ضابطہ فوجداری میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش
قانون نافذ کرنے والے اداروں کوبغیروارنٹ کسی کوگرفتار کرنے کی اجازت نہیں ہو گی، بل میں تجویز
حکومت کی جانب سے بل کی مخالفت نہ ہونے پر اسپیکر نے اسے قائمہ کمیٹی داخلہ کے سپرد کردیا۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
متحدہ قومی موومنٹ نے ضابطہ فوجداری میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش کردیا ہے۔
اسپیکر سردار ایاز سادق کی سربراہی میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایم کیو ایم کے رکن ضابطہ فوجداری میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش کر دیا۔ بل کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں کوبغیروارنٹ کسی کوگرفتار کرنے کی اجازت نہیں ہو گی، اس کے علاوہ بل قانون نافذ کرنے والےاداروں کو اس بات کا بھی پابند بنائے گا کہ وہ چھاپوں کے وقت اپنا تعارف کرائیں، حکومت کی جانب سے بل کی مخالفت نہ ہونے پر اسپیکر نے اسے قائمہ کمیٹی داخلہ کے سپرد کردیا۔
دوسری جانب جے یو آئی (ف) نے بچوں کی ملازمت کے حوالے سے قانون میں ترمیم کا مجوزہ بل بھی پیش کیا جس میں بچوں کی ملزامت کی کم سے کم عمر 14 سالک سے بڑھا کر 16 برس کردی ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ نے ضابطہ فوجداری میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش کردیا ہے۔
اسپیکر سردار ایاز سادق کی سربراہی میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایم کیو ایم کے رکن ضابطہ فوجداری میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش کر دیا۔ بل کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں کوبغیروارنٹ کسی کوگرفتار کرنے کی اجازت نہیں ہو گی، اس کے علاوہ بل قانون نافذ کرنے والےاداروں کو اس بات کا بھی پابند بنائے گا کہ وہ چھاپوں کے وقت اپنا تعارف کرائیں، حکومت کی جانب سے بل کی مخالفت نہ ہونے پر اسپیکر نے اسے قائمہ کمیٹی داخلہ کے سپرد کردیا۔
دوسری جانب جے یو آئی (ف) نے بچوں کی ملازمت کے حوالے سے قانون میں ترمیم کا مجوزہ بل بھی پیش کیا جس میں بچوں کی ملزامت کی کم سے کم عمر 14 سالک سے بڑھا کر 16 برس کردی ہے۔