سول اسپتال لڑکی کی ہلاکت کا مقدمہ ڈاکٹروں کیخلاف درج کرنے پر احتجاج

جزوی طور پر او پی ڈی کا بائیکاٹ،انتظامی امور بھی مفلوج،سیکڑوں مریضوںکوحصول علاج کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا

جزوی طور پر او پی ڈی کا بائیکاٹ،انتظامی امور بھی مفلوج،سیکڑوں مریضوںکوحصول علاج کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا فوٹو: فائل

سول اسپتال کے ایم ایس اوردیگر ڈاکٹروں کے وارنٹ گرفتاری کے خلاف جمعرات کو سول اسپتال سمیت دیگر اسپتالوں کے ڈاکٹروں اور نیم طبی عملے نے احتجاج کیا اورجزوی طور پر اوپی ڈی کا بائیکاٹ کیا۔

جبکہ سول اسپتال میں انتظامی امور بھی مفلوج ہوگئے، تفصیلات کے مطابق جمعرات کی صبح سول اسپتال میں ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرامیڈیکل عملے نے سول اسپتال کے انتظامی سربراہ اور ڈاؤیونیورسٹی کے ایم ایس سول اسپتال پروفیسرڈاکٹرسعید قریشی، ڈاکٹر رابعہ اور ڈاکٹر ثنا مراد سمیت دیگرڈاکٹروں کے خلاف مبینہ غفلت کے باعث 16سالہ لڑکی کی ہلاکت کا مقدمہ درج کیے جانے پرشعبہ حادثات کے سامنے احتجاج کیا گیا،اسپتال میں احتجاج کے دوران ڈاکٹر تنظیموںکی جانب سے او پی ڈی کا جزوی بائیکاٹ کیا گیا۔

تاہم ڈاکٹروں نے او پی ڈی آنے والے مریضوںکا علاج کرنے سے انکارکردیا جس کے سبب اسپتال آنیوالے سیکڑوں مریضوںکو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ، ڈاکٹروں، طبی اور نیم طبی عملے نے سول اسپتال سے ڈائو یونیورسٹی تک ریلی بھی نکالی اور ڈاؤیونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں احتجاجی اجلاس منعقدکیا گیا، اس موقع پر ڈائو یونیورسٹی ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر مسعود حمید خان سمیت دیگر ڈاکٹروں نے بھوک ہڑتال کا اعلان کیا ،وزیرقانون ایازسومرو نے جوس پلاکربھوک ہڑتال ختم کرائی۔


دریں اثناڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی احمد صبا نے غفلت و لاپروائی کے الزام میں سول اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سعید قریشی کی30ہزار روپے کی عبوری ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرلی،استغاثہ کے مطابق تھانہ عیدگاہ میں مدعی عرفان زرین نے رپورٹ درج کرائی تھی کہ اس کی 15سالہ بیٹی مسماۃ نیہا کو بیماری کے باعث سول اسپتال کے میڈیکل واڑ 5 میں داخل کرایا تھا جہاں وہ زیرعلاج تھی لیکن ڈاکٹروںکی غفلت ولاپروائی کے باعث 11اپریل کو وہ فوت ہوگئی تھی۔

مدعی نے ایف آئی آر میں سول اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈ نٹ سعید قریشی ،ڈاکٹر رابعہ،ڈاکٹر ثنا آغا اور ڈاکٹر ثنا مراد کو نامزد کیا تھا ، جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ندیم بدر قاضی نے پولیس کی رپورٹ کو مسترد کردیا تھا اور سات روز میںگواہوںکے ضابطہ فوجداری کی ایکٹ 161کے تحت قلمبند کیے گئے بیانات طلب کر لیے تھے،بعدازاں پولیس نے 8 گواہوں کے بیانات عدالت میں جمع کرائے اور مقدمے کا چالان کردیا تھا، فاضل عدالت نے ملزمان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

وارنٹ جاری ہونے پر ڈاکٹر رابعہ اور ڈاکٹر ثنا آغا نے ضمانت منظورکرالی تھی لیکن سول اسپتال کے ایم ایس کی عدم گرفتاری پر دوباری وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے تھے اوریکم نومبرکو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا ،بعدازاں ایم ایس جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کے روبرو پیش ہوئے اور عدالت کو آگاہ کیا کہ انھوں نے سیشن جج کی عدالت سے عبوری ضمانت منظور کرالی۔

اس مقدمے کی سماعت کے موقع پر مدعی کے وکیل درمحمد ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ ڈاکٹر ثنا اور ڈاکٹر ثنا مرادکو تاحال گرفتار نہیں کیا گیا اور ان کی گرفتاری کی استدعا کی تھی، فاضل عدالت نے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے تفتیشی افسرکوانھیں گرفتارکرکے 22نومبر کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا جبکہ ملزمہ ڈاکٹر رابعہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انکی موکلہ بیرون ملک میں ہیں، وہ دسمبر کو وطن واپس آئیں گی اور انکی غیرحاضری معاف کرنے کی استدعا کی تھی۔
Load Next Story