کام مکمل کرنے پر ازخود تلف ہوجانے والے روبوٹس کی جانب اہم پیش رفت

خطرناک علاقوں میں اور ماحولیاتی صفائی کرنے والے روبوٹ اپنے مشن مکمل کرکے ازخود خود ختم ہوجائیں گے۔

خطرناک علاقوں میں اور ماحولیاتی صفائی کرنے والے روبوٹ اپنے مشن مکمل کرکے ازخود خود ختم ہوجائیں گے۔ فوٹو؛ فائل

KARACHI:
اطالوی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سائنسدانوں نے خاص مٹیریلز کے ذریعے ایسے روبوٹ بنانے پر کام شروع کردیا ہے جو استعمال کے بعد ازخود ختم ہوجائیں گے۔

روبوٹس روزمرہ زندگی میں پلاسٹک اور دیگر دھاتوں سے بنائے جاتے ہیں اور ہماری زندگی میں روزبروز ان کا کردار بڑھتا جارہی ہے لیکن حیاتیاتی طور پر گُھل کر ختم ہونے والے ان روبوٹس کے کوڑا کرکٹ کو ختم کرنے میں مدد ملے گی کیونکہ پرانی گاڑیوں اور سواریوں کی طرح مستقبل میں بھی روبوٹس کے قبرستان بنے ہوں گے اور اس سے بچنے کے لیے ہی خود ختم ہونے والے روبوٹ پر کام ہورہا ہے۔


اٹلی کے سائنسدانوں نے بچ جانے والی خوراک سے ''بایوپلاسٹک'' تیار کیا ہے جس سے پورا روبوٹ بنایا جاسکتا ہے جو اپنی مدت ختم کرکے خود بکھر کر ضائع ہوجائے گا، یہ پلاسٹک مضبوط بھی ہے اور لچکدار بھی اور اس کے اندر الیکٹرانک سرکٹ بنانے کے علاوہ روبوٹ کی ''جلد'' بھی بنائی جاسکتی ہے جس پر سینسر لگائے جاسکیں گے۔

انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین کے مطابق اس طرح بہت ہلکے، مؤثر اور ری سائیکل (بازیافت) ہونے والے روبوٹ تیار کرنا ممکن ہوگا کیونکہ یہ میٹریل بہت ہلکا پھلکا ہے۔ ماہرین نے اس ایجاد پر کہا ہے کہ خطرناک علاقوں میں اور ماحولیاتی صفائی کرنے والے روبوٹ اپنے مشن مکمل کرکے ازخود خود ختم ہوجائیں گے جس سے بہت سہولت ہوسکے گی تاہم اٹلی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی ان کا کام ابتدائی مراحل میں ہے اور اسے مکمل ہونے میں کئی سال لگیں گے۔
Load Next Story