نئے پاکستان سے لکڑیوں کی کٹائی تک

ضیا الحق کے دور سے ہماری سیاست میں صنعتکاروں کا جو نیا عنصر داخل ہوا ہے


Zaheer Akhter Bedari January 28, 2016
[email protected]

قیام پاکستان کے بعد ہم نے جس طرز حکومت کو اپنایا وہ بنیادی طور پر اشرافیائی طرز حکومت تھا، اس طرز حکومت میں جاگیردار طبقہ ریڑھ کی ہڈی بنا ہوا تھا اور المیہ یہ ہے کہ آج تک جاگیردار طبقہ ہماری طرز حکومت میں ریڑھ کی ہڈی بنا ہوا ہے۔ بیورو کریسی 68 سال پہلے بھی طاقتور تھی، آج بھی طاقتور ہے، اسٹیبلشمنٹ اس وقت بھی سیاست کا حصہ تھی، آج بھی سیاست کا حصہ ہے، اپوزیشن اس وقت بھی موقع پرست تھی، آج بھی موقع پرست ہے، کرپشن اس وقت بھی حکمرانوں کی ہابی تھی، آج بھی 100 فیصد اضافے کے ساتھ حکمرانوں کا زیور بنی ہوئی ہے۔

ضیا الحق کے دور سے ہماری سیاست میں صنعتکاروں کا جو نیا عنصر داخل ہوا ہے اس کی وجہ سے ہماری اشرافیائی سیاست اور مستحکم ہوگئی ہے۔ 2008ء سے 2013 ء تک اپوزیشن نے جس فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کیا اس سے عوام تو مزید رُل گئے لیکن خواص کی امارت متحدہ عرب امارات کی طرح مستحکم ہوگئی۔ اس صورتحال کو ہم سیاسی زبان میں اسٹیٹس کو کہتے ہیں۔ اس Status Quo کی وجہ سے ہماری سیاست میں جو خلا پیدا ہوگیا ہے، اس کے خلاف 2014 میں طاہرالقادری اور عمران خان نے جو آواز اٹھائی تھی وہ کراچی سے کشمیر تک آواز بازگشت اس لیے بن گئی تھی کہ اس ملک کے 20 کروڑ عوام اس ظالمانہ، بددیانت، عوام دشمن Status Quo کو توڑنا چاہتے تھے، لیکن بدقسمتی یہ رہی کہ جن لوگوں نے Status Quo کے خلاف آواز اٹھائی وہ منطقی طور پر اسی اسٹیٹس کو کا حصہ تھے۔

اس حقیقت کی وجہ سے چند قدم چلنے کے بعد ہی یہ حضرات دھڑام سے زمین پر آگئے۔ ویسے تو اس حادثے کی کئی وجوہات ہیں لیکن سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ یہ قائدین 'اسٹیٹس کو' کو توڑنے کے لیے عوام کو ساتھ ملانے کے بجائے امپائر کی انگلی کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھتے رہے، چونکہ امپائر کی اپنی مجبوریاں فرائض و ذمے داریاں ہوتی ہیں، لہٰذا ہمارے انقلابی قائدین ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ گئے۔

اس طرز سیاست کا ایک منفی نتیجہ یہ نکلا کہ عوام اس قیادت سے بدظن بھی ہوگئے اور ان میں مایوسی بھی پیدا ہوگئی۔ یہ اگرچہ ایک مہم جوئی تھی لیکن چونکہ اس مہم جوئی میں طبقاتی تضادات کو آگے لایا گیا، لہٰذا 20 کروڑ عوام میں ایک ہلچل پیدا ہوگئی جو وقت کے ساتھ سکوت میں بدل گئی۔ حیرت کا مقام یہ ہے کہ عمران خان نئے پاکستان سے اب لکڑی کی بے جا کٹائی کا رونا رو رہے ہیں۔

طاہرالقادری چونکہ دل کے بیمار ہیں لہٰذا ان کا بغرض علاج دور دیس جانا حیرت کی بات نہیں، نہ ناغے کی سیاست کرنا کوئی حیرت کی بات ہے، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ہماری نوعمر سیاست کے کپتان عمران خان باوجود اگر مگر کی سیاست میں جٹے ہوئے ہیں اور کسی نہ کسی ایشو یا نان ایشو پر حرکت میں رہتے ہیں۔ عمران خان میں عوام نے اس لیے کشش محسوس کی کہ وہ اس ملک و قوم کی سب سے بڑی بیماری اسٹیٹس کو کا علاج کرنے کے دعوے کے ساتھ عوام میں آئے۔

عوام کو اس 68 سالہ بیماری نے زمین سے لگادیا ہے، وہ کسی طرح اس 68 سالہ سنگین بیماری سے نجات چاہتے ہیں، جس طرح مایوس مریض ڈاکٹروں سے مایوس ہونے کے بعد ملاؤں، باباؤں کے درباروں میں پہنچ جاتے ہیں، ہمارے عوام بھی طاہرالقادری اور عمران خان کے دربار میں اس لیے حاضر ہونے لگے کہ شاید یہ حکما انھیں 68 سالہ اسٹیٹس کو کی جان لیوا بیماری سے نجات دلادیں، لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شد والا معاملہ ہوگیا۔

یہاں ہم اپنے ایک قریبی دوست پروفیسر ڈاکٹر ظہیر خان کے غیر منطقی علاج کا حوالہ دینا برمحل سمجھتے ہیں کہ اس کا تعلق ہمارے سیاسی حکما طاہرالقادری اور عمران خان سے بنتا نظر آتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر ظہیر خان کراچی کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال سول اسپتال کے شعبہ نفسیات کے سربراہ تھے، چونکہ ڈاکٹر صاحب مریضوں کی قلت کی وجہ سے عموماً فارغ رہتے تھے لہٰذا ہم ان کے پاس گھنٹوں گپ شپ میں مصروف رہتے، ڈاکٹر صاحب ایک مستند ڈاکٹر بلکہ پروفیسر تھے۔

لہٰذا ان کی طرف سے کسی مریض کو غلط مشورہ دینے کی غلطی کا امکان نہ تھا لیکن جب ہم نے انھیں بعض مریضوں کو اپنے علاج کے لیے ایک معروف بزرگوں کے مزار پر جانے کا مشورہ دیتے سنا تو ہم حیران رہ گئے کہ ایلوپیتھک طریقہ علاج کا ایک پروفیسر ایسا غیر منطقی مشورہ مریضوں کو کیوں دے رہا ہے؟

سو ہم نے اس حوالے سے پروفیسر سے سوال کیا تو پروفیسر نے اداسی سے ہماری طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ کراچی کے سب سے بڑے اسپتال میں نہ مریضوں کے لیے ضرورت کے مطابق بستر ہیں، نہ ڈاکٹر، نہ ادویات، میرے پاس نفسیاتی مریض آتے ہیں اور نفسیاتی مریضوں کا سب سے بڑا مسئلہ یا علاج ان کی ذہنی تسکین ہوتا ہے اور چونکہ سجاول میں جو مزار ہے اس پر پورے سندھ سے ضرورت مند آتے ہیں اور ذہنی تسکین حاصل کرتے ہیں سو میں اپنے وارڈ کی بے سروسامانی کے پیش نظر ان مایوس مریضوں کو سجاول میں بابا کے مزار پر جانے کے علاوہ کیا مشورہ دے سکتا ہوں؟

ہمارے ملک کے عوام میں مایوسی کا جو عنصر پایا جاتا ہے، اس مایوسی میں بے چارے عوام ڈاکٹروں کے قحط کی وجہ سے ملاؤں، باباؤں سے رجوع کرنے پر مجبور ہیں۔ طاہر القادری اور عمران خان ہماری سیاست کے وہ ملّا، بابا بن گئے ہیں جن سے رجوع کرنا عوام کی مجبوری ہے۔ سو 2014 میں عوام ان حکما سیاست کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھنے لگے لیکن وہی ہوا جو ہونا تھا۔

عمران خان نیا پاکستان بنانے کے دعویدار ہیں، لیکن اسے ہم عمران خان کی مجبوری کہیں یا ذہنی الجھن کہ وہ نیا پاکستان بنانے کے لیے پرانے پاکستان کے ایسے سرفروشوں سے اتحاد کرتے ہیں جو نئے پاکستان کو کفر کی علامت اور دین میں مداخلت سمجھتے ہیں اور طرفہ تماشا یہ کہ کپتان بنانا تو چاہتے ہیں نیا پاکستان اور اپنے دائیں بائیں بٹھا رکھے ہیں جاگیرداروں اور پیروں کو نئے پاکستان کی پہلی ضرورت جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ ہے۔ کیا عمران خان کے دائیں بازو زرعی اصلاحات کو قبول کرلیں گے؟

پاکستان میں 68 سال سے ایک سیاسی خلا موجود ہے جو صرف اور صرف Status Quo کو توڑ کر ہی پُر کیا جاسکتا ہے اور اسٹیٹس کو کیا ہے، اس کی نشاندہی ہم نے کالم کے آغاز میں تفصیل سے کردی ہے۔ اگر عمران خان نو بال گگلی وغیرہ سے بچتے ہوئے Status Quo کی وکٹ اڑانے پر اپنی ساری توجہ اور صلاحیت مرکوز کردیں اور انقلاب سے پختونخوا میں کاٹی جانے والی لکڑیوں کی طرف آکر وقت ضایع نہ کریں تو ان کے لیے اب بھی چانس ہے عوام ان کی طرف دوبارہ آ سکتے ہیں، جب وہ ایسے اتحادیوں کو ساتھ میں جو اسٹیٹس کو کے خلاف جنگ کے لیے تیار ہیں اور نظریاتی حوالے سے آئیں بائیں شائیں سے باہر نکلیں۔

مقبول خبریں