پاکستان وعدہ خلاف بھارت کو اینٹ کا جواب پتھر سے دے گا

دسمبر میں ملتوی ہونے والی سیریز نہ کھیلی تو آئندہ سال ہم میزبانی سے محروم رکھیں گے، چیئرمین پی سی بی ایگزیکٹیوکمیٹی

دونوں ملکوں کے کرکٹ بورڈز کو اگر حکومتیں اجازت دے دیں تو10یا 15دن کی سیریز کیلیے وقت نکالنا مشکل نہیں ہوگا فوٹو:اےایف پی/فائل

پاکستان وعدہ خلاف بھارت کو اینٹ کا جواب پتھر سے دے گا، پی سی بی ایگزیکٹیو کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ بلو شرٹس نے دسمبر میں ملتوی ہونے والی سیریز نہ کھیلی تو آئندہ سال اسے میزبانی سے محروم رکھیں گے، ہمیں بلانے سے قبل یواے ای، سری لنکا یا اتفاق رائے سے طے پانے والے کسی بھی وینیو پر کھیلنا ہوگا.

تفصیلات کے مطابق ایم او یو کے تحت پاکستان اور بھارت کے مابین آئندہ 8سال میں 6سیریز کھیلی جانی ہیں، ان میں سے پہلی کی میزبانی بی سی بی کوگذشتہ سال دسمبر میں کرنا تھی، مسلسل ٹال مٹول کی پالیسی پر کاربند بی سی سی آئی مقابلوںکو حکومتی اجازت سے مشروط قرار دیتے ہوئے انتظار کرنے کو کہتا رہا، بعد ازاں یواے ای میں میچز کھیلنے سے انکار کردیا، دبئی میں بورڈ سربراہان کی ملاقات میں سری لنکا میں سیریز کی تجویز سامنے آئی، پاکستان نے گرین سگنل دیدیا۔ میچز کی تعداد میں کمی پر بھی رضامندی ظاہر کی لیکن بھارت کی جانب سے ہاں یا ناں میں کوئی جواب نہیں آیا.

بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے میں کوئی اچھی خبر نہیں ملی، بی سی سی آئی کے سیکریٹری انوراگ ٹھاکر نئے سال میں بھی سیریز کے امکانات کو مسترد کرچکے ہیں۔ فیوچر ٹور پروگرام کے تحت پاکستان ٹیم کو بھی 2017میں بھارت کا دورہ کرنا ہے.


پی سی بی ایگزیکٹیو کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی نے بھارتی خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو میں اشارہ دیاکہ بی سی سی آئی نے معاہدے کا پاس نہ رکھا تو گرین شرٹس بھی پڑوسی ملک نہیں جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ بلو شرٹس کو پاکستان کی میزبانی میں4سیریز کھیلنا ہیں، ان میں سے پہلی کا انعقاد گذشتہ سال دسمبر میں کرنا چاہتے تھے جو ممکن نہ ہوسکا، اب انھیں پہلے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے ہمارے ساتھ یواے ای، سری لنکا یا دونوں ملکوں میں اتفاق رائے سے طے پانے والے کسی بھی وینیو پر کھیلنا ہوگا،اس کے بعد ہی ہم سرحد پار جائیں گے۔

یاد رہے کہ بھارت نے گذشتہ سال دسمبر میں شیڈول سیریز کے اپنے ملک میں انعقادکیلیے پیشکش کی تھی، مگر پی سی بی نے آمدنی میں حصے کی ضمانت نہ ہونے پر اسے مسترد کردیا،اس حوالے سے نجم سیٹھی نے کہا کہ بی سی سی آئی نے 2009میں کھیلنے سے انکار کیا۔ جب گرین شرٹس2012میں بھارت میں سیریز کیلیے گئے تو انھوں نے آمدنی میں حصہ نہیں دیا، موجودہ ایم او یو پر میں نے بطور چیئرمین دستخط کیے تھے، اس کے تحت پاکستان کو 4سیریز کی میزبانی کرنا ہے، بھارتی بورڈ نے دسمبر میں شیڈول مقابلوں کا معاملہ اگلی دستیاب تاریخوں تک لٹکا دیا لیکن ایک بات طے ہے کہ ہمیں بھارت بلانے سے قبل انھیں ہماری میزبانی میں کھیلنا ہوگا، ہوم سیریز کی آمدنی جس بورڈ کا حق ہے اس کو ہی ملنا چاہیے۔

نجم سیٹھی نے بی سی سی آئی کے سیکریٹری انوراگ ٹھاکر کی جانب سے رواں سال مقابلے ممکن نہ ہونے کے بیان پر کہا کہ اگر ہمت کریں تو راستے خود بخود بن جایا کرتے ہیں، میرے خیال میں نہ کھیلنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی، اگر دونوں ملکوں کے بورڈز کو حکومتیں اجازت دیدیں تو 10یا 15دن کی سیریز کیلیے وقت نکالنا مشکل نہیں ہوگا،مل بیٹھ کر موزوں تاریخیں طے کی جا سکتی ہیں۔
Load Next Story