چارسدہ حملہ افغان حکومت تعاون کرے
پاکستان اورافغانستان کےدرمیان معاہدہ ہے دونوں ممالک اپنی سرزمین ایک دوسرےکےخلاف کسی دہشت گردکواستعمال نہیں کرنےدیں گے
دہشت گردوں کا کوئی وطن و مذہب نہیں ہوتا، یہ اپنے مذموم مقاصد کے حصول اور فرسودہ افکار کے زیراثر کسی بھی ریاست پر حملہ آور ہوسکتے ہیں۔ فوٹو:فائل
چارسدہ میں یونیورسٹی پر دہشت گرد حملے کے لیے افغان سرزمین کے استعمال پر پاکستان نے افغانستان سے پرزور احتجاج کیا ہے۔ حملے کی تحقیقات اور تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ اس دہشت گرد حملے کے ہینڈلرز افغانستان سے کام کررہے تھے اور انھوں نے منصوبہ بندی اور اس پر عملدرآمد کے لیے افغانستان کے ٹیلی مواصلاتی نظام کا استعمال کیا۔
یہ بات میڈیا میں بھی رپورٹ کی جاچکی ہے کہ مارے جانے والے دہشت گرد کے موبائل پر بعد از ہلاکت بھی فون کالز آرہی تھیں۔ اس حوالے سے تمام معلومات افغان حکام کو فراہم کردی گئی ہیں۔ منگل کو افغان ناظم الامور سید عبدالناصر یوسفی کو وزارت خارجہ طلب کرکے ان سے باچاخان یونیورسٹی پر حملے میں بعض دہشت گرد عناصر کی جانب سے افغان سرزمین استعمال کیے جانے پر احتجاج کیا گیا۔ اس سے پیشتر وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف بھی افغانستان سے سرحد پار حملے کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرچکے ہیں۔ آرمی چیف نے افغان صدر کے ساتھ رابطہ اور نچلی سطح پر بھی معلومات شیئر کی تھیں۔
افغانستان کے ایک مخصوص علاقے سے حملہ کنٹرول کیا گیا۔ واضح رہے پاکستان اور افغانستان کے درمیان معاہدہ ہے کہ دونوں ممالک اپنی سرزمین کو ایک دوسرے کے خلاف کسی دہشت گرد کو استعمال نہیں کرنے دیں گے۔ افغانستان میں ایک منتخب حکومت، مسلح افواج اور انٹیلی جنس ادارے ہیں، اگر چارسدہ حملے میں دہشت گردوں کے افغان روابط سامنے آئے ہیں تو یہ افغان حکومت کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ اس سلسلے میں جلد از جلد کارروائی کرے۔
اس قدر واضح رپورٹس کے باوجود بھی افغان حکومت باچاخان یونیورسٹی پر حملے میں افغان سرزمین استعمال ہونے کا امکان مسترد کرنے پر مصر ہے۔ قبل ازیں دہشت گردوں کی افغان راستوں سے آمد اور فرار کی رپورٹس بھی منظر عام پر آتی رہی ہیں۔ خطے میں امن اور استحکام پاکستان و افغانستان دونوں کے لیے اہم ہے، پاکستان اس سے پہلے بھی مطلوبہ ملزمان کی حوالگی کے سلسلے میں افغان حکومت سے مطالبہ کرتا رہا ہے جس کا مثبت جواب نہیں دیا گیا، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ افغان حکومت روایتی لاتعلقی کا چلن ترک کرتے ہوئے اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرے اور دہشت گردوں کو کٹہرے میں لانے کے لیے پاکستانی حکام سے تعاون کیا جائے۔
دہشت گردوں کا کوئی وطن و مذہب نہیں ہوتا، یہ اپنے مذموم مقاصد کے حصول اور فرسودہ افکار کے زیراثر کسی بھی ریاست پر حملہ آور ہوسکتے ہیں، افغانستان میں بھی امن و امان کی صورتحال غیر تسلی بخش ہے، پاکستان میں پسپائی اختیار کرتے دہشت گرد خود افغانستان کے لیے مہلک ثابت ہوسکتے ہیں، اس لیے دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ افغان حکومت دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون کرے۔
یہ بات میڈیا میں بھی رپورٹ کی جاچکی ہے کہ مارے جانے والے دہشت گرد کے موبائل پر بعد از ہلاکت بھی فون کالز آرہی تھیں۔ اس حوالے سے تمام معلومات افغان حکام کو فراہم کردی گئی ہیں۔ منگل کو افغان ناظم الامور سید عبدالناصر یوسفی کو وزارت خارجہ طلب کرکے ان سے باچاخان یونیورسٹی پر حملے میں بعض دہشت گرد عناصر کی جانب سے افغان سرزمین استعمال کیے جانے پر احتجاج کیا گیا۔ اس سے پیشتر وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف بھی افغانستان سے سرحد پار حملے کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرچکے ہیں۔ آرمی چیف نے افغان صدر کے ساتھ رابطہ اور نچلی سطح پر بھی معلومات شیئر کی تھیں۔
افغانستان کے ایک مخصوص علاقے سے حملہ کنٹرول کیا گیا۔ واضح رہے پاکستان اور افغانستان کے درمیان معاہدہ ہے کہ دونوں ممالک اپنی سرزمین کو ایک دوسرے کے خلاف کسی دہشت گرد کو استعمال نہیں کرنے دیں گے۔ افغانستان میں ایک منتخب حکومت، مسلح افواج اور انٹیلی جنس ادارے ہیں، اگر چارسدہ حملے میں دہشت گردوں کے افغان روابط سامنے آئے ہیں تو یہ افغان حکومت کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ اس سلسلے میں جلد از جلد کارروائی کرے۔
اس قدر واضح رپورٹس کے باوجود بھی افغان حکومت باچاخان یونیورسٹی پر حملے میں افغان سرزمین استعمال ہونے کا امکان مسترد کرنے پر مصر ہے۔ قبل ازیں دہشت گردوں کی افغان راستوں سے آمد اور فرار کی رپورٹس بھی منظر عام پر آتی رہی ہیں۔ خطے میں امن اور استحکام پاکستان و افغانستان دونوں کے لیے اہم ہے، پاکستان اس سے پہلے بھی مطلوبہ ملزمان کی حوالگی کے سلسلے میں افغان حکومت سے مطالبہ کرتا رہا ہے جس کا مثبت جواب نہیں دیا گیا، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ افغان حکومت روایتی لاتعلقی کا چلن ترک کرتے ہوئے اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرے اور دہشت گردوں کو کٹہرے میں لانے کے لیے پاکستانی حکام سے تعاون کیا جائے۔
دہشت گردوں کا کوئی وطن و مذہب نہیں ہوتا، یہ اپنے مذموم مقاصد کے حصول اور فرسودہ افکار کے زیراثر کسی بھی ریاست پر حملہ آور ہوسکتے ہیں، افغانستان میں بھی امن و امان کی صورتحال غیر تسلی بخش ہے، پاکستان میں پسپائی اختیار کرتے دہشت گرد خود افغانستان کے لیے مہلک ثابت ہوسکتے ہیں، اس لیے دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ افغان حکومت دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون کرے۔