دوپہر کے ٹھیک تین بجے تھے۔ شہر کی مرکزی شاہراہ پر تارکول پگھل کر کسی سیاہ لاوے کی طرح بہنے کو تیار تھا اور فضا میں ایک ایسی ہولناک حدت تھی جیسے کسی نے تندور کا دہانہ کھول کر اس کے سامنے پوری بستی کو کھڑا کر دیا ہو۔
سڑک کے کنارے، پچاس سالہ رحمت علی اپنی لکڑی کی ریڑھی کو دونوں ہاتھوں سے جکڑے، پورے جسم کا زور لگائے آگے دھکیلنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کے چہرے کی جھریاں پسینے کی چھوٹی چھوٹی ندیوں میں تبدیل ہو چکی تھیں اور وہ پسینہ جب اس کی آنکھوں میں جاتا تو تپش اور نمک کی چوبھ سے اس کی آنکھیں سرخ ہو جاتیں۔
رحمت علی نے چند لمحوں کے لیے ایک فلائی اوور کے نیچے رکنے کا سوچا، جہاں کنکریٹ کا ایک مہیب سایہ سڑک پر گر رہا تھا، لیکن پھر اس نے جیب میں موجود چند مڑے تڑے نوٹوں کو یاد کیا۔ آج ابھی تک اتنی کمائی بھی نہیں ہوئی تھی کہ شام کو گھر کے چولہے کے لیے آٹا خریدا جا سکے۔
اس جھلسا دینے والی دھوپ، لو کے تھپیڑوں اور پگھلتی ہوئی سڑک کے درمیان کھڑے رحمت علی کے لیے ’’کفالت‘‘ یا ’’صحت‘‘ ایک ایسی عیاشی تھی جس کا وہ خواب بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اس کے لیے یہ تپتا ہوا دن کوئی موسم نہیں تھا، یہ زندگی اور موت کی ایک کڑوی جنگ تھی، جہاں بقا کا واحد راستہ اس آگ کے دریا میں مسلسل چلتے رہنا تھا۔
دوستو!یہ کہانی صرف رحمت علی ہی کی نہیں ہے، بلکہ یہ برصغیر کے کروڑوں غیر رسمی مزدوروں، دہاڑی داروں، رکشہ بانوں اور سڑکوں پر رزق تلاش کرنے والے مظلوموں کا نوحہ ہے جن کے لیے حالیہ برسوں کی گرمی ایک ابدی عذاب بن چکی ہے۔ پشاور کے تپتے ہوئے بازاروں سے لے کر لاہور، کراچی اور جیکب آباد کی جھلسا دینے والی گلیوں تک، عام انسان اب موسموں کی تبدیلی کا تماشائی نہیں رہا، بلکہ وہ اس عالمی ماحولیاتی دوزخ کا پہلا اور سب سے سستا ایندھن بن چکا ہے۔وہ سائے میں بیٹھے تو بھوک اس کے بچوں کو نگل جائے اور اگر وہ سڑک پر نکلے تو یہ قاتل گرمی اسے موت کی نیند سلا دے۔
بی بی سی نیوز کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، دنیا بھر میں درجہ حرارت کے ریکارڈ اب صرف ٹوٹ نہیں رہے، بلکہ بے رحمی سے پاش پاش ہو رہے ہیں۔ ماہرین ماحولیات اس بات پر حیران اور شدید پریشان ہیں کہ حالیہ سالوں میں گرمی کے پچھلے تمام ریکارڈ اتنے بڑے مارجن سے ٹوٹے ہیں کہ ماضی کی پوری انسانی تاریخ میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔
فوسل فیول یعنی کوئلے، تیل اور گیس کے بے دریغ اور بے لگام استعمال نے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر زہریلی گیسوں کا ایسا غلاف تان دیا ہے جس نے زمین کو ایک بند شیشے کے گھر (گرین ہاؤس) میں تبدیل کر دیا ہے۔ عالمی درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کی سطح سے 1.5 ڈگری سیلسیئس کی اس خطرناک حد کو مسلسل پار کر رہا ہے، جسے سائنس دانوں نے انسانی بقا کے لیے آخری حد قرار دیا تھا۔ اس پر مستزاد یہ کہ ’’ ایل نینو‘‘ جیسے قدرتی عوامل نے کاربن کے اخراج کے ساتھ مل کر دنیا بھر کے موسموں کو دیوانہ بنا دیا ہے۔ سب سے ہولناک صورت حال ہمارے سمندروں کی ہے، جو زمین پر پیدا ہونے والی اضافی حرارت کا 90 فیصد اپنے اندر جذب کر رہے ہیں اور اب خود ابل رہے ہیں۔
اس عالمی تباہی کا سب سے بدترین نشانہ پاکستان کا وہ عام اور غریب انسان ہے جس کا عالمی کاربن کے اخراج میں حصہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے۔ جب مئی اور جون کے مہینوں میں پارہ 48 اور 50 ڈگری سیلسیئس کو چھونے لگتا ہے، تو پاکستان کے دیہات اور شہر ایک زندہ قبرستان کا منظر پیش کرنے لگتے ہیں۔ایک طرف آسمان سے آگ برستی ہے، تو دوسری طرف گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ غریب کے خون کو پانی بنا دیتی ہے۔ پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی اس عذاب کو دوچند کر دیتی ہے اور جب یہ مزدور ہیٹ اسٹروک کا شکار ہو کر اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں، تو وہاں بھی نہ تو ادویات ملتی ہیں اور نہ ہی پنکھے چل رہے ہوتے ہیں۔ یہ وہ المیہ ہے جہاں غریب کے پاس کوئی متبادل نہیں بچتا؛ وہ قدرت اور نظام دونوں کی بے رحمی کا یکساں شکار ہوتا ہے۔
لیکن اس پوری کہانی کا سب سے دردناک، غمناک اور جذباتی پہلو ہمارے وہ جدید شہر ہیں جنھیں ہم نے اپنی آسائش کے لیے تعمیر کیا تھا، مگر انھوں نے ہمارے لیے گرمیوں کو ایک ناقابلِ برداشت عذاب بنا دیا ہے۔ یہ شہر اب انسانوں کی بستیاں نہیں رہے، بلکہ کنکریٹ کے مہیب اور بے رحم جنگل بن چکے ہیں۔ ہم نے ہریالی کو نگل لیا، صدیوں پرانے درختوں کو کاٹ کر وہاں سیمنٹ اور بجری کے بلند و بالا شاہکار کھڑے کر دیے، اور زمین کی نرم مٹی کو تارکول کی سیاہ سڑکوں کے نیچے دفن کر دیا۔ان کنکریٹ کے جنگلوں کی یہ ہولناک خاصیت ہے کہ یہ دن بھر سورج کی تپش کو اپنے اندر جذب کرتے ہیں، بالکل کسی لوہے کے توے کی طرح جو آگ پر پڑے پڑے سرخ ہو جاتا ہے۔
پھر اس دوزخ میں مزید آگ وہ طبقہ لگاتا ہے جو اس تباہی کا اصل ذمے دار ہے۔ شہروں کی سڑکوں پر دوڑتی لاکھوں گاڑیاں فوسل فیول کا بے تحاشا احتراق کرتی ہیں اور فضا میں کاربن کا زہر اگلتی ہیں۔ ان گاڑیوں اور بلند و بالا عمارتوں میں نصب ایئر کنڈیشنرز امراء کے کمروں کو تو برف کی طرح ٹھنڈا کر دیتے ہیں، لیکن وہ اپنے اندر کی ساری تپش اور زہریلی حرارت باہر ان سڑکوں پر اگل دیتے ہیں جہاں غریب چل رہے ہوتے ہیں۔ کاربن امیشن اور اس زہریلی حرارت کی وجہ سے شہروں کے اوپر گرمی کا ایک ایسا حصار بن جاتا ہے کہ ہوا کا گزر رک جاتا ہے اور حرارت فضا میں پھنس کر رہ جاتی ہے۔ لوگ اس جدید اور چمکتے ہوئے جہنم میں زندہ جل مرتے ہیں اور کسی کو احساس تک نہیں ہوتا کہ یہ بلند و بالا مالز اور چمکتی ہوئی سڑکیں دراصل غریبوں کی چتائیں ہیں۔
اگر ہم نے اب بھی ٹیکنالوجی کی اس مصنوعی اور قاتل دنیا سے دوری اختیار نہ کی اور فطرت کی آغوش میں واپس نہ لوٹے، تو یاد رکھیے کہ یہ درجہ حرارت اگلی بار صرف ریکارڈ نہیں توڑے گا، بلکہ یہ کنکریٹ کے جنگل ہمارے وجود کو ہمیشہ کے لیے راکھ کا ڈھیر بنا دیں گے۔
آج جب ہم رحمت علی جیسے لاکھوں انسانوں کو سڑکوں پر پگھلتے اور دم توڑتے دیکھتے ہیں، تو روح کانپ اٹھتی ہے اور دل گہرائیوں سے یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔کیا ہم واقعی ایک ترقی یافتہ اور مہذب مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں یا ہم نے اپنی ہی آسائشوں کے ملبے سے غریبوں کے لیے ایک جدید، مہنگا اور ہائی ٹیک قبرستان تیار کر لیا ہے؟