ان کے مستقبل کو داؤ پر لگانا انسانیت کے زمرے میں آ سکتا ہے؟ 68 برسوں کے دوران اس بے جان ٹکڑے پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے بھارت نے 70 ہزار کشمیریوں کے خون کو اپنی مانگ کا سیندور بنا لیا اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

ہم اس حقیقت سے بھی پوری طرح واقف ہیں کہ کشمیر ہندوستان کے قبضے میں رہے آزاد رہے یا پاکستان کا حصہ بنے کشمیریوں کو ہر صورت میں پیٹ بھرنے کے لیے محنت ہی کرنی پڑے گی۔ ہاں یہ ضرور ممکن ہے کہ اگر کشمیر کا مسئلہ ''کسی طرح'' حل ہو جاتا ہے تو دونوں پسماندہ ترین ملکوں کے درمیان اسلحے کی دوڑ ختم ہو سکتی ہے اور اس پر خرچ ہونے والے اربوں روپے عوام کی زندگی بہتر بنانے پر صرف کیے جا سکتے ہیں۔

کشمیر کی زمین کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو بھارت کی حکومت نے کس قدر مقدس بنا لیا ہے۔ اس کا اندازہ مجھے بھارت کے ممتاز لکھاری کلدیپ نیئر کے کالموں سے ہوتا ہے۔ کلدیپ جی کا شمار بھارت کے ممتاز دانشوروں میں ہوتا ہے لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو بھارت کے دانشور، بھارت کے مفکر، بھارت کے اہل قلم، صرف بھارت کے ''قومی مفاد'' کے پس منظر ہی میں دیکھتے ہیں۔ اس خطے کے اربوں غریب عوام کے بہتر مستقبل کے پس منظر میں دیکھنے کی زحمت نہیں کرتے۔

پاکستان کے حکمران طبقات اور بھارت کے حکمران طبقات کے مفادات یکساں ہیں لیکن کشمیر کے حوالے سے بھارت کا رویہ کھلی ہٹ دھرمی پر مبنی ہے جب کہ پاکستان کے حکمران طبقے کا رویہ کشمیر کے حوالے سے ہمیشہ لچکدار رہا ہے پاکستان پر ہمیشہ یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ کشمیر کے مسئلے پر پاکستانی فوج بہت سخت موقف رکھتی ہے، لیکن اس الزام کا بودا پن اس وقت سامنے آتا ہے جب پاکستان کا ایک فوجی سربراہ پرویز مشرف کشمیر کے حوالے سے ایسی تجاویز پیش کرتا ہے جو پاکستان کے سیاسی رہنما 68 سالوں میں پیش نہ کر سکے اور بدقسمتی سے بھارت کی تنگ نظر بیورو کریسی مشرف کی تجاویز کو بھی سبوتاژ کر دیتی ہے جن کے بارے میں بھارت کے دانشور بھی یہ کہتے ہیں کہ کشمیر کے حوالے سے اس سے بہتر کوئی تجاویز نہیں ہو سکتیں۔

ہم نے کلدیپ جی کا حوالہ دیا تھا اپنے ایک کالم میں کلدیپ جی نے انکشاف کیا ہے کہ تاشقند میں جو معاہدہ ہوا تھا۔ اس کی رو سے لال بہادر شاستری نے دو کشمیری چوکیاں پاکستان کے حوالے کر دی تھیں، شاستری کے اس ایثار پر شاستری کے بیوی بچے شاستری سے سخت ناراض تھے اسی صدمے سے شاستری کی جان گئی۔

یہ ہے بھارت کی نفسیات اور بھارتی دانشوروں کا موقف۔ بھارتی حکمرانوں نے پٹھان کوٹ پر حملے کو بہانا بنا کر ممکنہ مذاکرات کو جس طرح ٹال دیا ہے اگر اس پر نظرثانی کر کے مذاکرات بحال نہیں کیے جاتے تو مذاکرات کا جھنجھنا بھی بھارتی حکمرانوں کے ہاتھوں سے نکل جائے گا اور دھرتی ماں ایک ارب سے زیادہ بچوں کی بھوک کو تھپکیاں دیتے ہوئے خالی ہانڈی میں پانی اور پتھر پکاتی رہ جائے گی، اگر کشمیر کا مسئلہ حل کرنا ہو تو بھارتی حکمرانوں کو بندے دا بننا ہو گا۔
Load Next Story