متوسط طبقے کا اعتماد

وکلا تحریک نے ملکی سیاست پر گہرے نتائج چھوڑے،اب خود وکلا کا مایوس ہونا آزادعدلیہ اور جمہوری نظام کے لیے برا شگون ہے۔

tauceeph@gmail.com

KARACHI:
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات میں انسانی حقوق کی کارکن عاصمہ جہانگیر کے نامزد کردہ صدر میاں اسرار اور ان کے ساتھی کامیاب ہوگئے۔

سپریم کورٹ بار کے انتخابات میں عاصمہ جہانگیر کے حامیوں کی تیسری بڑ ی کامیابی ہے۔ عاصمہ جہانگیر اور ان کے ساتھی عدالتی پالیسی کے نفاذ پر تنقید کرتے ہیں، ان کے مخالف تحریک انصاف کے رہنما حامد خان کی قیادت میں پروفیشنل گروپ جسٹس افتخار چوہدری کی عدالتی پالیسی کی حمایت کرتا ہے، اس دفعہ میاں اسرار کی حمایت پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن، جماعت اسلامی اور مسلم لیگ ق کے حامی وکلا نے بھی کی۔ ادھر پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اپنے اجلاس میں ججوں کی تقرری کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن توڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پشاور بار کا اجلاس معروف قانون دان لطیف آفریدی کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں ایک قرارداد میں کہا گیا ہے کہ کمیشن اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہا ہے اور کمیشن کے فیصلوں سے وکلا اور ججوں کی توہین کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔

پشاور کے وکلا جسٹس عظیم خان آفریدی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں مستقل جج مقرر نہ کرنے کے فیصلے پر سراپا احتجاج ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عظیم خان آفریدی نے پختونخوا میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی حیثیت سے ایمانداری سے فرائض انجام دیے ہیں، ان کے فیصلوں سے قانونی مہارت اور شفافیت کا اظہار ہوتا ہے۔ اس موقعے پر بار کے صدر لطیف آفریدی نے کہا کہ وکلا تحریک کے مثبت نتائج برآمد نہیں ہوئے ہیں۔ مارچ 2007 میں سابق صدر پرویز مشرف نے چیف جسٹس افتخار چوہدری کو ان کے عہدے سے ہٹایا تھا اور ان کی برطرفی کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھیجا تھا تو ملک کے تمام وکلا سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر منیر ملک کی قیادت میں متحد تھے۔

سپریم کورٹ بار نے افتخار چوہدری کی بحالی کے مقدمے کے لیے بیرسٹر اعتزاز احسن اور دوسرے وکلا کو یہ فرض سونپا تھا۔ وکلا کی انجمنوں نے ایک ایکشن کمیٹی قائم کرکے افتخار چوہدری کی بحالی کے لیے مہم شروع کی تھی، اس مہم کو منظم کرنے میں بیرسٹر اعتزاز احسن، جسٹس طارق محمود، منیر ملک، لطیف آفریدی، اختر حسین، حامد خان، عاصمہ جہانگیر، علی احمد کرد وغیر ہ کا اہم کردار تھا۔ اس تحریک کے دوران سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات کے لیے بلوچستان سے علی احمد کرد، پنجاب سے بیرسٹر اعتزار احسن کو صدارتی امیدوار بنایا گیا۔

وکلا تحریک کے فیصلے کے تحت بیرسٹر اعتزاز احسن نے اپنی جماعت پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر لاہور سے انتخابات میں حصہ لینے سے انکار کیا جب کہ مسلم لیگ ن نے اعتزاز احسن کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا تھا۔ اس تحریک میں اعتزاز احسن، علی احمد کرد، منیر ملک، عاصمہ جہانگیر اور دوسرے وکلا نے پولیس تشدد اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی تھیں مگر جب 2007 میں چیف جسٹس افتخار چوہدری اپنے عہدے پر بحال ہوئے اور اعلیٰ عدالتوں کے ججوں نے نئی عدالتی پالیسی نافذ کی اور کچھ عرصے بعد عدالتی پالیسی کے نتائج سامنے آنے لگے تو عاصمہ جہانگیر نے اس پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ مخصوص وکلا کو عدالتی فیصلوں سے فائدہ ہورہا ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ وکلا مہم کے قائدین میں سے بعض وکلا منہ مانگی فیس وصول کررہے ہیں اور ان کے حق میں فیصلے ہورہے ہیں۔

عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ ایک چھوٹے صوبے کے لیے مقرر کیے گئے چیف جسٹس صرف کمپنی لاز کی وکالت کرتے رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں صرف SUO MOTU ازخود نوٹس کے مقدمات کی سماعت ہوتی ہے عام وکلا کے مقدمات کے نمبر نہیں آتے۔ یہ بھی کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے بعض فیصلوں سے متوازی ریاست کا تصور ابھرتا ہے۔


عاصمہ جہانگیر نے اپنے اختلافات کے ساتھ سپریم کورٹ ایسوسی ایشن کی صدارت کا انتخاب لڑا، یہ ایک انتہائی مشکل انتخاب تھا۔ عاصمہ جہانگیر پر قادیانی امریکی ایجنٹ ہونے کے الزامات لگائے گئے، ان کی ذاتی زندگی پر رکیک حملے کیے گئے۔ عاصمہ جہانگیر کی حمایت بائیں بازو کے وکلا کے علاوہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے وکلا نے بھی کی۔ عاصمہ جہانگیر سخت مقابلے کے بعد صدر منتخب ہوئیں۔ پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے یہ موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ ایڈہاک ججوں کو الجہاد ٹرسٹ کونسل میں غیر قانونی قرار دے چکی ہے، اس لیے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ ججوں کا بطور ایڈہاک جج تقرر غیر قانونی ہے۔ سپریم کورٹ کو اس مطالبے کو تسلیم کرنا پڑا اور جسٹس رمدے کو دوبارہ جج مقرر نہیں کیا گیا۔ عاصمہ جہانگیر نے اپنی صدارت کے دوران اعلیٰ عدلیہ کے کئی فیصلوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

انھیں اس بات پر حیرت تھی کہ اہم ترین مقدمات میں 16 جج صاحبان ایک جیسے فیصلوں پر متفق ہوئے، شاید ماضی میں اس طرح کی مثال نہیں ملتی تھی، اگرچہ عدالتی پالیسی کی حمایت کرنے والے پروفیشنل گروپ کے امیدوار مختلف ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنز کے انتخابات میں کامیاب ہوئے مگر پھر عاصمہ جہانگیر کے نامزد کردہ امیدوار یاسین آزاد سپریم کورٹ کی صدارت کے لیے منتخب ہوگئے۔ انھوں نے سینئر وکیل رشید رضوی کو شکست دی تھی۔

رشید رضوی نے طالب علمی کے دور میں اور پھر 80 کی دہائی سے وکیل کی حیثیت سے آزاد عدلیہ اور جمہوری نظام کی بحالی کے لیے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی تھیں، وہ اس ملک کے ان چند وکیلوں میں سے ہیں جو آج بھی مزدوروں کے مقدمات بغیر معاوضے کے لڑنے کی شہرت رکھتے ہیں مگر شاید عاصمہ جہانگیر اور یاسین آزاد وکلا کے مسائل کے لیے آواز اٹھا رہے تھے، یوں یاسین آزاد عاصمہ جہانگیر سے زیادہ ووٹوں سے کامیاب ہوئے تھے۔ جب پارلیمنٹ نے اٹھارویں ترمیم منظور کی تو اس میں ججوں کے تقرر کا طریقہ کار تبدیل کردیا گیا تھا، اب عدالتی کمیٹی پر پارلیمانی کمیٹی کو بالادستی حاصل ہوگئی تھی۔ یہ ترمیم میاں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان 2005 میں لندن میں ہونے والے میثاق جمہوریت میں عدلیہ سے متعلق شقوں کے مطابق تھی مگر اس شق کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔

پارلیمنٹ کو ہدایت کی گئی کہ فیصلے کے مطابق آئین میں نئی ترمیم کی جائے۔ پارلیمنٹ نے 19 ویں ترمیم متفقہ طور پر منظور کی۔ اب عدالتی کمیشن کو پارلیمانی کمیٹی پر بالادستی حاصل ہوگئی۔ پارلیمانی کمیٹی نے عدالتی کمیشن سے منظور کردہ ناموں کو مسترد کردیا مگر پھر اعلیٰ عدالتوں نے پارلیمانی کمیٹی کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ اب ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں ججوں کے تقررکے بارے میں متعلقہ عدالتوں کے چیف جسٹس صاحبان اور عدالتی کمیشن کو مکمل فیصلے کا اختیار حاصل ہوا، مگر یہ طریقہ کار اختیار کرنے کے باوجود تمام ہائی کورٹوں میں ججوں کی کمی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ متعلقہ ہائی کورٹ کی بار کونسلیں اور پاکستان بار کونسل کے اراکین بار بار مطالبہ کرتے ہیں کہ ججوں کی خالی اسامیوں پر فوری طور پر تقرریاں کی جائیں تاکہ ایک طرف بینچ پر مقدمات کا دبائو کم ہو تو دوسری طرف عام آدمی کو آزاد عدلیہ سے خاطر خواہ فائدہ ہوسکے۔

عاصمہ جہانگیر کے علاوہ انسانی حقوق کے کارکن اور سینئر صحافی اسلام آباد اور لاہور کورٹ کے ججوں کے بارے میں میڈیا کے پیغام پر پابندی کو آزادی صحافت کے خلاف قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کی شق 19 اور 1973 کے آئین کے آرٹیکل 19 اور 19A سے متصادم ہے۔ اس مجموعی صورتحال میں میاں اسرار، ان کے ساتھیوںکی ملک کی سب سے اہم بارکے انتخابات میں کامیابی اور مختلف سیاسی جماعتوں کے وکلا کی اس پینل کی حمایت سے اظہار ہوتا ہے کہ وکلا کی اکثریت 2007 میں شروع ہونے والی آزاد عدلیہ کی تحریک کے نتائج سے مایوس ہورہی ہے اور وکلا میں یہ خیال تقویت پارہا ہے کہ وکلا کی جانی قربانیاں اور ایک سال تک سڑکوں پر پولیس کا تشدد برداشت کرنے اور معاشی بدحالی کو قبول کرکے عام آدمی کے لیے شفافیت اور سستا انصاف فراہم کرنے کے لیے جو توقعات وابستہ کی گئی تھیں وہ ختم ہورہی ہیں۔ چیف جسٹس افتخار چوہدری نے گزشتہ دنوں ایک تقریر میں کہا کہ وکلا تحریک کے نتائج مکمل طور پر حاصل نہیں ہوئے۔

وکلا کی اس تحریک نے ملکی سیاست پر گہرے نتائج چھوڑے تھے، اب خود وکلا کا مایوس ہونا آزاد عدلیہ اور مستحکم جمہوری نظام کے لیے برا شگون ہے۔ تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو ان نتائج پر غور کرنا چاہیے۔ اگر اتنی عظیم تحریک کے نتائج نہ نکلے تو مستقبل میں متوسط طبقے کا جدوجہد سے اعتماد ختم ہوجائے گا۔
Load Next Story